Faraz Poetry | Urdu Poetry Sms

Faraz Poetry | Urdu Poetry Sms


Sado's sad poetry - sad poetry of faraz is an expression of your pain and suffering that every person experiences in their daily life. The best thing you can do to express your true sad feelings is to listen to, or share the sad verse. Almost every poet has described a specific phrase of sad poetry that you may feel saddened with. Sad moments occur in life and pass, and it is up to us how we live our sad situations. Some people find themselves alone to overcome their grief and some find peace in Urdu poetry.
It is the opposite that when you feel sad, you read or write sad poetry and even tell your friends sad poetry in Urdu is a great way to express your feelings to the world. The best way to express your grief is in your own language. Urdu Sad Poetry Pictures give you the right direction to pen your emotions and thoughts in simple words. Sad poetry in Urdu is a platform that tells your emotional story






اُسے ترا شا کے ہیرا بنا دیا




اُسے ترا شا کے ہیرا بنا دیا ہم نے فرازؔ
 مگر اب یہ سو چتے ہیں اُسے خریدیں کیسے



میرا اُس شہرِ عدا وت میں 




میرا اُس شہرِ عدا وت 

میں بسیرا ہے جہاں


 لو گ سجدوں میں بھی

 دُو سروں کا بُرا سو چتے ہیں



وہ مروّت سے ملا ہے 




وہ مروّت سے ملا ہے 

تو جُھکا دوں گا گردن


 میرے دُشمن کا کو ئی

 وار خا لی نہ جا ئے





دل کو تیری چا ہت پے






دل کو تیری چا ہت پے 

بھروسہ بھی بہت ہے



 اور تم سے بچھڑ جا نے

 کا ڈر بھی نہیں جا تا





ہم نیند کے زیادہ



ہم نیند کے زیادہ

 شوقین تو نہیں فرازؔ



 کچھ خواب نہ دیکھیں

 تو گُزارانہیں ہوتا۔





رات ہوتے ہی اک پنچھی



رات ہوتے ہی اک پنچھی

 روز مجھے کہتا ہے فرازؔ



 دیکھ میرا آشیانہ بھی 

خالی تیرے دل کی طرح۔



ترسادیاہے ابرگریزاں





ترسادیاہے ابرگریزاں

 نے اس قدر



 برسے جو بوندبھی 

تو سمندر لگے مجھے ۔




سجدوں میں گزاردوں




سجدوں میں گزاردوں

 اپنی ساری زندگی فرازؔ



 اِک باروہ کہہ دے مجھے

 دُعاؤں سے مانگ لو۔




خالی ہاتھوں کو کبھی 



خالی ہاتھوں کو کبھی

 غور سے دیکھاہے فرازؔ



 کِس طرح لوگ

 لکیروں سے نکل جاتے ہیں ۔




کسی بے وفاکی خاطر 



کسی بے وفاکی خاطر 

یہ جنوں فرازؔ کب تک



 جو تمہیں بھلا چکاہے

 اسے تم بھی بھول جاؤ۔






تیرے قریب آکے





تیرے قریب آکے

 بڑی الجھنوں میں ہوں



 میں دشمنوں میں ہوں

 کہ تیرے دوستوں میں ہوں ۔




بدلا پھر بھی نہیں



میں فنا ہوگیا وہ

 بدلا پھر بھی نہیں فرازؔ



 میری چاہت سے بھی 

سچی تھی نفرت اس کی۔




دیوار کیا گری




دیوار کیا گری 

میرے کچے مکان کی



 لوگوں نے میرے گھر سے

 رستے بنالیے۔



میرے شہرکے مسافر





ہوئی ہے شام تو 

آنکھوں میں بس پھر تو



 کہاں گیاہے 

میرے شہرکے مسافر تو۔



 اسے کے پاس وفاتھا کہ نہ تھا




اس کی وہ جانے اسے کے پاس وفاتھا کہ نہ تھا
 تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے۔



اَب کیوں روشنی



اَب کیوں روشنی سے

 ڈرتے ہوفرازؔ



 تم توکہتے تھے

 مجھے چاند چاہیئے۔




نشے سے محبت ہوگئی





کچھ محبت کانشہ

 پہلے ہم کو تھافرازؔ



 دل جو ٹوٹاتو

 نشے سے محبت ہوگئی۔

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post