Israr E januon Ep no 1 | Urdu Novels

Israr E januon Ep no 1 | Urdu Novels


از قلم صالحہ منصوریقسط نمبر 1

" کم آن احمد جلدی ۔۔۔"" ۔ ہری اپ راجپوت ۔"" یس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ کالج کے اسٹیڈیم میں موجود ان درجنوں افراد کی آواز تھی جو اس کینیڈین یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے ۔ آج ان کے باسکٹ بال کا میچ تھا اور ان میں حصّہ لینے والوں میں ایک نام احمد سعد راجپوت کا بھی تھا ۔ احمد سعد خوبصورت ساخت، مظبوط جسم پرکشش وجاہت ، اور ذہین و فطین طبیعت کا مالک اس یونیورسٹی کی جان تھا ۔ یہ اس کا آخری سال تھا جب اس نے آخری بار اپنی یونیورسٹی کے میچ میں حصّہ لیا اور وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا چلا آیا تھا اس نے کامیابی حاصل کر لی ۔مجمع میں سے کسی نے کہا :-" کچھ لوگ کامیابی کے لئے بنائے جاتے ہیں لیکن اسے دیکھ کے لگتا ہے کہ کامیابی اس کے لئے بنی ہے ۔"اور وہ ان سب سے بےخبر اسٹیڈیم کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔ اس کی مسکراہٹ میں کئی خوشیاں باہم رقص کر رہیں تھیں ۔اسٹیڈیم سے فارغ ہو کر وہ اپنے روم میں آیا جہاں اس کا روم میٹ جان پہلے ہی سنگل بیڈ پر دراز موجود تھا ۔اسے دیکھتے ہی بولا :-" مبارک ہو راجپوت یہ میدان بھی مار لیا ۔" احمد نے قریب آکر اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ اس کا جسم اب تک پسینے میں شرابور تھا، مظبوط بازوؤں پر قطرے موتی سے لگتے وہ پاس پڑی بوتل سے ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گیا پھر فریش ہونے چلا گیا ۔ کینیڈا میں آج اس کا آخری دن تھا شام کے 7 بجے کی فلائٹ سے اسے انڈیا واپس آنا تھا ، اپنے ملک ، اپنے گھر اپنی خوشیوں میں اپنے لوگوں میں ۔شام میں اسے سی آف کرنے اس کے کچھ دوست بھی آئے تھے ۔ وہ سب سے باری باری گلے مل رہا تھا کانٹیکٹ میں ہمیشہ رہنے کا دوستوں کا سب سے پرانا وعدہ ، دوستی پاکیزہ اور ریا سے عاری سب سے انمول رشتہ ۔ اس کے دوستوں میں ایک عبد الرحمٰن بھی تھا جسے سبھی اس کے نام کا آدھا حصّہ ہٹا کر رحمان ہی کہا کرتے تھے ۔ اس نے احمد کے ساتھ کئی وقت گزارے تھے اس کا تعلق بنگال سے تھا لیکن گوری رنگت اور صاف زبانی کی وجہ سے بنگالی نہیں لگتا تھا ۔ اس نے احمد سے ملتے ہویے کہا :-" کینیڈا کی پہچان ، واپس جا رہے ہو تو کانٹیکٹ میں رہنا ورنہ۔۔۔۔۔۔۔" اور اسے اس ورنہ کے آگے کچھ نہیں سوجھا ۔ احمد مسکرا دیا اور اپنی جینز کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا ۔ رحمان نے دیکھا تو بے اختیار نازیبا الفاظ سے اسے نواز دیا ۔یہ رحمان کی والٹ تھی جس میں اس نے اپنی منگیتر کی فوٹو رکھی ہوئی تھی اور ایک دن یہ اس سے کھو گئی ۔اس نے خدا جانے کہاں کہاں نہ ڈھونڈا اور اب ۔۔۔۔۔ اب یہ احمد کے پاس سے ملی ۔ اس نے جھپٹ کر والٹ کھولی فوٹو وہیں تھی ۔اور سامنے کھڑا احمد قہقہہ لگا رہا تھا ۔ رحمان نے اس کی پشت پر ہلکا سا گھونسہ جڑ دیا اور خود بھی ہنس پڑا ۔ پس منظر میں اعلان ہونے لگا تو وہ دوبارہ اس سے گلے ملا اور انھیں مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر نظروں سے اوجھل ہونے لگا ۔اپنی جگہ بیٹھ کر اس نے کھڑکی سے باہر دکھائی دیتی شفق کو دیکھا ۔" ہم یہاں ضرور آئیں گے جب تم پر صرف میرا حق ہوگا ۔ " نہ جانے وہ کس سے ہم کلام تھا ۔ لیکن وہ احساس شاید اس کے لئے بہت خاص تھا اس نے جیسے تھک کر اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیری اور آنکھیں موند کر سر پشت پر ٹکا دیا ۔
*****
" آپی آپی جلدی اٹھو ۔" یہ اسریٰ تھی جو ایک نہایت خوبصورت اور کشادہ کمرے میں موجود درمیان میں پڑے بیڈ پر بیٹھی مسلسل آواز لگا رہی تھی ۔اور جب آواز پر بھی جواب نہیں آیا تو وہ کمبل میں لپٹے وجود پر ہی چڑھ بیٹھی ۔" اسریٰ اٹھو ، اٹھو پلیز میرا دم گھٹ رہا ہے ۔" کمبل سے ایک نسوانی آواز آئ ۔اسریٰ اتر گئی اور ساتھ ہی ایک جھٹکے سے کمبل ہٹ گیا ۔ بکھرے کھلے ہویے بال لئے وہ آنکھوں کو مسلتی ہوئی خمار آلود لہجے میں اپنی چھوٹی بہن سے مخاطب ہوئی :-" اب ناں میں تمہاری ابوجان سے شکایت کروں گی بہت خراب ہوتی جا رہی ہو ۔"" میرے پاس آپ کو دینے کے لئے جو خبر ہے اسے سن کر آپ شکایت بھول جائیں گی ۔" اسریٰ نے مسکراتے ہویے کہا ۔" کیا مطلب کیسی خبر ؟۔" وہ حیران ہوئی کیوں کہ عموماً ابوجان کا ذکر ہر ایک کو خوف زدہ کرنے کے لئے کافی ہوتا وہ تھے ہی اتنے غصّے والے ۔ لیکن اسریٰ پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا اور یہی بات اسے حیران کر رہی تھی ۔" ہاں ناں احمد بھائی آگئے ہیں ۔" وہ یہ کہہ کر رکی نہیں تیزی سے باہر کی جانب بھاگ گئی ۔کیا ؟ وہ واپس آگیا ہے ؟ یا اللّٰہ ! وہ جلدی سے اٹھی الماری سے چند جوڑے الٹ پلٹ کئے پھر ایک ہلکا سبز رنگ کا پاؤں کو چھوتا فراک نکالا جس پر سلور رنگ سے ہلکی ڈیزائن کی لکیر سے گلے اور کلائی کے پاس کام کیا گیا تھا باقی پورا لباس سادہ تھا ۔اس نے جلدی سے الماری بند کی اور واش روم میں گھس گئی ۔ بیس منٹ بعد وہ شاور لے کر نکلی اور سنگھار میز کے سامنے خود کو دیکھتے تیّار ہونے لگی ۔ تیار ہو کر بھی وہ بہت بےچین تھی ۔ کس سے پوچھے باہر ؟ کم بخت اسریٰ بھی کچھ بتا کر نہیں گئی تھی ۔ اس نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا بھوک تو مر ہی چکی تھی لیکن اگر ابھی کچھ نہ کھایا تو شاید شام میں شادی سے پہلے کچھ کھانے بھی نہ ملے یہی سوچ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی ۔
*****
شکیل صاحب راجستھان کے جاگیردار اور خاندانی راجپوت ہونے کے ساتھ ساتھ خاندانی رئیس بھی تھے ۔ ان کی حویلی کو لوگ عموماً راجپوت مینشن ہی کہا کرتے تھے ۔ شکیل صاحب کی تین اولادیں تھیں۔ سب سے بڑے امجد صاحب پھر سعد اور سب سے آخر میں زاہدہ راجپوت ۔ امجد صاحب اور سعد کی شادی انہوں نے اپنی مرضی سے رشتے داروں میں کی تھی البتہ زاہدہ کی شادی انہوں نے اپنے بھائی کے بیٹے سے کی۔ اپنی بیٹی کو قریب دیکھنے کی خواہش۔شکیل صاحب کی موت کے بعد بھی ان تینوں کی محبّت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ تینوں ایک دوسرے سے بلکل مختلف سے تھے ۔امجد صاحب بہت غصّے والے ، پرجلال شخصیت ۔ شاہی تمکنت والے۔ ان کی 3 بیٹیاں تھیں ۔ مریم ، عرشیہ پھر سب سے چھوٹی اسریٰ ۔ اس کے برعکس سعد صاحب قدرے آزاد خیال تھے ان کا ایک ہی بیٹا تھا احمد سعد راجپوت جس کی پیدائش کے دو سال بعد ہی عرشیہ کے پیدا ہونے پر گھر کے بڑوں نے ان کی بات چیت کر رکھی تھی اور یہ بات سبھی کے علم میں تھی کہ عرشیہ احمد کے لئے بنی ہے ۔ رہ گئیں زاہدہ بیگم جن کا نکاح ان کے تایازاد بھائی اکبر سے ہوا تھا ان کے دو ہی بچے تھے یوسف اور فرید ۔کہتے ہیں بعض اوقات بچوں کے مستقبل کا کاتب تقدیر والدین کو بنا دیا جاتا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آج امجد صاحب کی بیٹی مریم کی شادی ان کے عزیز اور مرحوم دوست کے بیٹے حسن سے کی جارہی تھی اور مریم خوش قسمت تھی کیوں کہ اسکی صرف رضا نہیں خوشی بھی تھی ۔
*****
کچن میں آکر اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر سر جھٹک کر کاؤنٹر پر رکھے جوس کو گلاس میں انڈیلنے لگی ۔ باریک سی نارنجی دھار شیشے کے گلاس میں اترنے لگی تبھی کسی نے دبے قدموں پیچھے سے آکر اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔ عرشیہ رک گئی ، یہ پرفیوم وہ شناخت کر سکتی تھی ، اس کے ہاتھ ساکت ہو چکے تھے جوس اور گلاس دونوں کاؤنٹر پر رکھ دئے ۔وہ سرگوشی کرتے ہویے بولا :-" مجھے خوش آمدید نہیں کہوگی ۔؟"وہ آنکھوں سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہویے مڑی۔ چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی ۔ اور اس حرکت پر احمد بےساختہ ہنس پڑا اس کا ہاتھ تھامتے وہ بہت نرمی سے بولا :-" میں واقعی یہیں ہوں میرے ہونے کا یقین کیوں نہیں آتا تمہیں ۔؟"" پتا نہیں احمد میں تمہیں اتنا سوچ چکی ہوں کہ اب تم سامنے ہو تو یقین نہیں آتا کہ تم واقعی ہو یا میرا وہم ہے ۔" وہ مسلسل اسے دیکھتے کہہ رہی تھی اور تبھی احمد نے احساس کیا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گیا ہے اس نے لہجہ بدلتے ہویے کہا :-" بہت بدتمیز ہو تم نے مجھے خوش آمدید تو نہیں کہا باتوں میں لگانے لگی ۔ میں تو یہ کہنے آیا تھا کہ فارغ ہو تو کافی بنا دو ۔" وہ کترا کر سامنے کاؤنٹر پر ہی بیٹھ گیا ۔ عرشیہ نے یاسیت سے اسے دیکھا اور ویلکم کہہ کر کافی بنانے لگی ۔ اس دوران وہ کبھی سامنے بیٹھے وجود پر نظر ڈال لیتی لیکن وہ اس سے بےنیاز موبائل پر الجھا ہواتھا ۔وہ ہمیشہ یوں ہی کرتا پہلے قریب آتا پھر نہ جانے کیا سوچ کر اپنے آپ کو سخت بیزاری کے خول میں بند کر لیتا ۔۔۔۔ یہاں آکر وہ ہمیشہ سوالیہ نشان بن جاتی ۔ اس نے ایک بار یوں ہی پوچھا تھا کہ تم مجھے بتا کیوں نہیں دیتے ۔ اور جواب میں احمد نے اس کے بازوؤں کو بہت بے دردی سے پکڑا تھا ۔ " میرا گریز میری ۔۔۔۔۔ " اس کے آگے وہ خاموش ہو گیا پھر اس نے کہا تھا ۔"ہم ایک دوسرے کے نام منسوب ہیں، کیا ہوا جو یہ ہمارا فیصلہ نہیں تھا لیکن اب یہ ہمارا فیصلہ بھی ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا ۔"وہ کچھ سمجھی اور کچھ نہ سمجھی لیکن احمد نے اس سے دو دن بات نہ کی۔ وہ اس کی ناراضگی سے بہت گھبراتی تھی بہت کوشش بعد جب وہ مانا تو اس نے دوبارہ کہا ۔" آگے ایسا کچھ بےوقوفانہ نہ کہنا ۔" اور اس نے سر جھکا دیا تھا ۔آج بھی وہ کافی بناتے ہویے الجھ رہی تھی ۔ کافی بننے پر اس نے کپ اس کے پاس رکھا اور بغیر اسے دیکھے باہر نکل گئی ۔ یہ اسکی ناراضگی کا اظھار تھا ۔احمد نے پاس پڑے جوس کو دیکھا وہ کچھ کھا کر بھی تو نہیں گئی تھی ۔ اس نے ساتھ رکھی کافی کو دیکھ کر کہا:- " کیسے سمجھاؤں تمہیں عرشیہ ۔" اس نے گہری سانس لی اور سر جھٹک کر رہ گیا ۔
*****

Continued........


  10/05/20   2قسط نمبر


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post