Daman Episode No 1 | Urdu Novels

Daman Episode No 1 |Urdu Novels


از قلم زویا حسن

قسط نمبر 1


قسمت پلٹنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔۔ پر جب پلٹتی ہے تو انسان کو بھنک تک نہیں لگنے دیتی۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔ اس رات ای میلز کرتے جانے کب میری آںکھ لگی اور میں ٹیبل پہ بایاں گال ٹکائے سوگیا۔۔۔ فون کی بیل پہ میری آنکھ کھلی۔۔۔ انجان نمبر دیکھ کے میں پریشان ہوا کہ اس وقت کون فون کررہا ہے۔ فون اٹھانے کو دل نہیں کررہا تھا۔۔ لیکن یہ سوچ کے اٹھا لیا جو بھی ہے ضرور کوئی جاننے والا ہی ہوگا۔۔ کہیں کسی مصیبت میں نہ ہو۔۔۔۔ میں نے کال اٹنڈ کی۔۔۔"مدثر ! تم سو رہے ہو۔۔۔۔"کھنکتی سی اس آواز کو میں جھٹ سے پہچان گیا۔۔۔۔"تارا۔۔۔۔! تم ۔۔۔۔ اس وقت۔۔۔۔ خیریت۔۔۔۔ "میں ہڑبڑانے لگا تھا۔۔۔۔"ہاں ۔۔۔۔! خیریت ہے۔۔۔ یہ بتاؤ کہ سو رہے ہو یا جاگ رہے ہو۔۔۔۔"اسکی آواز میں قدرے اداسی تھی"پگلی! جاگ رہا ہوں تو فون اٹھایا نا۔۔۔۔""مدثر۔۔! صبح کے چار بج رہے ہیں۔۔۔۔ تم ابھی تک کیوں جاگ رہے ہو۔۔۔۔۔ ؟"اسکے ایسے سوال پہ میں حیران تھا" کچھ ضرروی ای میلز کرنی تھیں اس لیے ابھی تک جاگ رہا ہوں۔۔ ویسے بھی صبح سنڈے ہے۔۔۔۔ دن میں نیند پوری کرلوں گا۔۔۔۔""کہیں۔۔۔ تمہاری کوئی گرل فرینڈ تو نہیں ہے۔۔۔۔ جس سے تم بات کررہے تھے۔۔۔۔ "اسکے شکی انداز پہ میری ہنسی نکل گئی۔۔۔۔"بتاؤ نا۔۔ مدثر۔۔۔۔! تمہاری کوئی گرل فرینڈہے؟"وہ سنجیدہ تھی۔۔۔۔"نہیں۔۔ یار۔۔۔۔ میرے جیسے واجبی شکل و صورت کے لڑکوں کو آجکل کی لڑکیاں کہاں لفٹ کراتی ہیں۔۔۔۔ یہاں تو شادی کے لیے لڑکی نہیں ملتی۔۔۔ گرل فرینڈ تو دور کی بات ہے۔۔۔۔۔ "میں لگاتار ہنس رہا تھا۔۔۔۔"مجھ سے شادی کرو گے۔۔۔۔۔۔ ؟""اب تم بھی مذاق اڑا لو۔۔۔۔۔ "میری ہنسی قہقہے میں بدلی۔۔۔۔"میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ مجھ سے شادی کرلو۔۔۔۔ "ہنستے ہنستے میری انتڑیاں دکھنے لگیں۔۔۔۔"بس کرو۔۔ تارا۔۔۔! کتنا ہنساؤ گی یار۔۔۔۔ میرے گھر والے اٹھ جائیں گے۔۔۔۔ "میں نے کھانستے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔"مدثر۔۔۔! میری بات کا یقین کرو۔۔۔۔۔میں مذاق نہیں کررہی ہوں "اسکی آواز میں گہری سنجیدگی تھی۔۔۔۔ میں نے خود پہ کنٹرول کیا۔۔۔"کیا ہوگیا۔۔۔ تارا۔۔۔؟ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ ؟ "میں نے پوچھا"سب بتاؤں گی۔۔۔ پہلے یہ بتاؤ کہ مجھ سے شادی کرو گے تم۔۔۔۔ ؟"یونیورسٹی کے شروع کے دنوں میں جب پہلی بار میں نے تارا کو دیکھا تھا تو ایک عجیب سا احساس دل میں اترا۔۔ گلاب کی پنکھڑی جیسی نازک سی لڑکی پہلی نظر میں ہی دل میں گھر کرگئی ۔ اپنی شکل اور حیثیت کچھ ایسی تھی کہ بات کرنا تو دور اسے جی بھر کے دیکھنا بھی محال تھا ، جب ہلکی سی بات چیت شروع ہوئی تو پتا چلا کہ تارا کا عمار کے ساتھ معاشقہ چل رہا ہے۔۔۔ اس بات سے سبھی دوست واقف تھے۔۔ میں نے چپ چپ اپنے جذبات کا گلہ گھونٹا اور ان دونوں کی مثالی جوڑی کو سرہانے لگا۔ تارا جیسی حسین لڑکی کے ساتھ عمار ہی سوٹ کرتا تھا۔ دونوں کا کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق تھا۔ میرے جیسے سانولی رنگت کے نوجوان جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوں وہ تارا جیسی لڑکیوں کے خواب نہیں دیکھ سکتے۔ بس کن انکھیوں سے دیدار کرکے ہی دل کی پیاس بجھا لیتے ہیں۔ عمار ہمارے گروپ میں شامل ہوا تو تارا سے بھی ہیلو ہائے ہوئی۔۔۔ شوخ چنچل سی لڑکی بنا سوچے کچھ بھی بول دیتی۔۔۔ اورہم لڑکے اپنی مردانہ سوچ کے مطابق اسکی معصوم سی باتوں کا الگ ہی مطلب نکال کے ہنستے رہیتے۔۔۔۔ یونیورسٹی کے بعد سبھی اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوگئے۔ جن کو موقع ملا وہ باہر چلے گئے اور کچھ میری طرح یہیں نوکریاں ڈھونڈنے لگے۔۔۔ پڑھائی سے فارغ ہوتے ہی ابا جی نے چاروں بہنوں کی شادی کی ذمہ داری میرے کندھوں پہ ڈال دی تھی۔۔ نوکری ملی تو کولہو کے بیل کی طرح کام پہ لگ گیا۔۔۔ گزرتے دنوں کے ساتھ یونیورسٹی کے سبھی دوستوں سے رابطہ ٹوٹنے لگا۔۔۔ لیکن عمار کے ساتھ بات چیت جاری رہی اور اکثر اوقات ملاقات بھی ہوجاتی۔۔ اسکی وجہ سے تارا سے بھی رابطہ قائم تھا۔۔ تارا سے میری جب بھی بات ہوئی عمارکے حوالے سے ہی ہوئی۔ ان دونوں کی لڑائی ہوجاتی تو صلح میں کرایا کرتا تھا۔۔ مہینے میں ایک آدھ بار ڈنر یا لنچ بھی ساتھ میں ہوجاتا۔ تارا کی امی ایک عرصے سے غریب اور نادار بچوں کے لیے "این جی او" چلا رہی تھیں۔۔ پڑھائی سے فارغ ہوکر تارا انکے ساتھ ہی جت گئی لیکن عمار نے نہ تو کوئی نوکری کی اور نہ ہی باپ کے بزنس میں شمولیت اختیار کی۔ جب بھی اس بارے میں اس سے بات ہوتی تو وہی یہی کہتا کہ یار میں یہاں نہیں رہنا چاہتا۔۔ میں "یو ایس" جانا چاہتا ہوں۔ تارا اور عمار کی لڑائیاں اکثر اسی مدعے پہ ہوتی تھیں۔ میں جب ان سے شادی کا پوچھتا تو وہ ایکدوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگتے۔ "اتنی جلدی کیا ہے ؟۔۔ میں پہلے کچھ بن جاؤں۔۔۔ کچھ کرلوں پھر ہی شادی ہوگی" عمار کے جواب پہ تارا کے چہرے پہ پھیلی اداسی بہت سے سوال کھڑے کردیتی۔ میں نے کبھی کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ کچھ مہینوں بعد عمار "یو ایس" چلا گیا۔ اور تارا سے میرا رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ۔۔۔ کیوں کہ اس کے ساتھ جو بھی تعلق تھا وہ عمار کی وجہ سے تھا۔ اس نے بھی کبھی رابطہ نہیں کیا۔۔۔۔ چند ماہ مزید گزرے۔۔۔ میں دو بڑی بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہوا۔۔ دھوم دھام سے شادی کرائی۔۔۔ ماں باپ کی ڈھیروں دعائیں لیں۔۔۔۔ چھوٹی دو بہنیں ابھی پڑھائی میں تھیں۔۔ ان کی شادی میں چند سال تھے۔۔۔ لیکن امّی چاہتی تھیں کہ وہ جھٹ پٹ میری شادی کرادیں۔۔۔ لیکن میں خود کو دماغی طور پہ شادی کے لیے تیار نہیں کرپایا تھا۔۔۔ لیکن وہ بھی باز نہ آتیں۔۔۔ خالہ، چچی، تائی، پھھپو کی بیٹیوں کی ایک لمبی لائن میرے سامنے تھی۔۔۔ اگر مجھے ان میں سے کوئی پسند نہیں تھی تو دور کے رشتہ دار عزیز و اقارب کی نئی لسٹ تیار ہونے لگتی۔۔۔ وہاں سے بھی منع کرتا تو پڑوسیوں کی باری آجاتی۔۔۔ رشیدہ آنٹی کی ایم انگلش بیٹی میمونہ نشانے پہ ہوتی۔۔ اس سے نظر چراتا تو حاجی صاحب کی فاخرہ اور نادیہ مسکراتی ہوئی ملتیں، ان سے جان نہیں چھوٹی ہوتی تو میری بہنوں کے سسرالیوں میں لڑکیاں کھوجی جاتیں۔۔۔۔ امّی میرے ہاتھ میں آدھے شہر کی لڑکیوں کی "سی وی" تھماتیں۔۔ اور میں مسکرا کے انھیں گلے لگا لیتا تھا۔۔۔۔ "بیٹا۔۔! میں اپنی آںکھوں سے تمہاری خوشی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔کیوں نہیں مانتا تو۔۔۔۔؟ " وہ آبدیدہ ہوجاتیں۔۔۔۔"امّی۔۔! تھوڑا وقت دیں مجھے۔۔۔ میں نے کب انکار کیا ہے شادی سے۔۔۔۔ ""اگر تجھے کوئی پسند ہے تو بتا۔۔۔۔ "وہ جھٹ سے پوچھتیں۔۔۔"اف ہو۔۔۔! کتنی بار بتاؤں۔۔ اگر کوئی پسند آئی تو سب سے پہلے آپکو بتاؤں گا۔۔۔ بلکہ اسکے گھرلے جاؤں گا۔۔۔۔ "میں ان کے ہاتھ چومنے لگتا۔۔۔۔وہ چپ ہو جاتیں۔۔۔ اور میں اس سوچ میں پڑ جاتا کہ بھلا مجھے کون پسند کرے گی۔۔۔۔"مدثر۔۔۔! تم چپ کیوں ہو۔۔۔۔ َ؟ کیا میں تمہیں پسند نہیں ہوں۔۔۔ ؟"تارا کی آواز پھر سے میرے کان میں گونجی۔"تارا۔۔! ہوا کیا ہے۔۔۔ عمار سے تمہاری لڑائی ہوئی ہے ۔۔۔۔ ؟""عمار کو چھوڑو تم۔۔۔ بس مجھے ہاں یا نہ میں جواب دو۔۔۔ تم مجھ سے شادی کرو گے یا نہیں۔۔۔۔ ؟"وہ کہنے لگیمیں یقین اور بے یقینی کے بیچ میں اٹک سا گیا تھا۔۔۔۔"تم جانتی ہو۔۔ یہ ناممکن ہے۔۔ تمہارے ماں باپ میرے لیے کیوں مانیں گے۔۔۔؟"میں نے سوال کیا"شادی میں نے کرنی ہے انھوں نے نہیں ۔۔ تم بس اپنی مرضی بتاؤ۔۔۔""لیکن۔۔۔ تم نے میرا ہی انتخاب کیوں کیا۔۔۔۔ ؟ اور جب تک تم عمار کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتاؤ گی میں ایسے کیسے فیصلہ کرلوں"میں نے سنجیدگی سے سوال کیا"عمار۔۔! سے میرا ہر تعلق ختم ہوچکا ہے"افسردگی سے اس نے جواب دیا"آخر کیوں۔۔۔۔ ؟""وہ "یو ایس" جا کے بدل گیا۔۔۔ اسے کوئی اور پسند آگئی۔۔۔۔۔ مدثر۔۔۔! اس نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔۔ "اسکی آواز میں لرزش تھی۔۔۔میرے دل میں ایک درد سا اٹھا تھا۔۔۔ پل بھر میں اپنی اوقات سمجھ آگئی۔۔۔ وہ مجھے مرہم کے طور پہ استعمال کرنا چاہتی تھی۔ "کیوں۔۔ تارا۔۔! آخر کیوں۔۔۔۔ ؟ میری بس اتنی سی اوقات ہے تمہارے سامنے۔۔۔۔ ؟" میں چیخ چیخ کے کہنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن زبان پہ تالے لگ گئے۔۔۔۔ بھلا کیسے میں سوچ لوں کہ اس کے دل میں میرے لیے محبت جاگی ہے۔ میں تو شائد مرہم بننے کے قابل بھی نہیں ہوں۔"بتاؤ۔۔۔! تم مجھ سے شادی کرو گے یا نہیں۔۔۔۔ مدثر۔۔!"وہ سسکیاں لے رہی تھی"تم اپنے طبقے میں کسی خوش شکل لڑکے کا انتخاب کرو۔۔۔ میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔ "میں نے دل پہ پتھر رکھ لیا"نہیں۔۔۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ مجھے کوئی اور نہیں چاہیے۔۔۔ "شائد مجھ سے شادی کرکے خود کو ایک سزا دینا چاہتی تھی۔۔ عمارہ کے دھوکے نے اسے توڑ دیا تھا۔۔ اور وہ مجھے توڑ رہی تھی۔"میں ہی کیوں۔۔۔۔ ؟"میں نے سسکی اپنے اندر دفن کی۔۔۔۔"کیوں کہ تم لاکھوں لڑکوں سے اچھے ہو۔۔ سمجھدار ہو۔۔ مجھے یقین ہے تم میرا دل نہیں توڑو گے۔۔۔""اور میرے دل کا کیا۔۔۔ ؟ جسے تم کرچیاں کرچیاں کررہی ہو۔۔۔۔ " میں کہتے کہتے رکا۔۔۔کچھ دیر دونوں طرف خاموشی رہی۔۔۔۔"تم ابھی جذباتی ہورہی ہو۔۔۔ تھوڑا وقت دو خود کو۔۔۔ پھر کوئی فیصلہ کرنا۔۔۔۔ "میں نے گہری سانس لی"میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔۔ جو کرنا ہے ابھی کرنا ہے۔۔۔۔۔ اور میں جذباتی بھی نہیں ہورہی ہوں۔۔۔ سوچ سمجھ کے فیصلہ کیا ہے۔۔۔"میں سمجھ گیا تھا کہ میں عمار کو دوست ہوں، وہ مجھ سے شادی کرکے اسے تکلیف دینا چاہتی تھی۔ میں اپنی ہی نظروں میں گرتا جارہا تھا۔۔۔۔"وقت کیوں نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔ "میں نے پوچھا"میں عمار سے پہلے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ اسکی شادی کی تاریخ طے ہوچکی ہے۔۔"کتنی صاف گو تھی وہ۔۔۔۔ سب سچ سچ بتا رہی تھی۔۔۔ میں نے پل بھر کے لیے سوچا یہ چاہتی تو جھوٹ بول سکتی تھی۔۔ میرا دل رکھنے کے لیے کچھ بھی کہہ دیتی۔۔۔ پر اس نے جھوٹ کا سہارا نہیں لیا۔۔۔۔ میرا دماغ بار بار کہہ رہا تھا کہ میں اسے جھٹک دوں۔۔۔ انکار کردوں۔۔ اور کہہ دوں کہ میں خود کو مار کر تمہارا مرہم نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔ پر دل تھا جو خود کشی کرنے کو مچل رہا تھا۔۔۔۔"تمہاری فیملی مانے گی۔۔۔۔ ؟"میں نے سوال کیا"ضرور مانے گی۔۔۔""تم کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔۔ ؟""میرے گھر والے مجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ ""تم میرے ساتھ خوش رہو گی۔۔۔۔؟""ہاں۔۔۔۔ مجھے یقین ہے میں خوش رہوں گی۔۔۔۔""کیسے۔۔۔۔ ؟کیسے کہہ سکتی ہو تم۔۔ میرے اور تمہارے گھر کے ماحول میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔۔۔۔ میرے پاس عمار جیسی شکل ہے نہ سٹیٹس۔۔۔۔ "کھل کے بات کرنا ضروری ہوگیا تھا"مدثر اکرام۔۔۔! خوش شکل اور سٹیٹس والے لوگ خوشیوں کی ضمانت نہیں ہوتے۔۔۔یہ سب ایک دکھاوا ہے۔۔۔ جس کی حقیقت بہت بھیانک ہے۔۔۔""تو تم اپنی زندگی کے ساتھ ایک اور تجربہ کررہی ہو۔۔۔۔؟""نہیں۔۔۔ میں تجربوں سے نکل کے حقیقت میں داخل ہونا چاہتی ہوں۔۔۔۔ ""آخر میں ہی کیوں۔۔۔۔۔ ؟"میں نے پھر سے پوچھا"نہیں جانتی کہ تم کیوں۔۔۔۔ پر تم ہی ہو۔۔۔۔ "وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔"کیا تم تیار ہو۔۔۔۔ مدثر۔۔!"میں نہیں جانتا تھا کہ میری ہاں مجھے کسی وادی میں لے جائے گی یا پھر اندھے کنوئیں میں دھکیل دے گی۔۔ پھر بھی اس دل نشیں تجربے سے گزرنا ضروری تھا۔۔۔"ٹھیک ہے۔۔۔ اگر تمہاری یہی منشا ہے تو میں راضی ہوں۔۔۔۔۔ "میں نے سر جھکا لیا۔۔۔۔"لیکن میری کچھ شرطیں ہیں۔۔۔۔""کیسی شرطیں۔۔۔۔ ؟""تم آج ہی اپنے گھر والوں کو میرے رشتے کے لیے بھیجو۔۔۔ میں اگلے دو ہفتوں کے اندر اندر تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ ""اتنی جلدی۔۔۔۔۔ ؟ اتنی جلدی کیسے۔۔۔۔ مجھے تھوڑا وقت دو۔۔۔۔۔ ""تم سمجھ کیوں نہیں رہے۔۔۔ میرے پاس وقت کم ہے۔۔۔۔ ""یہ بے وقوفی ہے تارا۔۔!""جانتی ہوں۔۔۔ بس تمہارا ساتھ چاہیے اس بے وقوفی میں۔۔۔۔ "میں کش مکش میں تھا کہ کیا کروں۔۔۔۔ اس پہ یہ پاگل پن سوار کیوں ہے۔۔۔ گر کچھ دن بعد بھوت اتر گیا تو۔۔۔؟ لیکن اس بار بھی میں دل سے ہار گیا۔۔۔ "مدثر اکرام۔۔! جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔۔""ٹھیک ہے۔۔۔ میں کل ہی اپنے گھر والوں کو بھجواتا ہوں۔۔۔۔ ""میری ایک اور شرط بھی ہے۔۔۔۔ "وہ بولی"اب کیا۔۔۔۔ ؟"میں پریشان ہوگیا"مجھے شادی کے پہلے سال ہی بچہ چاہیے۔۔۔۔ ""کیا۔۔۔۔۔؟۔۔بچہ۔۔۔؟ "اسکی بے تکی شرط پہ میں ششدر تھا۔"تارا۔۔! یہ کیسی شرط ہے۔۔۔ ؟""بس تم ہاں کر دو نا۔۔۔۔""ایسے کیسے ہاں کر دوں۔۔۔۔۔ ؟ یہ انسان کے ہاتھ میں تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ ""جانتی ہوں۔۔۔ پر اگر تم ہاں کردو گے تو میری یہ خواہش پوری ہوجائے گی۔۔۔۔۔ "ایک پل کے لیےمجھے یہی لگا کہ شائد وہ اپنے حواس میں نہیں ہے۔ اس لیے عجیب و غریب باتیں کررہی ہے۔"یہ مت سمجھنا کہ میں عمار کے دھوکے سے حواس کھو بیٹھی ہوں۔۔۔۔ "اس نے میرے دماغ میں الجھے سوالوں کو پڑھ لیا تھا۔۔۔"تو پھر یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔ ؟""تم نہیں سمجھو گے۔۔۔۔ ""تم سمجھاؤ مجھے پھر۔۔۔ ""وقت پہ چھوڑ دو۔۔۔۔۔ اور اپنے دل سے ہر وہم نکال دو۔۔۔۔۔ "کیسے ہر وہم دل سے نکال دوں۔۔۔ ایک طرف قسمت بے یقین کھڑی تھی اور دوسری طرف دماغ خدشات کے جالے بن رہا تھا۔۔۔۔"مدثر! بیٹا۔۔۔! صبح ہوگئی۔۔۔ اٹھ جا ۔۔۔ کب تک سوتا رہے گا۔۔۔۔ "امّی کی آواز میرے کان میں پڑی۔۔۔ میں کرسی سی اٹھ کر بستر پہ جا لیٹا۔۔۔۔۔"مدثر۔۔۔! یاد سے بھیج دینا اپنے گھر والوں کو۔۔۔ میں انتظار کروں گی۔۔۔۔۔ "تارا کی سرگوشی سنائی دی۔۔۔۔ ایک خمار سا تھا۔۔۔ میری آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔شائد میں کسی خواب میں ہوں۔۔۔ نیم مدہوشی میں مَیں بڑ بڑایا۔۔۔
x



Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post