Dua O Miraag Ep No 1 | Urdu Novels

Dua O Miraag Ep No 1 | Urdu Novels



دعا و معراج
از قلم خانزادی
قسط نمبر 1

دعا !!!!!!
بیٹا اٹھ جاوں اور کتنا سو گی صبح کے 12 بجے ہیں۔۔۔۔اور تم اب تک سو رہی ھو۔۔۔۔۔
سبا بیگم نے کمرے کے پردے ہاٹتے ھوئے بولا۔۔۔
نا جانے کب بڑی ھوگئ یہ لڑکی۔۔۔۔۔
دعا اٹھو بیٹا !!!!
صبا بیگم بیڈ کے پاس آئ اور رضائ ہٹا کر بولی۔۔۔۔
بییڈ پر دعا نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ تکیے لگے تھے۔۔۔صبا بیگم ابی حیران ہی ھو رہی تھی کہ اچانک سے ان کو پیچھے سے اکے کسی نے کندھو سے پکڑ لیا اور بھوووو کر کے دڑانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
صبا بیگم کافی حد تک در گئ تھی۔۔۔۔اور صبا بیگم کا در دیکھ کر دعا زور زور سے ھنس نے لگی۔۔۔۔
اف دعا!!!
نا جانے تم کب بڑی ھوگی ؟؟؟
صرف تمھارا قد بڑھ گیا ھے ورنہ دیماغ سے تو تم ابی بھی چھوٹی سی بچی ھو۔۔۔۔صبا بیگم نے دعا کا ایک کان پیار سے پکڑ کر کہا ۔۔۔۔۔
اچھا اچھا سوری سوری امی !!!!
اب نہیں کروں گی بابا کان تو چھوڑ دیں۔۔۔۔۔
صبا بیگم نے ھنستے ھوئے اس کا کان چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
میری پیاری امی جان اپ کو جب مجھ پر غضہ اتا نہیں تو کیوں ناکام کوشش کرتی ھیں آپ ؟؟
دعا نے صبا بیگم کو پیار سے اپنے بیڈ پر بیٹھاکر بولا اور اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا۔۔۔۔
دعا میری بچی مھجے کبھی کبھی تمھارے لاوبالی پن سے بہت در لگتا ھے۔۔۔۔۔
اف میری پیاری امی !!!!
اپ اتنی فکر کیوں کرتی ھے۔۔--۔دعا نے سر اٹھا کر صبا بیگم کو دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر انکھیں مٹکا کر بولی۔۔۔۔۔۔۔۔
بس یہ ہی عمر ھے کھیلنے کود نے کی کیا پتہ کل ھو نا ھو۔۔۔۔۔
دعا نے جان کر صبا بیگم کو تنگ کرنے کے لیے بولا ۔۔۔۔۔۔
صبا بیگم نے دعا کو گھورتے ھوئے کہا کتنی بار مانا کیا ھے منہ سے غلط الفاظ نا نکالا کرو۔۔۔۔
ہی ہی ہی !!!
دعا کو جب اس طرح پیار ملتا تو وہ بہت خوش ھوتی۔۔۔۔۔اچھا اب جاو اور جا کر فریش ھو کر نیچھے آوں میں ناشتہ بنا کر رکھ رہی ھو۔۔۔اج تمھاری پھوپو نے بی انا ھے۔۔کپڑے بدل کر انا۔۔ایسی نائٹ سوٹ میں نا اجانا۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ٹھیک ھے ۔۔۔
امی بس میں چینج کر کے ائ دعا نے کھڑے ھو کر بالوں کی پونی باندھتے ھو کہا اور اٹھ کر الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔۔۔۔ صبا بیگم نیچھے چالی گئ۔۔۔۔۔۔۔اور دعا کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا اپنے گھر کی سب سے چھوٹی اور اکلولتی بچی تھی۔۔۔۔۔۔۔صبا بیگم اور زبیر صاحب دونوں دعا کو بہت چھاتے تھے۔
۔۔۔دعا کا ایک بھائ بی تھا جو تعلیم کے غرض سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
اس لیے دعا اپنے ماں باپ کے کیے بہت خاص تھی۔۔۔۔۔ویسے تو زبیر صاحب join family system میں رہے تھے لیکن پورشن سب کے الگ الگ تھے زبیر صاحب اور عزیر صاحب دو بھائ تھے۔۔۔اور خیر سے دونوں گھرانوں میں بہت محبت تھی اور دونوں ہی گھرانوں میں دعا بہت لاڈلی تھی۔۔۔۔۔۔کیونکہ عزیر صاحب کے دو بیٹے تھے وقاس ،انس اور ایک بیٹی انشا تھی۔۔۔جب کے زبیر صاحب کی ایک بیٹی دعا اور ایک بیٹا سلمان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ ایک خوش گوار فمیلی تھی۔۔رہتے الگ الگ تھے پر کھانا پینا ایک ساتھ تھا۔۔۔۔۔عزیر صاحب کی فمیلی نیچھے والے پورشن میں رہتی تھی اور زبیر صاحب کی فمیلی اوپر والے پورشن میں رہتی تھی۔۔۔۔انشاء اور دعا کی بہت دوستی تھی دونوں ساتھ کالج جاتی تھی۔۔۔۔۔۔لیکن دعا سب کی زیادہ لاڈلی تھی اس کی ہر ادا دل موم کرنے والی ھوتی تھی تبی سب اس سے بہت پیار کرتے تھے۔۔۔۔اور اس بات سے انشاء کو کبھی کبھی دعا سے بہت جلن ھوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بی دونوں میں بہت دوستی تھی۔۔۔۔۔....
--------------------
دعا نھہ دھو کر باہر نکلی ۔۔۔۔۔تو ظہر کا وقت ھوچکا تھا۔۔۔۔۔اس نے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر نیچھے آگئ۔۔۔نیچھے ائ تو انشاء پھلے ھی کھانے کی میز پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔اس نے اتے ھی بڑی ماما اور اپنی امی کو سلام کیا۔۔۔وہ اپنی تائ جان کو بڑی امی بولتی تھی۔۔۔۔اور ان سے بھی بہت پیار کرتی تھی۔۔۔۔ان کو بلکل اپنی امی جیسا مانتی تھی۔۔وہ بات الگ ھے کے دعا کی تائ عفت بیگم نے کبھی اسکو انشاء نا سمجھا تھا۔۔۔بس گھر میں وہ اور انشائ تھی جو دعا سے جلتے تھے۔۔۔۔دعا یہ بات جانتی تھی۔۔۔
لیکن پھر بی ان دونوں سے بہت پیار کرتی تھی۔۔۔۔
دعا کی یہ عادت اچھی بی تھی اور بری بھی کے وہ کسی کا برا نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔۔وہ۔کسی کو دکھ میں دیکھتی تو خود رو دیتی تھی۔۔۔۔۔وہ۔سب کے ساتھ اچھا کرنا چاھتی تھی۔۔۔۔اور اسکا مانا تھا اچھائ اپنے اپ کو منوا لیتی ھے اور جیت پھر اچھائ کہ ھوتی ھے۔۔۔۔۔۔
دعا کے سلام کے جواب میں عفت بیگم نے صرف سر ہلا کر جواب دیا تھا۔۔۔جب کے انشاء نے فورن کہا لو جی اگئ ھمارے گھر کی مولانی صاحبہ۔۔۔۔۔۔
دعا نے ھنس کر انشاء کو دیکھا اور اس کے ساتھ والی کرسی پر جگہ سنبھالی ۔۔۔انشو تم مجھے ہمیشہ اخر مولانی کیوں بولتی ھو؟؟؟؟
دعا نے بہت سکون سے پلیٹ اپنے اگے کرتے بولا۔۔۔۔
تو اور کیا بولو ؟؟انشاء نے چائے کا کپ ٹیبیل پر رکھتے ھوئے کہا۔۔۔
۔تم ھی تو ھر وقت مولانی بنی رہتی ھو یہ نا کرو وہ نا کرو۔۔۔۔۔۔
میری نظر میں یہ سب narrow mindness ھے اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔خد کو دیکھو تم جب بھی باہر جاتی ھو سر پر حجاب لے کر جاتی ھو۔۔۔۔اب بندے کو اس قدر بھی مزہبی نہیں ھونا چاھیے۔۔۔۔انشاء نے دعا کی طرف دیکھتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
دعا نے کہا !!! میری نظر میں یہ narrow mindness نہیں ھے۔۔۔۔میں تمھیں غلط نہیں بول رہی بس مجھے اچھا لگتا ھے خود کو چھپانا۔۔۔۔۔۔۔ابی دونوں کی بھس بڑھنے ھی لگی تھی کے اچانک سے پھوپو کی آواز پر دونوں اچھل کر اٹھی اور ان سے ملنے چلی گئ۔۔۔۔۔
اسلام علیکم پھوپو جان !!!!
دعا نے پھوپو کو سلام کیا اور پھوپو نے اس کو گلے سے لگا کر دعایئں دی۔۔۔
جب کے انشاء نے صرف اکر کہا کیا حل ھے پھوپو ؟؟؟
میں ٹھیک ھو بیٹا تم دونوں کیسی ھو ؟؟؟؟
میں ٹھیک ھو انشاء نے جواب دیا اور واپس اپنی جگہ پر اکر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔۔
ھم بلکل ٹھیک۔ھے پھوپو جان اللہ کا شکر اپ کیوں اتنے دن بعد آئ ھیں۔۔۔دعا نے پھوپو کے ہاتھ سے سامان لیتے ھوئے کہا۔۔۔۔۔۔
بس بیٹا وقت نہیں ملتا اور اب تو حاشر بی واپس ارہا ھے لندن سے میں تم سب کو ہی بتانے ائ تھی۔۔۔۔اس بات پر انشاء کے کان فورن کھڑے ھو گئے تھے۔۔۔جب کے دعا نے پھوپو کا سامان ایک جگہ رکھا اور اکر ناشتہ کرنے لگئ۔۔۔۔اوہ واہ پھوپو کب ارہا ھے حاشر ؟؟؟؟
انشاء نے پوچھا۔۔۔۔۔۔
تمھارے حاشر بھائ پرسو آرہے ھیں۔۔۔ پھوپو نے بھائی کے لفظ کو دبا دبا کر بولا۔۔۔۔تو دعا کو ایک دم ھنسی اگئ جب کے انشاء کو حد سے زیادہ غصہ ایا۔۔۔۔۔پھوپو پھر دعا سے باتوں میں لگ گئ۔۔۔
----------☆☆☆☆
اسکی یہ پندروی سیگرٹ تھی وہ پچھلے دو گھنٹوں سے بیٹھا سیگرٹ پر سیگرٹ پھوکا جا رہا تھا۔۔۔۔پورے کمرہ میں دھوا بھرا ھو ا۔۔۔۔وہ easy چیر سے سر ٹکا کر بیٹھا کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
بکھرے بال، بکھرا حولیا۔۔۔۔
وہ بہت بیمار اور اپ سیٹ دکھائ دے رہا تھا۔۔۔۔اس کی انکھیں لال ھو رہی تھی۔۔۔
وہ ناجانے کب سے نہیں سویا نہیں تھا۔۔۔۔۔ابی وہ کچھ سوچ ھی رہا تھا کے اچانک اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ھوئ اور کوئ اندر آیا۔۔۔۔۔جو کمرے میں داخل ھوا تھا اس کے لیے سانس لینا مشکل ھو رہا تھا اس لیے اس کو کھانسی لگ گئ۔۔۔۔
اف معراج !!!! اھو اھو اھو۔۔۔۔
آسیہ بیگم سے بولا نہیں جا رہا تھا اس لیے ان ھونے جلدی سے اگے بڑھ کر کمرہ کی کھڑکیاں کھول دی...اور کمرہ ایک دم روشن ھو گیا۔۔۔۔
ما ما please leave me alone
اپ کو کتنی بار کہا ھے میں نے مجھے نفرت ھے اس روشنی سے باہر کی دینا سے۔۔۔۔۔
اپ کیوں مجھے تنگ کرنے اجاتی ھیں۔۔۔۔۔معراج نے غصہ سے تقریبن چیختے ھوئے کہا۔۔۔۔۔
راج میرے بیٹے تم ایسے تو نہیں تھے۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا ھو گیا ھے تمھیں میری جان۔۔۔۔۔۔؟؟
ماما please مجھے کسی سے کوئ بات نہیں کرنی اپ please مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔۔!!!
اخر کب تک ؟؟؟
اخر کب تک ؟؟؟
تم۔اپنا یہ حال بنا کر رکھو گے۔۔۔۔راج ؟؟؟
صرف ایک لڑکی کی خاطر جس کو تمھاری فکر تک نیہں؟؟؟؟
معراج غضہ سے لال ھو گیا !! اپ کو کتنی بار کہا ھے میں نے ماما !!!
I don't want to talk about this....
ٹھیک ھے اپ نہیں جاتی تو میں چلا جاتا ھو ۔۔۔۔ بائیک کی چابیاں اٹھا کر راج تیزی سے بہار نکل گیا۔۔۔۔
آسیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
یا اللہ تو ھی میری مدد کر ۔۔۔۔۔۔میرے اللہ میرے پچے کو پھر سے ویسا بنا دے جیسا وہ تھا۔۔۔۔۔میری دعا کو قبول کر لے اللہ۔۔۔۔۔
تیز رفتاری سے بائیک چلاتا وہ پتا نہیں کہا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے زہن میں پرانا وقت گھوم رہا تھا۔۔۔
راج میں اپ سے بہت پیار کرتی ھو ۔۔۔۔
راج اپ مجھے کبھی چھوڑے گے تو نہیں نا۔۔؟؟؟
میں اپ کے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتی ھوں راج !!!!!
راج جیسے جیسے سوچتا جا رہا تھا اس کی انکھوں سے انسو گرتے جا رہے تھے۔۔وہ انی سوچوں میں تھا کہ اچانک ایک کار سے معراج کی بایئک کا accicedent ھوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-----------------
اسلاماآباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔۔۔۔
سردی کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا کو یہ موسم بہت پسند تھا۔۔۔۔۔وہ اکثر زبیر صاحب سے ضد کر کے انشاء کے ساتھ باہر جانے کی اجازت لے لیا کرتی تھی اور اج بھی یہ ہی ھوا تھا۔۔۔
پاپا please جانے دیں نا ھم جلدی واپس اجائیں گے۔۔۔۔۔۔دعا نے پاپا کو مناتے ھوئے کہا ۔۔۔۔نہیں چاندہ!!! ایسے اکیلے جانا ٹھیک نہیں تم وقاس یا انس میں سے کسی کے ساتھ چلی جاو۔
۔پاپا وہ دونوں اپنے دوستوں کے ساتھ گئے ھیں ۔۔۔انشو اور میں بور ھو رہے ھیں اور ویسے بی ابی کون سا اتنا وقت ھو ھے پاپا please جانے دے..... دعا زبیر صاھب کی کمزوری تھی۔۔۔۔اور ان سے کچھ بھی منوالیتی تھی اور زبیر صاحب مان گئے لیکن ساتھ ساتھ تاکیئد بی کی کے جلدی اجانا اور گاڑی دھیان سے چالانا۔۔۔۔۔۔دعا خوشی سے پاپا کو گال پر بوسہ دے کر نکل گئ۔۔۔۔
انشاء یار آبی جاو بس کرو اب ؟؟؟؟؟ دعا انشاء کو آواز دیتے ھوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی انشاء اتی دیکھائ دی۔۔۔۔۔چھوٹی شرٹ پر کھلے بال اور ٹائٹ پینٹ پھن کر انشاء کار میں اکر بیٹھ گئ۔۔۔۔
دوپٹے کا تو دور دور تک کوئ تصور نیہں تھا۔۔۔۔۔۔۔
جب کہ دعا نے حجاب سے اپنا سر دکھا تھا اور حجاب اس خوبصورتی سے لیا تھا کہ وہ انشو سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
لائٹ پینک کلر کی لمبی شرٹ پر پینک کلر کا ھی حجاب لیے وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔دعا کا چمکتا رنگ اور جھیل جیسی انکھیں تھی۔۔۔۔۔کھڑی ناک اور پھول کی پنکڑیاں جیسے ھونٹ تھے۔۔۔۔وہ سادگی میں بھی غظب لگتی تھی۔۔۔اور اس پر اسکا خود کو دکھنا۔۔۔۔
سونے پر سوھاگا تھا۔۔۔۔۔دعا نے ایک نظر انشاء کے سراپے پر دالی اور پھر گاڑی start کر دی۔۔ابی گاڑی مین روڈ پر ہی ائ تھی کہ انشو نے کہا۔۔۔۔۔۔یار دعا کبھی تو یہ اماں پکھما بنا چھوڑ دو۔۔۔۔۔اج حجاب لینے کی کیا ضرورت تھی بس ہم دونوں ہی تو جا رہے تھے۔۔۔۔انشو میں حجاب کسی کے در سے نہیں لیتی میں اپنی خوشی سے حجاب لیتی ھو۔۔۔۔۔بس مجھے اچھا لگتا ھے خود کو دھکنا۔۔ابی وہ دونوں بات کر ہی رہے تھے کے اچانک ایک زور دار آواز نے دعا اور انشاء کے ہوش اڑا دیے۔۔۔۔۔اور پھر ایک دم !!!!!!

Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post