Afat ki pasbaan ep no 1 | Urdu Novels

Afat ki pasbaan Ep no 1 | Urdu Novels


عفت کی پاسباں

از قلم رائحہ مریم

قسط نمبر 1


”اپنے آنسو پونچھ لو زمل ۔“ رحماء نے زمل کو اپنے بازؤں کے گھیرے میں لیتے ہوے کہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہچکیوں سے رونا شروع ہو گئی ۔” میں کیسے پونچھ لوں ان کو ۔ مجھے صبر نہیں آتا .............میں بھی جیتی جاگتی انسان ہوں ۔ مجھ میں بھی احساسات ہیں...........مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے رحماء..........رحماء الله نے خودکشی حرام کیوں کی ہے ۔“رحماء جو کہ اتنی دیر سے اسے آنسو بہاتا دیکھ رہی تھی اس بات پر تڑپ گئی کیونکہ آج سے پہلے زمل نے ایسا نہیں کہا تھا ۔” زمل ! خبر دار جو آئندہ ایسی بات بھی کہی تو ۔“ رحماء نے اسے جھنجھورتے ہوئے کہا کہ شاید وہ ہوش میں نہیں ، لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ زمل تو اب ہوش میں آئی تھی ۔ اس کو جو لگتا تھا کہ اس کے بابا صرف اس کی ماما پر بے جا روک تھام کرتے ہیں وہ ہاتھ اٹھانے تک پہنچ چکی ہے ۔” کیوں نا کہوں میں ایسا ؟ ہاں کیوں نا کہوں ؟ وہ میری امی کو مارتے ہیں رحماء وہ میری امی کو.......“ اب کی بار وہ اتنا اونچا بولی کہ چند لڑکیاں مڑمڑ کر ان دونوں کو دیکھنے لگ گئیں ۔” رحماء امی کو بہت اچھا جھوٹ بولنا آتا ہے ۔ ایک مہینہ پہلے میں نے ان کے ماتھے پر چوٹ دیکھی تو پوچھنے پر بولیں کہ الماری لگی ہے ......... اور میں رحماء ..... میں نے یقین کر لیا ۔ا ب کل رات میری آنکھ کھلی تو پانی لینے نیچے آرہی تھی کہ ابو کو سیڑھیوں میں امی پر ہاتھ اٹھاتا دیکھا میں نے ۔ رحماء وہ ہماری زندگی سے چلے کیوں نہیں جاتے..........“ زمل نے روتے ہوے اسے گزرے دن کی روداد سنائی ۔رحماء چند لمحے چپ رہی لیکن پھر ہمت کر کے بولی ” زمل وہ تمہارے والد ہیں اور جیسے بھی ہیں.....ان کا احترام تم پر فرض ہے...........“ زمل نے رحماء کی بات کاٹی اور چلائ ، ” اور ان کے کیا فائض ہیں ؟ انہوں نے کبھی کیوں نہیں سوچا ، وہ کیوں ہمارے احساسات کی قدر نہیں کرتے؟ کیا ان کا فرض ہمیں پیدا کر کے مر گیا ہے ؟“اور یہ وہ سوال تھے جن کے جواب رحماء کے پاس بھی نہیں تھے .اور آج بھی ہر دفع زمل کے گھر کے حالات پر ہونے والی گفتگو کا نتیجہ خاموشی ہی رہا ۔*************گھر آکر زمل اپنی ماما سے کچھ نہ کہہ پائی اور دونوں نے بڑی مہارت سے ایک دوسرے کا پردہ رکھ لیا ۔آج زمل کو اپنے ماما اور بابا کے ساتھ رفیق صاحب کے کسی دوست کے بیٹے کی شادی میں جانا تھا ۔ اور ان کی تیاریوں سے لگ رہا تھا کہ ان کی دوستی کافی گہری ہے۔” تحریم بی بی جلدی کرو .........زمل کہاں رہ گئی ......اچھا اس کو بول دو کہ دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھ لینا.........آج کل کی لڑکیوں میں تو جیسے شرم و حیا ہی ختم ہو گئی ہے.......... دوپٹہ لینا تو جیسے بھلا ہی دیا ہے سب نے.......... میری پشاوری چپل مت نکالنا......... یہ ہمایوں ابھی تک رکشہ لے کر کیوں نہیں آیا...........“اور زمل کی سننے کی قابلیت جواب دے گئی تو اس نے دروازے کو ٹھوکر لگا کر بند کیا جس سے رفیق صاحب کی آواز خاصی کم ہو گئی ۔ پھر اس نے شیشے میں اپنا سراپا دیکھا جیسے دیکھ رہی ہو کہ کچھ رہ تو نہیں گیا ۔کالے رنگ کا گھٹنوں تک آتا فراک تھا جس پر سنہری تلے کا کام اس کو نہایت خوبصورت بنا رہا تھا ۔ بازو بھی چوری دار تھے لیکن زمل نے ان میں کالے اور گولڈن امتیاز کی کچھ چوڑیاں پہن رکھیں تھیں ۔ اس نے ایک نظر اپنے کمر تک آتے بالوں کو دیکھا پھر ہنس کر خود کو سراہا اور بالوں کا جوڑا بنا کر کیچر لگا دیا ۔ کیونکہ کھلے بالوں کی اجازت کبھی نہ ملی تھی نہ ملنی تھی ۔ پھر اس نے سلیقے سے اپنے دوپٹے کا حجاب بنایا اور بڑی سی چادر لےکر باہر آگئی جہاں ہمایوں رکشہ لے آیا تھا ۔ زمل نے چادر سے ہی نقاب کیا اور تحریم کے ساتھ باہر آگئی ۔************شادی کے فنکشن کا اہتمام گھر میں ہی کیا گیا تھا ۔ زمل کی تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں کیونکہ ابھی تک رفیق صاحب نے ان کو کسی قریب کی شادی میں بھی تیل مہندی پر جانے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اور ان کے دوست کے گھر جگمگاتی روشنیوں اور بلند آواز گانوں کی وجہ سے اس کو پتا چلا کہ وہ اجازت کیوں نہیں دیتے تھے ۔ زمل کو کئی ایک بار اس کی کلاس فیلوز نے اپنے گھروں میں ہونے والے تیل کے فنکشنز کی روداد سنائی تو اس کا بھی دل چاہا کہ وہ بھی دیکھے ۔ کالج میں کئی مرتبہ لڑکیاں اپنے موبائل میں گانے لگاتیں تو زمل بھی ان کے ساتھ مل کر ناچتی ۔ اور رحماء کے بقول زمل سب سے اچھا ڈانس کرنا جانتی تھی ۔ لیکن آج یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اسے ہضم کرنے میں دقت ہو رہی تھی ۔وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے مناظر کو جزب کر رہی تھی جب اسے لگا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے ۔ لیکن وہ تلاش نہیں کر پائی کہ کون ۔ اتنے میں ٹھوکر کھا کر وہ تھوڑا آگے جھکی کہ تحریم نے اسے تھام لیا ۔” تھینک یو ماما ۔“” دیکھ کے کہیں چوٹ تو نہیں لگی ؟“” نہیں ما ما ۔“ پھر وہ سب لان سے گزرتے ہوے گھر کے اندرونی حصے میں آگئے ۔ وہاں تو جیسے الگ ہی جہان تھا ۔ زمل نے اب بھی چادر سے نقاب کر رکھا تھا ۔ کیونکہ وہاں مرد اور عورتیں سب اکٹھے ہی تھے ۔ اندرونی دیواروں اور سیڑھیوں کو اچھے سے پھولوں سے سجایا ہوا تھا ۔ ایک طرف کچھ لڑکیاں ڈھولک لے کر بیٹھی ہوئیں تھیں اور ان میں سے کچھ مہندی لگا رہی تھیں ۔ ان کے ساتھ ہی ان کے کزنز جو کہ چھوٹی عمر سے لے کر شادی شدہ تک بھی لگ رہے تھے موجود تھے جوکہ خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ زمل تو ان کی بے باکیوں کو دیکھ کر حیران رہ گئ ۔ اتنے میں ان کے پاس ایک عورت آئیں جو کے بہت ہی خوبصورت سے لہنگے میں تھیں ۔ لیکن ان کے سر پر دوپٹہ نہیں تھا ۔ اور غور کرنے پر زمل کو معلوم ہوا کہ وہاں پر کسی بھی لڑکی یا عورت کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے سوائے اس کے خود کے اور تحریم کے۔ وہ عورت آکر تحریم کے گلے ملیں تو ان کے ساتھ ایک انکل بھی آگئے جن کو رفیق صاحب بہت گرم جوشی سے ملے ۔ (تو یہ ہیں وہ جن کے بیٹے کی شادی ہے ) ۔ زمل نے سوچا ۔” آپ کو بیٹے کی شادی کی بہت بہت مبارک ہو شگفتہ بہن ۔“ تحریم نے کہا اور ان کی جانب وہ شاپنگ بیگ بڑھا دیا جس میں ان کیلیے تخائف تھے اس بیگ کو بہت ہی لمبی بحث کے بعد قبول کیا گیا جس میں زیادہ تر حصہ یہ ہی تھا کہ ” اس کی کیا ضرورت تھی ۔ تکلف کیا آپ نے تحریم .“ (واقعی ضرورت تو ان کو بالکل بھی نہیں تھی ۔)اب وہ لوگ آپس میں رسمی باتیں کرنا شروع ہو گئے ۔ ایک چیز جس نے زمل کو مزید حیران کیا تھا وہ یہ تھی کی تحریم نے اپنا نقاب اتار دیا تھا اور رفیق صاحب بہت آرام سے وہاں کھڑے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ زمل کو یاد تھا کہ جب ایک مرتبہ اس کی ماما نے اپنے بھانجے کی شادی پر نقاب کے بغیر گاڑی میں سفر کیا تھا تو رفیق صاحب ان کو میکے چھوڑ کر چلے آئے تھے کہ ایسی آوارہ شریک حیات ان کو نہیں چاہئیے ۔ پھر گھر کے بڑوں نے دخل دے کر معاملہ کس طرح رفع دفع کروایا وہ الگ کہانی ہے لیکن یہاں تو جیسے ان کے چہرے پر ذرا بھی بیزاری نہیں تھی ۔ تحریم نے زمل کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا جس میں اس نے چادر کا کونہ تھاما ہوا تھا (یہ ایک اشارہ تھا کہ نقاب اتار دو ) پھر وہ شگفتہ کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں ” یہ میری بیٹی ہے زمل ۔“زمل بھی بڑھ کر ملیں تو انہوں نے اسے اپنے گلے لگا لیا ۔ ان خاتون کے کپڑوں سے اٹھنے والی تیز خوشبو اف خدایا ۔ بدقت مسکراہٹ قائم رکھی ۔” بہت خوبصورت نام ہے آپ کا ۔ مطلب کیا ہے اس کا ؟“” حانہ کعبہ کا تخفہ اور عورت کو ڈھانپنے والی چادر .....“ اس سے پہلے کہ حریم جواب دیتی رفیق صاحب نے جواب دے دیا ۔” مطلب بھی آپ کی طرح پیارا ہے ۔“ زمل نے مسکرا کر سر جھکا لیا ۔ پھر رفیق صاحب سالار صاحب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں چلے گئے اور ہمایوں بھی ان کے ساتھ چل دیا ۔ شگفتہ نے اپنی بیٹی کو آواز دی ۔” عالیہ ...... عالیہ...!“ اتنے میں ایک زمل کی ہم عمر لڑکی اسی لڑکے لڑکیوں کے جھرمٹ سے جگہ بناتی ہوئی آئی ۔ اس نے نہایت ہی خوبصورت کام دار لہنگا پہن رکھا تھا ۔ جس کا دوپٹہ گلے کی زینت بنا ہوا تھا ۔” السلام علیکم آنٹی ۔“ اس نے آکر خوشدلی سے سلام لی ۔ ”عالیہ یہ تحریم آنٹی ہیں رفیق انکل کی مسز اور یہ ہیں زمل ...... اپ نے ان کو کمپنی دینی ہے ٹھیک ۔“” جی ٹھیک ہے مما ۔“ اس نے مسکرا کر زمل کی جانب دیکھا تو وہ بھی مسکرا دی ۔” زمل مجھے اپنی چادر دےدو ۔“ زمل مڑنے ہی لگی تھی کہ تحریم نے روک لیا ۔ عالیہ بھی شاید کسی ملازم کو کچھ کہنے لگ گئی ۔ ” لیکن ماما .... بابا !“ زمل نے اتنا آہستہ بولا کہ صرف وہ ہی سن سکیں ۔” تمھارے بابا نے ہی بولا تھا ۔“ انہوں نے بھی اتنی ہی دھیمی آواز میں جواب دیا ۔ زمل نے حیران ہوتے ہوئے چادر اتار کر دی اور عالیہ کے ساتھ چل پڑی ۔ تحریم کو شگفتہ لےگئیں ۔” آپ کیا کرتی ہیں زمل ؟“ عالیہ نے پوچھا ۔ ” میں بی ایس سی کر رہی ہوں ۔ زولوجی میں ۔“زمل نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ” ارے واہ ! سیم سیم لیکن میں بی ایس کر رہی ہوں دوسرا سمیسٹر ہے میرا ۔“ اتنے میں وہ دونوں ڈھولک کے پاس آگئیں ۔ عالیہ نے دو تالیاں بجائیں اور سب کو متوجہ کر کے زمل کا تعارف کروایا ۔ اور جگہ بنا کر بیٹھ گئیں ۔ زمل پہلے تو جھجھکتی رہی لیکن بعد میں ان کے ساتھ تھوڑا گھل مل گئی اور تالیاں بجانا شروع کر دیا ۔ اتنے میں ڈھولک والی آپی نے ڈھولک پر لڈی کی دھن بجائی تو کئی لڑکیاں اور لڑکے لڈی ڈالنا شروع ہو گئے ۔ عالیہ نے زمل سے بھی کہا لیکن اس نے تو صاف انکار دیا ۔” مجھے تو بالکل بھی ڈانس کرنا نہیں آتا ۔“ ( مانا کہ بابا نے چادر اتارنے کی اجازت دی اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بدل گئے ہیں ۔ بھئی مجھے میری ٹانگیں بہت عزیز ہیں ) اپنی سوچ پر وہ خود ہی ہنس دی ۔ پھر زمل کو احساس ہوا کہ شاید اس کے بال کھل گئے ہیں ۔ تو وہ پریشان ہو گئی ۔ ” عالیہ! “" ہاں بولو زمل۔ “” مجھے واش روم میں جانا ہے ۔“” اچھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ام م م م م ایسا کرو میرے ساتھ آؤ ۔ یہاں نیچے تو کوئی واشروم فارغ ہونا مشکل ہے ۔ تم ایسا کرو کے اوپر سفیان بھائی کے روم میں چلی جاو ۔“ سفیان کی ہی شادی تھی ۔” وہ مائنڈ نا کر جائیں عالیہ ۔“ زمل نے اپنا حدشہ بتایا ۔ ”ارے ۔۔۔۔۔ اس میں مائنڈ کرنے والی کون سی بات ہے ۔۔۔۔۔ آو میں چھوڑ آوں ۔“پھر زمل عالیہ کے پیچھے پیچھے چل دی ۔ سیڑھیاں چڑھ کے وہ دونوں ایک کمرے کے سامنے آئے ۔” تم بے شک آرام سے فارغ ہو جاو میں نیچے ہی ہوں ۔“ زمل نے مسکرانے پر اکتفا کیا ۔ اس نے ڈور ناب گما کر دروازہ کھولا تو خاموشی نے اس کا استقبال کیا ۔ اندر آکر اس نے لائٹس آن کیں تو کمرے کی خوبصورتی کا اعتراف کیے بغیر نا رہ سکی ۔ بلاشبہ وہ کمرہ بہایت نفاست پسندی سے سجایا گیا تھا ۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا حجاب کھولا تو سارے بال بکھر گئے ۔ اتنے میں کمرے کی کھلی کھڑکی سے باہر لگے ڈیک سے گانے کی آواز آنا شروع ہو گئی ۔۔اتفاق سے یہ گانا زمل کا ان دنوں کا پسندیدہ بھی تھا تواس کا دل کیا کہ وہ ساری حدیں بھلا کر ناچنا شروع کر دے پھر کیا تھا ۔ جب دل اپنی کرنے پر آئے تو نہیں دیکھتا کہ جگہ کون سی ہے وہ وہیں پر ڈانس کرنے لگ گئی اور ڈانس میں مگن ارد گرد سے لاعلم ہو گئی ۔۔۔۔۔ اچانک اسے لگا کہ کمرے سے ملحقہ بالکونی میں کوئی نامانوس سی آواز سنائی دی ہے تو وہ چونک گئی ۔ جب وہ آواز دوبارہ سنائی دی تو ڈر کے مارے زمل کے ہاتھ پاوں پھولنا شروع ہو گئے ۔ اس نے جلدی جلدی اپنے کھلے بالوں کو جوڑے میں قید کیااور حجاب کر کے باہر بھاگ گئی ۔ پھولے سانس کے ساتھ نیچے آئی تو عالیہ نے پوچھا ۔” کیا ہوا ۔۔۔۔ حیریت تو ہے نا زمل ؟ بیٹھو یہاں پر ۔“” اوپرسفیان بھائی کے کمرے میں کوئی ہے ۔“ زمل نے پھولی سانس کے ساتھ کہا ۔” اوہ..... میرے خدایا ........ وہ لیزا ہو گی ۔ سفیان بھائی کی بلی ۔ میں دیکھتی ہوں “ یہ کہہ کر وہ اوپر کی جانب چل دی ۔ اور زمل نےسکون کا سانس لیا کیونکہ وہ یہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی کہ کسی نے اسے اس حالت میں دیکھا ہے پھر وہ تحریم کی جانب چل دی ۔ اس بات سے بے خبر کہ وہ آواز لیزا کی نہیں کسی اور کی تھی ۔ اس واقعے سے وہ محتاط ضرور ہو گئی ۔ اور کھانے تک کا سارا وقت تحریم کے ساتھ ہی گزارا ۔” زمل بچے ذرا اپنے بابا کو فون تو کر لو اور پوچھو کہ وہ کہاں ہیں ۔ گیارہ بج رہے ہیں.....“ تحریم نے فکرمندی سے زمل کو کہا تو اس نے فرضی جیب میں ہاتھ ڈالا ( یہ اس کی عادت تھی کیونکہ وہ یونیورسٹی میں موبائل جیب میں ہی رکھتی تھی ) ”امی موبائل میرے پاس تو نہیں ہے ۔” زمل کے ساتھ ساتھ تحریم بھی پریشان ہو گئیں ۔ پھر کچھ یاد آنے پر زمل بولی ۔ ”ماما میں واشروم گئی تھی وہاں نا رہ گیا ہو ۔ میں دیکھ کے آتی ہوں ۔“ زمل نے تحریم سے اپنی چادر واپس لی اس کو بازو پر ڈالا اور عالیہ کی جانب آئی ۔” عالیہ شاید میں اپنا موبائل سفیان بھائی کے کمرے میں بھول آئی ہوں کیا لے آوں ؟“” ارے زمل اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے دیکھ لو جاکے ۔ بلکہ میں یہاں کچن سے فارغ ہو کر اوپر ہی آجاتی ہوں ۔“عالیہ نے زمل کے ہاتھ میں وہ چھوٹا سا موبائل دیکھا تھا جب وہ واشروم میں گئی تھی . لہذا اس کی پریشانی سمجھ کر بولی ۔ زمل اوپر آگئی اوپر والے پورشن میں اب اسے کوئی نظر نہیں آیا ۔ سب نیچے دلہے کو مہندی لگا رہے تھے ۔ زمل نے جب کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر گھپ اندھیرا تھا جبکہ وہ لائٹ جلتی چھوڑ کر آئ تھی ۔(عالیہ نے بند کر دی ہوگی لائٹ ) اپنی سوچ کا خود ہی جواب دے کر آگے بڑھی کہ ڈریسنگ ٹیبل پر اسے اس کا موبائل نظر آگیا ۔ ابھی اس نے موبائل اٹھانے کیلیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ بند ہونے آواز آئی ۔ وہ مڑی تو کسی نے لائٹ آف کر دی ۔ زمل نے دوڑ لگانا چاہی لیکن دروازے کے پاس پہنچتے ہی کسی نے اسے بازو سے کھینچ کر دیوار کی جانب دھکیلا اور آگے بڑھ کر ایک بازو کی پشت زمل کی گردن پر رکھی جس سے اس کی آواز دب گئی ۔ تو دوسرے ہاتھ سے زمل کے پیٹ پر اپنی پانچوں انگلیوں سے دباؤ ڈال کر اسے دیوار سے لگا دیا ۔ زمل نے ڈر کے آنکھیں بند کر لیں ۔” یہاں کیا کر رہی ہو ؟ “ بھاری آواز میں پوچھا گیا ۔” م م م م ......میں .....م م م ...میں اپنا سیل فون......ل ل ل لینے آ.....آئی ہوں.......ووو...وہ وہاں ہے ۔“ گردن پر بازو ہونے کی وجہ سے اس سے بولا نہیں جا رہا تھا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف اس چور (ایسا زمل کو لگا کہ یہ چور ہے ) کی توجہ دلوائی ۔””اوہ..اچھا !! تم ....نام کیا ہے تمہارا ؟“” زز...زم م م مل ...زمل ۔“ بمشکل کہہ پائی ۔” ہاں تو زمل اب اگر تم نے نیچے کسی کو بھی یہ بتایا جو یہاں ہوا ہے تو تمہاری عزت تو جائے گی ہی لیکن میں تمہارا حشر نشر کر دوں گا ...... آئی بات سمجھ میں ؟“” ججج....جی ۔“ زمل کو ناجانے کیوں لگا کہ وہ شخص اپنی اصل آواز چھپا رہا ہے ۔ لیکن اس کی دھمکی کا یہ اثر ہوا کہ زمل زور زور سے کانپنے لگی ۔ اب اس شخص نے آہستہ آہستہ زمل کی گردن پر اپنے بازو کی گرفت ڈھیلی کی آیا یہ دیکھ رہا ہو کہ وہ چینخے نہیں اور جیسے ہی یقین آیا کہ اب وہ نہیں چینخے گی وہ بالکونی کی جانب بھاگ گیا ۔ جبکہ زمل اپنی پھولی ہوئی سانس بحال کرنے کی سعی کرنے لگ گئی ۔ دوبارہ دروازہ کھلا اور عالیہ اندر آئی ۔ ” ارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمل لائٹ تو جلا لیتی ۔ اور ایسے کیوں کھڑی ہو ؟“ عالیہ نے لائٹ آن کی تو اسے کانپتی ہوئی زمل دیوار کے ساتھ لگی نظر آئی ۔” زمل ۔۔۔۔۔ زمل کیا ہوا ۔۔۔۔۔ سب ٙٹھیک تو ہے نا ؟“” عالیہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ووو۔ ۔ ۔وہ “ ابھی زمل نے بتانا شروع ہی کیا تھا کہ لیزا بالکونی سے اندر کمرے میں آگئی ۔” افو۔ ۔ ۔ ۔ زمل ایک بلی سے ڈر گئی ۔” لیزا اب زمل کے پاوں کےگرد اٹھ کھیلیاں کر رہی تھی ۔ ” آو لیزا تمہیں نیچے لے جاوں ۔ موبائل ملا زمل؟“ عالیہ نے زمل سے پوچھا لیکن وہ کسی اور ہی دنیا میں تھی ۔” زمل!!“ اب کی بار عالیہ نے کچھ اونچا بولا تو زمل ہوش میں آئی ۔” ہ۔ ۔ہ۔ ۔ ۔ ہاں کیا ہوا؟“ اس نے بوکھلاتے ہوئے پوچھا۔” زمل میں موبائل کا پوچھ رہی ہوں ۔ ملا کیا ؟“ عالیہ بھی حیران ہوئی ۔” ہاں ۔ ۔ ۔ ہاں مل گیا ۔“ پھر وہ خود پر گزری قیامت پر قابو پاتے ہوئء ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے گئی اور موبائل اٹھا لیا ۔ اب وہ جلد از جلد یہاں سے جانا چاہتی تھی ۔” عالیہ میں نیچے چلتی ہوں ماما میرا انتظار کر رہی ہوں گی ۔“ عالیہ کو دیکھ کر اس نے خود پر کافی حد تک قابو پاتے ہوئے کہا ۔” ہاں چلو میں بھی آتی ہوں .... آو تم بھی لیزا ۔“ پھر اس نے لیزا کو بھی گود میں اٹھا لیا ۔اور جب وہ نیچے آئیں تو زمل تقریبًا دوڑ کر تحریم کے پاس گئی اور موبائل ان کی طرف بڑھا دیا ۔” ماما ! بابا سے کہیں کہ جلدی چلیں ۔ مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے یہاں ۔“ زمل نے تحریم کا بازو اپنی گرفت میں لیتے ہوے کہا ۔””ہاں ہاں میں کہتی ہوں کیونکہ ان لوگوں نے تو ابھی رات گئے تک یہ شور شرابا جاری رکھنا ہے ۔“ تحریم نے بھی زمل کی تائد کی ۔ پھر وہ لوگ وہاں پر سالار صاحب اور شگفتہ کے کہنے پر بھی نہیں رکے ۔ رفیق صاحب بھی باہر اتنا آزادانہ ماحول دیکھ کر بمشکل مسکراہٹ قائم کئے ہوئے تھے ۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر زمل نے اپنی آنکھیں موند لیں ۔ اور ذہن میں ایک مرتبہ پھر سے سارا واقعہ چلنے لگا ۔” ارے بھئی حد ہوتی ہے بے شرمی کی......وہ تو سالار نے اتنا اسرار کیا تو میں آنے پر راضی ہو گیا مجھے کیا پتا تھا کہ یہاں تو کسی کو مذہب کی تمیز نہیں.......“ آج ذندگی میں پہلی بار زمل کو رفیق صاحب کا چلانا برا نہیں لگا ۔ اس کا دل چاہ رہا تھا بس کسی طرح اس جگہ سے بہت دور چلی جائے ، کبھی واپس نہ آنے کیلیے ۔*********



Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر

****

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post