Dharkano Ka Ruqs Ep No 1 | Urdu Novels

Dharkano Ka Ruqs Ep No 1 | Urdu Novels



دھڑکنوں کا رقس

از قلم مائرہ مشتاق


قسط نمبر 
1


ذندگی میں پہلی دفعہ وہ گھر سے اتنے دور اکیلے سفر کر رہی تھی. اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے خوابوں کو اسطرح سے تکمیل مل جاۓ گی. جہاں ایک طرف ذندگی اسے خوش کن باغ دکھا رہی تھی تو دوسری طرف خوف کی لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا. اسے جو کچھ ملنے جا رہا تھا اس کا سوچ کر ہی اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے اور آنسو کی ایک بوند اس کے گلابی چہرے کو تر کرگئ...
اس نے بیگ سےٹشو نکالا اور اپنا چہرہ خشک کیا. بہت سی نظروں نے اس کے چہرے کا تعاقب کیا, وہ بہت خائف ہو گئ. اس کا دل چاہا کہ کاش وہ واپس اسی نگری میں لوٹ جاۓ جہاں اس کے باباجان ہیں لیکن منزل کے اتنے قریب آ کر اسے واپسی کے راستے دھندلے محسوس ہونے لگے..
--------------------------
رات کا آخری پہر تھا. سامنے ایک بوسیدہ عمارت تھی جہاں پر ہر روز جانے کتنی ہی کلیوں کو نوچا جاتا تھا. بدن سے گوشت کے ساتھ ساتھ روح نوچنے والے اس پہر بھی یہاں موجود تھے. اسی عمارت کے کونے میں ایک ہال نما کمرہ تھا جہاں محفل جمی ہوئ تھی اورہر عمر کے مرد حضرات موجود تھے جن میں اکثر تو نشے میں تھے. پیروں میں گنگھرو باندھے, چہرے پر گنگھٹ سجاۓاور ہونٹوں پر تبسم سجاۓ شیبا کا رقص جاری تھا. جب سے شیبا نے کوٹھے پر قدم رکھا تھا تب سے یہاں تو ہر دوسرے دن اس کا مجرا ہوتا . اس نے آتے ہی سب کو اپنا دیوانہ بنا دیا تھا- اس کی ویران آنکھوں میں جھانکنے والا آج بھی موجود تھا لیکن وہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی نہیں تھی. اس نے بہت سی طوائفوں کے خوابوں کے محل کو ٹوٹتے دیکھا تھا. مگر دل تھا کہ بےقرار ہو رہا تھا.... پیاس تھی کہ بجھ نہیں رہی تھی.... تشنگی تھی کہ بڑھ رہی تھی...
-------------------------
ذمل شاہ صاحب کی اکلوتی صاحبزادی تھی. شاہ صاحب ہنزہ سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے علاقے میں ان کا خاص مقام تھا. ان کی حویلی پر ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم ہوتا تھا جو اپنی مرادیں لے کر آتے اور کوئ بھی عقیدت مند خالی ہاتھ نہ لوٹتا. شاید اسی لۓ آپ پر اللہ کا بڑا کرم رہتا.
ذمل کو بچپن سے ہی فائن آرٹس کا شوق تھا اسی لۓ وہ ہمیشہ ہی گھر میں کچھ نہ کچھ جدت ضرور لاتی رہتی... کبھی پورے گھر کے پردے کارپٹ بدلوا دیتی تو کبھی کوئ ڈیکوریشن آئیٹمز بنا دیتی....
ذمل نے اپنی سہیلی پری کی مدد سے مانچیسٹر سکول آف آرٹس میں آن لائن اپلاۓ کیا. اسے کامل یقین تھا کہ وہاں اس کو داخلہ نہیں ملے گا مگر شاید قسمت اس پر مہربان تھی اسی لۓ چند روز میں ہی اسے بذریعہ ای میل داخلے کی اطلاع موصول ہوئ جس کے مطابق اگلے چند روز میں اسے تمام تر فارمیلٹیز کے ساتھ ساتھ فیس بھی جمع کروانی تھی ورنہ اس کی جگہ کسی اور کا نام آ جاتا. فیس کا تو خیر کوئ مسئلہ نہیں تھا, سارا مسئلہ تو شاہ صاحب کی اجازت کا تھا. اسے لگا کہ اگر شاہ صاحب کو خبر ملی تو وہ اسے کبھی بھی اتنے دور نہیں بھیجیں گے مگر اس کے بات کرنے پر معاملہ برعکس نکلا. شاہ صاحب کو ذمل پر بہت فخر ہونے لگا اور انہوں نے خوشی خوشی اسے اجازت دے دی اور اسی خواب کی تکمیل کے لئے وہ مانچسٹر روانہ ہو رہی تھی....
------------------------
ذمل ٹشو بیگ میں واپس رکھ رہی تھی کہ اچانک ایک مردانہ آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائ.
"لگتا ہے آپ کو گھر کی یاد ستا رہی ہے. اس طرح رونے سے سفر کیسے کٹے گا." آواز میں اتنی اپنائیت تھی کہ ذمل کو وہ اجنبی کوئ بہت قریبی لگنے لگا.
"اب ہر کوئ آپ کی طرح تو نہیں ہوتا." کانچ کی گڑیا نے جواب دیا.
"باۓ دا وے آئ ایم ارش مصطفیٰ فرام کراچی اینڈ یو؟؟ " سوال پوچھنے والا جواب کا منتظر تھا مگر کوئ جواب نہ آیا....
چند لمحوں بعد ذمل نے گلا کھنکارا اور جواب دیا "ذمل فرام ہنزہ"
"اوہ واؤ ہنزہ از ماۓ ڈریم پلیس" ارش کی آنکھوں کی چمک ذمل نے محسوس کی اور اس نے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا.
"آپکو شاید کوئ جوک یاد آ گیا ہے مجھے بھی بتائیں ناں مس ذمل." ارش شرارت کا عنصر لئے ہوۓ تھا.
"جب خواب تکمیل کے مرحلے پر ہوں تو مسکان اپنا راستہ بنا لیتی ہے مسٹر ارش." ذمل نے سنجیدگی سے جواب دیا.
" کیا آپ اپنے خواب شیئر کرنا پسند کریں گی؟؟" ارش کو اس معصوم لڑکی کے خوابوں تک رسائ حاصل کرنا تھی.
"کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں مسٹر ارش.؟؟ ذمل اس سے بیزار آ چکی تھی اس لئے سوال پر سوال کیا.
"Maybe in future if you allow"
ارش مسکراہٹ دبا کر بولا.
"اب اگر آپ نے ایک لفظ بھی بولا ناں تو......." ذمل کا پارہ ہائ ہو گیا تھا. اس کے ساتھ بیٹھا شخص اس کی برداشت سے باہر تھا. اس نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا. وہ ابھی اور بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر ان آنکھوں کی نمی دیکھ کر خاموش ہی رہی.
اس کے بعد ارش نے معذرت کی اور کرب سے آنکھیں میچ لیں. وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی چھوٹے سے مذاق کو اس قدر سنجھیدگی سے لے گی. باقی کا سفر بہت خاموشی سے طے ہوا اور پتا ہی نہیں چلا کب مانچیسٹر ائرپورٹ آگیا.

ذمل ائرپورٹ سے سیدھی اپنےمطلوبہ ہاسٹل کے لیئے روانہ ہو گئ. شاہ صاحب نے پہلے سے ہی ڈرائیور کا انتظام کر رکھا تھا. اپنے شہر سے باہر جانا تو کوئ بڑی بات نہیں تھی البتہ سات سمندر پار وہ پہلی مرتبہ آئ تھی. وہ ڈر رہی تھی کہ پتہ نہیں ہاسٹل کس طرح کا ہو گا اور یہاں کے لوگ کس طرح کے ہوں گے. پورے راستے وہ یہی سب سوچتی رہی اور کب ہاسٹل آیا پتا ہی نہیں چلا. اسے تب ہوش آیا جب ڈرائیور نے ہارن دے کر اسے متوجہ کیا. وہ اپنا سامان لے کر اتری اور کافی دیر بت بنی کھڑی ہاسٹل دیکھتی رہی. اس کے اندر خوف کی لہر نے پھر سے سر اٹھانے کی کوشش کی مگر اس نے اسے کچل دیا اور اندر کی جانب بڑھ گئ. اپنا کمرہ ڈھونڈنے میں اسے دس منٹ لگے اور بلآخر وہ کمرے میں پہنچ ہی گئ. اپناسامان رکھنے کے بعد وہ شاور لینے چلی گئ اور جب واپس لوٹی تو وہاں ایک اور لڑکی کو پایا. وہ کافی خوش شکل لڑکی تھی. اس نے مسکرا کر اپنا تعارف کروایا.
"ہاۓ ذمل میں مسکان ہوں اور میں انڈیا سے ہوں. ہم دونوں یہ روم شیئر کریں گے"
"تم یہ بتاؤ کہ میرا نام کیسے جانتی ہو..؟؟" ذمل نے سرد مہری سے پوچھا.
"وہ میں تمہارے آنے سے پہلے ہی الاٹمنٹ لسٹ دیکھ چکی ہوں اور کافی دنوں سے تمہارا انتظار کر رہی تھی." مسکان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ..
"اچھا سہی ہے مجھے کچھ دیر سونے دو, پہلے ہی بہت تھک چکی ہوں." ذمل نے سنجھیدگی سے کہا. مسکان کو ذمل کے اس رویے سے بہت تکلیف پہنچی . اس نے سوچا تھا کہ آج کی رات وہ دونوں اپنے اپنے شہر کی باتیں کریں گی مگر ان بھوری آنکھوں والی لڑکی نے تو کچھ دیر بھی اس سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ ان بھوری آنکھوں والی لڑکی سے وہ دوستی ضرور کرے گی.
--------------------------
ہم نے دیکھا تھا فقط شوق کی خاطر
یہ نہ سوچا تھا کہ تم دل میں اتر جاؤ گے
اتنے لمبے سفر کے بعد وہ کافی تھک گیا تھا اور سونا چاہتا تھا مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی. اس کی آنکھوں میں ایک ہی عکس سما گیا تھا اور وہ اس عکس کو اپنے روبرو چاہتا تھا. اسے دیکھنے کی طلب بڑھ رہی تھی مگر وہ آنکھوں میں سما کر بھی بہت دور محسوس ہونے لگا. اس نے دل سے دعا کی کہ کاش وہ اس چہرے کو بار ہا دیکھے اور شاید وہ لمحہ قبولیت کا تھا اسی لیۓ اگلے ہی دن اس کی دعا رنگ لے آئ اور ارش کو ذمل کا دیدار میسر ہوا....
-------------------------
ارش مصطفیٰ پاکستان کے معروف بزنس مین احمد مصطفیٰ کا صاحبزادہ تھا. وہ تین بہن بھائ تھے. اس کا بڑا بھائ احمر والد کے ساتھ بزنس سنبھالے ہوا تھا اور چھوٹی بہن اقصیٰ میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی. اس کی والدہ شہربانو ہاؤس وائف تھیں اور انھوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں کوئ کمی نہیں چھوڑی تھی. ارش ہمیشہ سے ہی بہت حقیقت پسند تھا. وہ نہیں جانتا تھا کہ جہاز پر اس کے نشست کے ساتھ بیٹھی لڑکی کیوں اس کی آنکھوں میں سما گئ تھی.
----------------------
رات کو ذمل بھوکے پیٹ ہی سو گئ تھی. اس پر تو نیند کا بھوت سوار تھا اسی لیۓ صبح اٹھتے ساتھ ہی سب سے پہلے اس کا دل کچھ کھانے کو چاہا. مسکان چاۓ بنا رہی تھی. ذمل جلدی سے فریش ہو کر آ گئ. مسکان نے ذمل کو دیکھتے ہی جلدی سے کپ میں چاۓ نکالی اور ساتھ میں بریڈ اور بٹر بھی لے آئ. جانے کیوں وہ بھوری آنکھوں والی لڑکی کو ناراضگی کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی.
ذمل نے محسوس کیا کہ مسکان کچھ بجھی بجھی سی تھی. رات والی مسکراہٹ کی جگہ اب سنجیدگی آ گئ تھی . اسے اپنے رات والے رویے پر شرمندگی ہونے لگی. اس نے سوچا کہ کیا تھا اگر وہ دو منٹ اس لڑکی سے اچھے سے بات کر لیتی. اس نے اپنے رات والے رویے پر معافی مانگی اور مسکان نے خوشدلی سے اسے معاف کر دیا. اس نے ذمل کو دوستی کی پیشکش کی جو اس نے فوراً قبول کر لی کیونکہ وہ اب اس لڑکی کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی.
ناشتے کے بعد وہ دونوں تیار ہونے لگیں. ذمل نے گرین شرٹ کے ساتھ سکن ٹائٹ پہنا اور اپنے جھیل جیسے بالوں کو شولڈر پر کھلا چھوڑ رکھا تھا. اس کے کانوں میں ڈائمنڈ کے ٹاپس ہمیشہ موجود رہتے جو اسے بابا جان نے پچھلی سالگرہ پر دیۓ تھے. آنکھوں میں کاجل ذمل کے سراپے کو مزید دلکش بنا رہا تھا. اس نے ہینڈ بیگ لیا اور مسکان کا انتظار کرنے لگی. وہ حسن کا مکمل پیکر لگ رہی تھی.
تھوڑی ہی دیر میں مسکان بھی آ گئ اور اسے دیکھتے ہی حلق سے چیخ نکل گئ.
"اوہ ذمل یہ تم ہو. آئ وونٹ بلیو کہ کوئ اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے."
"ہاہا یار کسی کا تو مجھے پتا نہیں مگر ذمل اتنی ہی خوبصورت ہے." ذمل نے بھی مسکراہٹ دبا کر جواب دیا.
"سچ میں یار خدا نے تمہیں کتنا مکمل تخلیق کیا اور ایک میں ہوں." مسکان نے پھر سے ذمل کی تعریف کی.
"اچھا یار یہ حسن کے قصیدے پھر کبھی. ابھی چلو پہلے ہی ہم لیٹ ہو چکے ہیں." وہ دونوں ایک ساتھ ہنس دیں.
ان کا آرٹس سکول بیس منٹ کی واک پے تھا. موسم کافی خوشگوار تھا جسکی وجہ سے وہ دونوں موسم انجواۓ کر رہی تھیں. ذمل کو مانچسٹر بہت خوبصورت لگنے لگا اور آج وہ کل کی طرح پریشان بھی نہیں تھی. شاید یہ مسکان کا ساتھ تھا جو اسے حوصلہ دیۓ ہوا تھا. قدرت بھی انسان کو ایسے موقعے پر نوازتی ہے جب وہ بالکل نا امید ہو جاتا ہے.
کل مسکان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ واپس لوٹ جاۓ مگر آج وہ اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوۓ دیکھنا چاہتی تھی... اس کا آرٹس سکول اس کے بالکل سامنے تھا اور یہ سب اسے خواب لگ رہا تھا.
-------------------------
نور محمد کو کوٹھے پر آۓ دوسرا مہینہ تھا. پہلی مرتبہ تو وہ دوستوں کے کہنے پر آیا تھا مگر اس نازنین کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد اسے کچھ دکھائ نہ دینے لگا. اسکا دل ہر کام سے اچاٹ ہونے لگا اور وہ صرف اس نازنین کے بارے میں سوچنے لگا. وہ خود کو کائنات کی ایسی نا مکمل تخلیق سمجھنے لگا جسے مکمل ہونے کے لۓ شیبا کی اشد ضرورت تھی. شیبا نے بھی اس کے پیغامِ الفت تک رسائ حاصل کر لی تھی مگر اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ خوابوں کی رنگین دنیا میں قدم رکھتی. وہ جانتی تھی کہ طوائفوں کے خواب بھی ریت جیسے ہو تے ہیں جو بکھرنے میں زیادہ وقت نہیں لیتے. خدا کی اس بھری دنیا میں ایک طوائف کے جسم کو نوچنے والے بھیڑیۓ تو بہت ہیں مگر بیوی بنا کر رکھنے والے بہت نایاب..شاید صفر... اس نے اپنی ساری ذندگی کوٹھے کے نام کر دی تھی جہاں سے رہائ کی صرف ایک ہی صورت ممکن تھی...... موت جو کہ ہر قدم ہمارا تعاقب کیۓ ہوۓ ہے...

ذمل اور مسکان کے کالج پہنچنے تک گھڑی کی سوئیاں دس بجا چکی تھی. مسکان اپنے ڈیپارٹمنٹ میں چلی گئ تو ذمل بھی اپنی کلاس ڈھونڈنے لگی. اس نے نوٹس بورڈ سے ٹائم ٹیبل دیکھا. سر رابرٹ کی کلاس شروع ہوۓ دس منٹ ہو چکے تھے. وہ تیز قدموں کے ساتھ کلاس کی جانب چلی گئ. کلاس میں اس نے قدم رکھا ہی تھا کہ کہ سر رابرٹ نے اسے روک لیا اور باہر نکل جانے کو کیا. انھوں نے کہا کہ جس سٹوڈنٹ کو وقت کی پابندی کا احساس نہیں وہ بے شک کلاس میں نہ آۓ. آج اس کا پہلا دن تھا اسی لیۓ اس دن کو یادگار بنانے کے لیۓ وہ بہت کچھ سوچ کر آئ تھی مگر پوری کلاس کے سامنے اتنی عزت افزائ کے بعداس کا سارا موڈ خراب ہو گیا. اس کا رونے کو بہت جی چاہا. بابا جان سے اتنے دور وہ آ تو گئ تھی مگر یہاں کوئ بھی اس کا اپنا نہیں تھا. وہ باہر نکل گئ اور لان میں جا کر ایک بینچ پر بیٹھ گئ. اس نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنے آنسوؤ ں کو باہر کا راستہ دیا. آنسوؤں کا بند تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. جب وہ جی بھر کر رو لی تو اس نے سوچا کہ ایک دفعہ پورا کالج تو دیکھ لے. وہ بینچ پر سے اٹھی اور اندر کی جانب بڑھ گئ. تھوڑا آگے جا کر اسے اپنا وجود کسی کی نظروں کی ذد میں آتا محسوس ہوا مگر اِدھر اْدھر نظر دوڑانے پر اْسے کوئ نظر نہ آیا تواسے یہ اپنا وہم لگا. اس نے اس خیال کو جھٹک دیا اور آگے بڑھ گئ.
ذمل کو جب کیفے نظر آیا تو اس کی بھوک بڑھ گئ اور وہ کچھ کھانے کے خیال سےاس طرف چلی گئ. کیفے پہنچنے پر اسے مسکان بھی نظر آ گئ. مسکان کے ساتھ کوئ لڑکا تھا جسے دیکھتے ہی ذمل کے ذہہن میں وہی پاکستانی سوچ آ گئ کہ شاید وہ اس کا بواۓ فرینڈ ہو تو کیوں وہ کباب میں ہڈی بنے... وہ بھی انڈین کباب میں پاکستانی ہڈی....اسی لیۓ وہ اکیلی ہی بیٹھ گئ اور ہاٹ کافی کا آرڈر دیا. تین بجے تک جب وہ پورا کیمپس گھوم چکی تو اس نے مسکان کو ٹیکسٹ کیا اور دونوں ٹھنڈے موسم کو انجواۓ کرتے ہوۓ ہاسٹل آ گئیں.
------------------------
نور محمد نے سوچ لیا تھا کہ آج کچھ بھی ہو وہ شیبا تک اپنے دل کی بات پہنچا کے رہے گا. اسی لۓ مجرا ختم ہونے کے بعد وہ وہاں رک گیا اور ایک عورت نما مرد ببلی کو شیبا سے ملوانے کو کہا. ببلی نے پہلے تو بہت منع کیا کہ اگر کسی کو بھی پتا چل گیا تو اس کی خیر نہیں مگر نور محمد کے آگے اس کی مزاحمت کام نہیں آئ. بالآخر نور محمد شیبا کی خوابگاہ میں آگیا. سرخ مخملی پردوں سے سجی خواب گاہ میں جا بجا پھول بکھرے ہوۓ تھے اور کئ ایرانی فانوس سجے ہوۓ تھے جو کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کر رہے تھے. شیبا اپنے بستر پر لیٹی آرام فرما رہی تھی. وہ ابھی تک وہی کالا فراک ذیب تن کۓ ہوئ تھی جس میں ابھی کچھ دیر قبل باہر قیامت ڈھا کر آئ تھی. اس کے فراک میں جابجا نگینے لگے ہوۓ تھےاور وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی. نور محمد کی آہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئ اور وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئ .
"اوہ تو آپ بھی باقی مردوں کی طرح میری صورت کے اسیر ہو گۓ اور آج یہاں تک چلے آۓ. میں ہی پاگل تھی جو کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی. شاید بھول بیٹھی کہ مرد تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں. کتنی قیمت لگائ ہے اس جگہ تک آنے کے لۓ....." وہ دل ہی دل میں سوچ کر رہ گئ اور بولی تو صرف اتنا
"فرمایۓ حضور کس طرح سے خدمت کروں آپ کی...." اس کے چہرے پہ مخصوص مسکراہٹ سج گئ جو ہر طوائف کا خاصہ ہوتی ہے.
"آپ شاید مجھے غلط سمجھ رہی ہیں. میں یہاں......." شیبا اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول گئ
"ہاں ہم ہی شاید آپ کو غلط سمجھ بیٹھے تھے لیکن اب ہمیں سب سمجھ آ گئ ہے." اب کہ اس کی بات کی کاٹ نور محمد کو محسوس ہوئ اسی لۓ بولا
"جب سے آپ کو دیکھا ہے کچھ اور دیکھنے کو دل ہی نہیں چاہتا. مجھے کہیں پر بھی سکون نہیں ملتا اور نہ ہی نیند آتی ہے. ایسا لگتا ہے کہ اگر میں سوگیا تو آپ کو کھو دوں گا. جب یہاں سے جاتا ہوں تو لگتا ہے کہ میری روح تو آپ کے پاس ہی رہ گئ ہے, میں صرف جسم گھسیٹ ریا ہوں. آپ کے پاس آ کر میں مکمل ہو جاتا ہوں. میرے وجود کو مکمل کر دیں" نور محمد اپنے دل کا حال سنا چکا تھا اور اب وہ فیصلے کا منتظر تھا.
اس کی بات سن کر شیبا نے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا. اس لمحے وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی مگر شاید وہ کمزور پڑ رہی تھی. زندگی میں پہلی دفعہ اسے احساس ہوا کہ وہ کوئ کھلونا نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی عورت ہے جس کو محبت بھرے لمس کی ضرورت ہے. اس وقت وہ خود کو کوئ طوائف نہیں بلکہ صرف ایک عورت سمجھ رہی تھی. ایک...دو...تین... آنسو اس کی آنکھوں سے لگا تار بہنے لگے. وہ دل کو سمجھائ ساری باتیں فراموش کر بیٹھی. بس یاد رہا تو صرف اتنا کہ اس کی زندگی میں بہار نے قدم رکھ لیۓ ہیں مگر شاید خدا کو اس کی کچھ پل کی خوشی بھی عزیز نہیں تھی. اسی لیۓ ایک پل کو اس کے ذہہن میں جھماکا ہوا اور اسے اپنی اوقات یاد دلا گیا. اس نے اپنے بھیگے چہرے کو خشک کیا اور خود کو مضبوط کر کے بولی
"یہاں پر آنے کے تو بہت راستے ہیں صاحب مگر ایک دفعہ داخل ہونے کے بعد سب بند ہو جاتے ہیں"
اس کی اس بات سے نور محمد کے دل کو کچھ ہوا. اس نے سوچ لیا کہ اب وہ شیبا کو اس غلاظت سے نکال کر رہے گا.
"میرا آپ سے وعدہ ہے کہ آپ کو بہت جلد یہاں سے ہمیشہ کے لیۓ لے جاؤں گا." یہ بول کر وہ وہاں سے نکل گیا اور شیبا کے دل میں امید کا نیا چراغ تھما گیا.
--------------------------
کلاس میں سر رابرٹ کا لیکچر شروع تھا. انھوں نے کلاس سے سوال کیا کہ انسانی شخصیت میں کون سی چیز ایک آرٹسٹ تک اپنا عکس نمایاں کرتی ہے. پیٹر کر مطابق کسی انسان کی زبان ہی اس کی ساری کہانی بیان کر دیتی ہے جبکہ بیلا کے نزدیک مسکراہٹ ہی انسان کی گہرائ بیان کرنے میں اہم ہے. زبان جیسے سہارے کی ضرورت انھیں پڑھتی ہے جنہیں مسکراہٹ کی پہچان نہیں. سر رابرٹ کو شاید یہ جواب مطمئن نہیں کر رہے تھے...
پہلی رَو میں دوسری کرسی پر بیٹھے شخص کی نظروں میں بس ایک ہی عکس سمایا ہوا تھا.... بھوری آنکھوں کا عکس... جنہوں نے اسے پہلی ہی نظر میں اسیر کر دیا تھا اور جن میں اتنی کشش تھی کہ وہ پہلی نظر کی قید سے آزاد ہی نہیں ہو سکا. رابرٹ سر نے اسے مخاطب کیا تو عکس دھندلایا اور وہ حال میں پہنچ گیا
"سر میرے خیال میں انسان کی آنکھیں اس قدر جادوئ ہیں ہے کہ جب ایک آرٹسٹ انہیں دیکھ لے تو انہیں گہرائ سمیت کینوس پر اتار سکتا ہے. آنکھیں ہی انسانی شخصیت کا عکس لیۓ ہوتی ہیں اور اگر ایک آرٹسٹ ان میں چھپی تحریر کو نہ پڑھ سکے تو وہ آرٹسٹ کیسے...."
ارش ابھی جواب دے ہی رہا تھا کہ اس کی نظر دروازے سے داخل ہوتے وجود پر پڑی. اسے یہ سب نظر کا دھوکا لگنے لگا... وہ یہاں کیسے ہو سکتی ہے اور بھلا کیوں أۓ گی وہ یہاں..اسے تو اپنے خواب پورے کرنے ہیں.. تو کیا اس کا خواب سکول آف مانچسٹر ....وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا. ان کاجل نما آنکھوں میں اس قدر گہرائ تھی کہ ارش کا دل چاہا وہ ان تک رسائ حاصل کر لے. آج شاید دعا کی قبولیت کا دن تھا اسی لۓ تو کل مانگی دعا آج اس طرح پوری ہو گئ اور وہ حسن کا پیکر اس کے اتنے سامنے تھا کہ وہ اس کو چھو بھی سکتا تھا. اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا... مگر یہ کیا.... رابرٹ سر نے محض چند لمحے لگاۓ تھے اسے کلاس سے آؤٹ کرنے میں... اور وہ کچھ بول بھی نہیں سکی حالانکہ کل تو وہ کتنا بولی تھی... ارش کا جی چاہا کہ وہ سر سے پوچھے کہ کیا ہو جاتا اگر وہ اس کانچ کی گڑیا کی خاطر اپنے اصول بھلا دیتے مگر یہ اس کے اختیار سے باہر تھا.
جانے ذمل کی آنکھوں میں کیسی بے بسی اُمڈ آئ کہ ارش سے رہا نہیں گیا اور وہ بھی کلاس سے نکل گیا. وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہ سب کیا کر رہا ہے اور نہ ہی وہ کچھ جاننا چاہتا تھا. جانے اللہ نے دل بھی کیا چیز بنائ ہے کہ یہ انسان کی سوچ کے سب راستوں کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے اور انسان خود کو پنجھرے میں قید پنچھی کی مانند سمجھتا ہے, پنچھی بھی ایسا کہ اپنی اس قید سے رہائ بھی نہیں طلب کرتا... ذمل اب ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گئ اور لگاتار آنسو بہانے لگی. کاش کہ کوئ ارش سے ان آنسوؤں کی قیمت پوچھتا جو سیدھا اس کے دل پر اتر رہے تھے....کسی وحی کی صورت... کاش کہ ارش کے اختیار میں ہوتا تو وہ اسے ہی سب بتا سکتا مگر وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اس کے دو قدم قریب ہو گا تو وہ چار قدم دور ہو جاۓ گی. کتنی ہی دیر ذمل آنسو بہاتی رہی اور پھر اٹھ کر چلی گئ. ارش بھی کلاس میں آ گیا مگر وہ ارش اب بدل گیا تھا, اس کے دل کی دنیا میں اب طوفان آ گیا تھا جو کیا کچھ بہا کر لے جاۓ گا کوئ نہیں جانتا تھا.... سواۓ اس پاک ذات کے
--------------------------
آج ننھی کا رزلٹ تھا. ہر سال کی طرح اس سال بھی اُس کا رزلٹ نمایاں رہا. اس نے گوجرانوالا بورڈ میں نویں میں ٹاپ کیا تھا. اس کے گھر تو جیسے عید کا سماں تھا, سارے عزیز اور محلے والے اس کی خوشیوں میں شریک ہونے اس کے گھر جمع ہوۓ تھے.عفت نے سب کے لۓ روح افزا بنائ اور ساتھ میں چاچا شکور سے جلیبی بھی منگوائ. آج پھر سے عفت کی بیٹی نے اس کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا, اس کی خوشی دیدنی تھی.
ننھی کے ابو اسد ملک ایک کپڑے کی فیکٹری میں ملازم تھے اور وہ خود سکول سے آنے کے بعد محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی. اس کی امی عفت بہت دیندار خاتون تھیں. دو کمروں اور ایک کچن باتھ پر مشتمل کوارٹر میں چھ زندگیاں گزر بسر کر رہی تھیں.
ننھی اپنے بہن بھائیوں میں سے زیادہ ذہین تھی. اس کے چھوٹے دونوں بھائ منا اور کاکا ہر سال کی طرح اس سال بھی فیل ہوئے تھے اور بڑی بہن پروین نے تو کبھی سکول کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی.ننھی سب میں سے خوبصورت تھی اسی لیۓ اس کی سہیلیاں اسے چاند کہہ کر چھیڑتی رہتیں. محلے کے ہر اوباش لڑکے کا اس پر دل آ چکا تھا مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے گی اور اپنے اماں ابا کا نام اونچا کرے گی.
----------------------

ذمل کو کالج جاتے ہوۓ ہفتہ ہو گیا تھا اور کئ مرتبہ اُس کا ارش سے سامنا بھی ہوا تھا مگر اُن میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئ. ارش نے بارہا کوشش کی کہ وہ ذمل سے اپنے رویۓ کے لۓ معذرت کرے لیکن وہ ہمت نہیں کر سکا.
مانچسٹر میں آج مطلع کافی ابر آلود تھا, ایسا لگتا تھا بادل کھل کے برسیں گے. ذمل کا کالج جانے کو بالکل جی نہیں تھا مگر اٹینڈنس شارٹ ہونے کے ڈر سے اس کی نیند اڑن چھو ہو گئ. وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور نہانے چلی گئ. اس نے سیاہ لانگ شرٹ اور ساتھ میں جینز پہنی.آنکھوں کے گرد کاجل لگایا, لائٹ سا آئ شید لگایا اور فریش ریڈ لپ گلوس لگا کر خود کو آئینے میں دیکھتے ہوۓ سوچنے لگی کہ اگر خدا نے اُسے خوبصورت نہ بنایا ہوتا تو کیا اس بناؤ سنگھار کی کوئ اہمیت ہوتی... شاید نہیں کیونکہ لوگ سب سے پہلے چہرہ دیکھتے ہیں.... اسے اپنے حسن پر رشک آنے لگا اور اس نے مزید جاذب نظر آنے کے لۓ موسم کی مناسبت سے سیاہ لانگ کوٹ اوڑھا اور شولڈر پر سیاہ بیگ لٹکا کر چل دی....
کلاسز ختم ہونے کے بعد وہ کیفے کی طرف قدم بڑھانے لگی.. راستے میں اسے ارش نظر آ گیا. اُسے دیکھتے ہی ذمل کے چہرے پر مسکراہٹ در آئ. آج ذمل نے اسے مخاطب کیا
"مسٹر ارش مصطفیٰ کیسے مزاج ہیں آپ کے..؟؟"
ارش اُس کے اسطرح مخاطب کرنے پر بوکھلا گیا اورسپاٹ چہرے کے ساتھ بولا
"بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے...."
اس کی آواز شاید ذمل تک نہیں پہنچی اسی لۓ اس وہ بولی
"لاؤڈ پلیز..."
"وہ ایکچولی اُس دن کے لیۓ....." ذمل نے بیچ میں ہی اس کی بات کاٹ دی
"اوہ تو آپ معافی مانگنا چاہ رہے ہیں... انٹرسٹنگ." ذمل کافی بدلی بدلی سی لگ رہی تھی. یہ لہجہ تو کسی اور کا ہی تھی. آج اس لہجے میں ارش کو پرانی ذمل کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی.
"ہاں معافی تو مانگ رہا ہوں اور اس دن بھی مانگی تھی. شاید آپ نے وہ بات دل پر ہی لے لی تھی. میرا وہ مقصد بالکل بھی نہیں تھا." ارش کا لہجہ اب معذرت لیۓ ہوۓ تھا.
"جاؤ معاف کیا. اب میرا دل اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے کہ معاف نہ کر سکوں." مسکراہٹ نے پھر سے ذمل کے ہونٹوں کا رخ کیا. ارش نے اس لمحے کے کبھی نی ختم ہونے کی دعا مانگی مگر وقت کب بھلا کسی کے لۓ رکتا ہے...
"تھینک یو.
"Would you like to have some coffee with me..??"
"نیکی اور پوچھ پوچھ...." ذمل بھی پھر اپنے نام کی ایک تھی.....
باتیں کرتے کرتے وہ کیفے تک آ گۓ. آج کا دن ارش کے لۓ بہت خاص تھا. آج ذمل اُس کے سامنے والے ٹیبل پر تھی اود اپنی مرضی سے اُس کے ساتھ لمحوں کو بانٹنے آئ تھی. ارش کے لیۓ یہ سب کسی معجزے سے کم نہیں تھا.
"شکر ہے ایک پہاڑ تو سر ہوا." وہ دل ہی دل میں خوش ہوا.
"جی تو مسٹر ارش مصطفیٰ آپ کے کراچی میں تو ایک عدد سمندر بھی ہے. کتنا اتراتے ہو نہ تم لوگ اس پر جیسے سمندر نہ ہوا کچھ اور ہی ہو گیا." ذمل نے بھی کراچی والوں کو اس میں شامل کر دیا تھا. اب بھلا اُس کو کون بتاتا کہ ارش اُن میں سے نہیں ہے جنہیں اس سب پر ناز ہو.. جواب تو ارش کو ہی دینا تھا اسے لیۓ بولا
"کبھی کراچی آنا ہوا تو دیکھ لینا کہ سمندر اتنا بڑا ہے کہ اس پر اُترایا جا سکے .."
"مجھے کوئ شوق نہیں کراچی وراچی کا. ہمارے ہنزہ میں اتنی جھیلیں ہیں کہ گننے لگو تو گنتی ختم ہو جاۓ گی مگر جھیلیں نہیں. کبھی آنا ہنزہ میں تو دیکھ لینا خود ہماری جھیلوں کا سمندر سے کیا مقابلہ..." ذمل نے اتنا ذوردار قہقہہ لگایا کہ ارش کو حیرت ہونے لگی...
"خدایا آج سورج کہیں مغرب سے تو نہیں نکل گیا یا نکلنا ہی بھول گیا..." ارش دل ہی دل میں بولا.
"جی تو ذمل کب بلا رہی ہیں پھر آپ ان جھیلوں کی سیر کروانے. ہم کراچی والوں کو بھی تو یہ کرشمے دکھائیں.. "
ارش نے مسکراہٹ دباۓ, سنجیدہ چہرہ لیۓ پوچھا.
"جب آنا چاہو آ جانا مجھ سے امید نہ رکھنا کہ میں انوائیٹ کروں گی یا ہنزہ میں کہیں ملوں گی بھی..." ذمل نے کافی ختم کی, بیگ شولڈر کے ساتھ لگایا اور اٹھ کر جانے لگی تو ارش بولا
"اب دعوت دی ہے آنے کی تو بلائیں گی بھی آپ..." ان دونوں میں بے تکلفی کافی حد تک بڑھ گئ تھی اور انہیں پتہ بھی نہیں چلا...
"امپاسیبل...." دونوں مل کر ہنسے لگے اور وہاں سے اٹھ کر چلے گۓ....
-------------------------
شیبا کے دل کی دنیا میں امید کی کرن تھما کر نور محمد کہیں غائب ہی ہو گیا. مہینہ گزر گیا تھا مگر اُس کی کوئ خبر نہیں ملی. شیبا کا دل انجانے وسوسوں کا شکار ہو گیا تھا. وہ دن رات اُس کے آنے کی دعائیں مانگتی مگر سب بے سود.... اُس کے پاس انتظار کرنے کے سوا کوئ چارہ نہیں تھا. آخر دو مہینے بعد شیبا کے دل کو قرار آ ہی گیا... نور محمد لوٹ آیا تھا مگر اُس کی حالت بہت ابتر تھی.... ایسے لگتا تھا جیسے میلوں کا تھکا مسافر گھر کو لوٹتا ہے... شیبا سارے گلے شکوے بھول گئ. اُس سے نور محمد کی یہ حالت دیکھی نہیں گئ
"کیا حالت بنا دی ہے آپ نے اپنی.... اپنا نہ سہی میرا خیال تو کر لیتے.... کتنا پریشان تھی میں آپ کے لیۓ, سب خیریت تو ہے نہ بتائیں مجھے... کیا ہوا ہے آپ کی زندگی میں...." شیبا ایک دم رو دی تو نور محمد نے اُسے سینے سے لگا لیا اور بولا
"میری امی مجھے چھوڑ کر چلی گئ ہیں شیبا... کیسے بتاؤں میں تمہیں کیا تھی وہ میرے لیۓ... اللہ نے انہیں اتنی جلدی کیوں بلا لیا... دس سال پہلے ابا اور اب امی..." شیبا نے اُس کے آنسوؤں کو بہہ جانے دیا اور خود بھی آنسو بہانے لگی... کتنی ہی دیر بعد وہ بولی
"آپ کی امی اللہ کو اتنی پیاری تھیں نور کہ اللہ نہ انھیں بلا لیا... جانے والوں کو روکنے کا اختیار کسی کے پاس بھی نہیں.. اللہ قران میں فرماتا ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے..... ہم انسان اتنے ناشکرے کیوں ہوتے ہیں نور... اللہ نے اتنے سال آپ کو آپ کی امی کا ساتھ دیا, میں بھی تو ہوں, میری ماں بھی نہیں رہی مگر میں نے اللہ سے شکوہ نہیں کیا... جانتے ہو کیوں... ؟؟؟" بھیگے چہرے کے ساتھ وہ پوچھنے لگی.
"کیوں شیبا.. " نور محمد نے استفسار کیا.
"کیونکہ اتنے سال میری اماں میرے ساتھ تھی تو میں نے ایک دفعہ بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کیا کہ اُس نے مجھے اتنی بڑی نعمت دی تو کیوں میں اُسے بلانے پر اللہ سے گلہ کروں .... میں بھی اماں سے بہت پیار کرتی تھی لیکن میں نے خدا کے فیصلے کو تسلیم کیا. ہم انسانوں کے پاس کوئ اور چارہ نہیں ہے نور...."
شیبا کی باتیں نور محمد کے دل پر حرف بہ حرف اترنے لگیں. اُس کے دل میں شیبا کی قدر اور بڑھ گئ. کچھ ہی دنوں میں اُس کے پیار بھرے لمس نے نور محمد کی زندگی کو پھر سے نارمل کر دیا....
-------------------------
ننھی کو شہر کے سب سے بڑے کالج میں پری میڈیکل میں داخلہ ملا تھا اور اسکی تعلیم بھی فری تھی. ہر ایک اُسے رشک کی نگاہ سے دیکھتا سواۓ پروین کے. پروین ہمیشہ سے ہی اپنی بہن سے حسد کرتی تھی. وہ اکثر ننھی کی سکول کی کتابیں چھپا دیتی تا کہ سکول میں اُسکی بے عزتی ہو مگر ایسا کبھی نہیں ہوا. بچپن میں جو بھی چیز ننھی کے لیۓ آتی پروین اُسے اپنے لیۓ پسند کر لیتی. ننھی کو اپنی بہن سے بہت پیار تھا اسی لیۓ وہ کبھی اسےمنع نہ کرتی. عفت بھی پروین کو ہمیشہ سمجھاتی رہتی مگر سب بے سود.. ننھی نہیں جانتی تھی کہ پروین اس کی بہن نہیں ایک ناگن ہے جو اُسے ذلت کے گھڑے میں ڈال دے گی....
ننھی کافی دیر سے بس سٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی مگر آج بس آنے میں کافی دیر ہو گئ تو اُس نے سوچا رکشے پر چلی جاۓ. وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ کسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا.... اس کی سانسیں رک گئ.... قدم جکڑ گۓ.. خوف کی لہر اس کے پورے وجود میں پھیل گئ.....
"آج تو جان چلی جاۓ گی..." اس نے دل میں سوچا اور پیچھے مڑی....
"تم...." اس کے حلق سے زوردار چیخ نکلی....


Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post