Justju Ep No 1 | Urdu Novel

Justju Ep No 1 | Urdu Novel


جستجواز قلم صالحہ منصوری
قسط نمبر 1


ئیرپورٹ پہنچ کر اس نے اردگرد دیکھا ، مام اور پاپا اس سے آگے کسی سے فون پر بات کر رہے تھے ، " افو یہ فون آخر ایجاد ہی کیوں ہوا خوامخواہ دور بیٹھنے شخص کو قریب اور قریب بیٹھنے شخص کو بھلا دینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔" اسے کوفت ہوئی ۔ مایا بھٹ ایک نہایت آزاد خیال اور ہائی سوسائٹی میں رہنے والی حد درجہ نفاست پسند لڑکی تھی ، کسی کو خاطر میں نا لانے والی مغرور اٹھی ہوئی ناک اور پیشانی پر پڑے بل اسکی شخصیت کو اور جاذب بنا دیتے ، وہ ہر طرح سے خود میں مکمّل تھی ۔ پر اعتماد ، پر وقار اور مقناطیسی شخصیت کی مالک والدین کی اکلوتی اولاد ۔آج انھیں میسور سے ممبئی کی فلائٹ لینی تھی اسکے والد کسی بزنس ٹرپ پر جارہے تھے مگر وہ ضدکر کے ساتھ چلی آئ۔
اپنی نشست پر بیٹھنے کے بعد بھی اسکا موڈ ہنوز خراب تھا ۔" تمہیں کیا ہوا ؟" یہ ماما تھیں ۔
" آپ لوگوں کو دوسروں سےفرصت ملے تب نا ، ہم فیملی ہیں محسوس ہی کب ہوتا ہے ؟"
" کم آن مایا ۔" ماما نے میگزین کاصفحہ مسکراتے پلٹا ۔" ایک چیز یاد رکھو کبھی بھی کسی بھی چیز یا انسان کا خود کو عادی نہ بننے دو ورنہ تہی داجاؤگی وہ پھر کچھ بھی ہو ۔"

وہ خاموش ہو گئی ۔ ماما صحیح تو کہہ رہی تھیں مگر وہ انہیں کیسے بتاتی کے ہماری چاہ ہمیں کسی چیز کا عادی تھوڑی بناتی ہیں ہمیں تو خود عادت پڑ جاتی ہے غیر ارادی اور بعض اوقات ہمیں پتا بھی نہیں چلتا ۔وہاثبات میں سر ہلاتے باہر دیکھنے لگی جہاں سے اسکا شہر اسے الوداع کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہڑبڑا کے اٹھی شاید سو گئی تھی اس نےداہنی جانب دیکھا اسکی والدہ بھی گھبرائی ہوئی تھیں اسے محسوس ہوا جیسے پلین بہت تیزی سے نیچے کی جانب گر رہا ہو ۔
" ماما ۔" اس نے پکارا ۔" یہ کیا ہو رہا ہے ؟،"
" مجھے کچھ نہیں پتا ۔" اسکی ماں کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھی ۔ انکا پلین کریش ہونے والا تھا وجہ اسے معلوم نہ ہو سکی ۔ اس نے دوبارہ اپنی ماں کو دیکھا ۔
" اب کیا ہوگا ؟۔"
" مایا تم ۔۔۔۔۔۔" انکا فقرہ پورا ہونے سے قبل ہی ایک دھماکے کی آواز اس نے سنی اس نے آخری بار جو چیز دیکھی وہ آگ تھی اسکا ذہن ماؤف ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درد کی شدت کا ہی احساس تھا جو اس نے آنکھیں کھول دیں دھندلی بصارت کے باعث اسے کچھ نظر نہیں آیا ۔اس نے واپس آنکھیں بند کر لیں پھر جب آنکھیں کھولی تو جو بھی اسے نظر آیا اسے خوفزدہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔ وہ کسی جنگل میں تھی جابجا پلین کے جلے ہویے ٹکڑے جن میں کچھ اب تک جل رہے تھے ۔اس نے محسوس کیا کہ اسکا پاؤں کسی چیز کے نیچے دبا ہوا ہے اس نے بمشکل اپنا پاؤں آزادکرنا چاہا تو اسکی چیخ نکل گئی اسکا پیر ایک ایسی لاش تلے دبا ہوا تھا جو بری طرح مسخ ہوئی تھی ۔اس نےادھر ادھر دیکھا تو اور بھی اسی طرح کی لاشیں موجود تھی وہ ایک دم خوفزدہ ہو کر اٹھی اور جس طرف بن پڑا بھاگتی چلی گئی وقت اور جگہ سے بےپرواہ دوڑتی گئی راستے میں کئ مرتبہ گری مگر وہ خوف تھا جو اسے بھاگائے لے جا رہا تھا سورج اپنا سنہری چہرہ کب کا روپوش کر چکا تھا لیکن وہ بےتحاشہ دوڑتی رہی یہاں تک کے سڑک پر نکل ای اور تب ہی ایک تیز رفتار کار سے ٹکرا گئی ۔ اس نے خود پر کسی کوجھکتے ہویے محسوس کیا بصارت دوبارہ دھندلانے لگی ۔
" سنیں ۔۔۔۔ گاڈ کیا آپ مجھے سن سکتی ہیں ،" وہ پوچھ رہا تھا مگر مایا کا ذہن تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ گھر کے دالان میں کرسی ڈالے آنکھیں موندے تلاوت کر رہی تھی " اور اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمیں میں ہے اور جو کچھ انکے درمیان ہے اور جو کچھ گیلی مٹی کے نیچے ہے ۔" اس نے اچانک آنکھیں کھول دیں ۔
" ہاں بلکل لیکن گیلی مٹی تحت الثریٰ کا یہاں ذکر الگ لفظ لے کر کیا گیا ہے کیوں ۔؟" وہ الجھی پھر ایک خیال آنے پر اسٹڈی روم کی جانب لپکی ۔اسکا اسٹڈی روم بہت خوبصورت تھا کمرے کی دو ملحقہ دیواروں کی چھت تک جاتی کتابوں کی الماری پھر ان دیواروں کے سامنے شیشے کی دیوار اور چوتہی دیوار دروازے سے منسلک تھی جہاں ہانپتی کانپتی خودفاطمه کھڑی تھی ۔چند لمحے سانسیں ہموار کر کے وہ کتابوں کی جانب آئ پھر مطلوبہ کتاب نکل کر تحت الثریٰ کا معنی ڈھونڈھا
" اچھا میں سمجھی تحت الثری زمین کی آخری حدود کے بعد شروع ہونے والی گہرائی یعنی کہ پاتال اس لئے اسے قرآن میں الگ word لے کر استعمال کیا گیا ہے ہاں بلکل ٹھیک اور ۔۔۔۔۔۔" وہ کچھ اور بھی کہتی جب عشاء کی ازآن کانوں میں گونج گئی وہ کتاب دوبارہ رکھتے نماز کے لئے چلی گئی ۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھی ہی تھی جب مانوس سی دستک پر اسکے قدم دروازے کی طرف بڑھنے لگے ساتھ ہی دوبارہ دستک ہوئی اور آواز بھی ائی
" فاطمه جلدی کرو ۔"
" آہی گئی تھی بھائی آپ تو ۔۔۔۔۔" اسکے الفاظ لبوں پر دم توڑ گئے کیوں کہ اس نے اپنے بھائی کےبازؤں میں ایک بیہوش لڑکی دیکھی تھی ۔وہ گھبرا کرآگے ائی اتنی دیر میں وہ اسے صوفے پر لٹا چکا تھا ۔
" بھائ کون ہے یہ ؟ آپکو کہاں ملی ؟ اسے یہاں کیوں لے آے ؟" اس نے ایک سانس میں کئ سوال کر ڈالے ۔
" سانس تو لینے دو نماز پڑھ لوں پھر بتاتا ہوں ۔"
وہ نقاہت زدہ لہجے میں کہتا اٹھ کر چلا گیا ۔فاطمہ اور عمر حقیقی بہن بھائی تھے ۔ عمر بڑا تھا والدین کی وفات کے بعد اس نے اپنے والد کے کاروبار کو سنبھالا فاطمہ قرآن کی طلبہ تھی اور اپنے بھائی سے ازحد محبت کرتی تھی اور آج خلاف توقع ایک لڑکی کے ساتھ اسے وارد ہوتے دیکھ کر بہت حیران ہوئی ۔عمرکے جانے کے بعد وہ لڑکی کی طرف متوجہ ہوئی ۔ وہ جو بھی تھی بہت خوبصورت تھی مگر بکھرے بال اور برہنہ پاؤں پر زخموں کے نشان سے کافی کمزورلگ رہی تھی فاطمہ نے اسے چادر لا کر اوڑہا دی اور سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے لگی ۔ عمر نماز پڑھ کے جلد ہی واپس آگیا وہ لب بھینچے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
" بھائی کون ہے یہ ؟۔"
" میں نہیں جانتا میں تو خود حیران ہوں ۔" وہ اب بھی جیسے کچھ سوچ رہا ہو ۔
" پھر آپکو کہاں ملی ؟ اسے یہاں کیوں لے آے ؟"
" میں گھر آ رہا تھا کہ سامنے سے یہ دوڑتی آگئی میں نے بریک ماری لیکن یہ بہت تیزی سے سامنے آگئی اور آج ہسپتال بھی ہڑتال ہے تو اسے یہاں لے آیا ۔" چند جملوں میں اس نے بات مکمل کر دی ۔
" خدارا آپ نے ایک لڑکی کو کار سے ٹکر مار دی ؟ " فاطمہ نے آنکھیں نکالی ۔
" ماری نہیں یہ آگئی تھی ہوش آنے دو زخم زیادہ گہرے نہیں ہیں ۔" عمر بگڑ کر بولا ۔
" آپ نے ٹکر ماری ؟۔" فاطمہ نے شرارتی انداز میں کہا تو عمر " ابھی بتاتا ہوں " کہہ کے اسکی جانب لپکا مگر وہ بھاگ اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔......................

تیز روشنی کے آنکھوں پہ پڑنے کا احساس ہی تھا جس نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا ۔ سر میں سخت درد محسوس ہورہا تھا اس نے آنکھیں کھول دی اور اچانک اٹھ بیٹھی ۔ یہ کس کا گھر ہے کون اسے یہاں لایا ہے؟ اسے کچھ یاد نہیں آرہاتھا وہ اٹھی دروازہ کھول کرباہر نکل گئی ۔ سیڑھیاں اتر کر iردگرد دیکھا کوئی نظر نہ آیا تبھی اس نے باہر کی طرف کھلتے دروازے کو دیکھا جہاں سے ایک آواز مسلسل فضا میں تحلیل ہو رہی تھی ۔فاطمہ حسب معمول پودوں کو پانی دیتے دیتے تلاوت کررہی تھی جب سامنے اسے دیکھ کر وہ سیدھی ہوئی اور مسکرا کر اسکی طرف بڑھی ۔
" خیر سے صبح ہوگئی کسی ہے اب طبیعت ؟۔"
" تم کون ہو؟ میں یہاں کیسے آئ ؟ "
" کل رات تمہارا اکسیڈنٹ ہوا تھا میرا بھائی تمہیں یہاں لایا ہے ۔اور میں فاطمہ ہوں ۔"
" کل رات میرااکسیڈنٹ ہوا تھا ؟" اس نے زیرلب دہرایا ۔ ماضی کی دھند میں اسے چند چہرے دکھائی دئے ۔ وہ لوگ ، پھرآگ جنگل سے اسکا بھاگنا ۔ اس نے جھرجھری لے کر آنکھیں بند کر لیں ۔فاطمہ اس کے تاثرات دیکھ رہی تھی اسکے شانے پر ہاتھ رکھا تو اس نے آنکھیں کھول دیں ۔" تم کون ہو ؟"
" مایا ۔۔۔۔مایا بھٹ ۔" اس نے فاطمہ کی انکھوں میں دیکھتے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔عمر نے دروازہ کھولا تو سامنے اسے بیٹھے پایا ۔ وہ آفس سے ابھی آیا تھا ۔ مایا نے آہٹ پر چونک کر سر اٹھایا ۔ماتھے پر گرتے سیاہ بھوری بال بھوری آنکھیں، سفید شرٹ جسکی آستیں کہنیوں تک مڑی ہوئی تھی ، بلیک پینٹ ، بائیں بازو پر کوٹ ڈالے اورداہنی ہاتھ میں بریف کیس پکڑے وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
" کسی ہیں اب آپ ؟ فاطمہ کہاں ہے ؟"
مایا کا سکتہ ٹوٹا ۔ " وہ نماز کے لئے کہہ رہی تھی ۔"
" اچھا " وہ رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کچن میں آگیا ۔
" السلام علیکم " فاطمہ نے دروازے سے جھانکتے کہا" خیر ہے آج جلد آگئے ؟"
اس نے مڑ کر دیکھا اور اورنج جوس گلاس میں نکالتے بولا ۔" ہاں نہ ورنہ میری بہن پریشان ہوتی کے کہیں گرفتار نا ہو گیا ہوں ۔'"
" خدا نا کرے بھائی آپ بھی نہ ۔۔۔۔۔"وہ خفگی سے کہتی اس کے مقابل آگئی ۔
" کچھ بتایا کون ہے ؟" عمر نے کاونٹر سے ٹیک لگایے دروازے کی جانب اشارہ کیا ۔
" صرف نام مایا ہے ۔اور کہا کے تمہارے بھائی کو آجانے دو ۔"
"ہوں " اس نےگلاس ٹیبل پر رکھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" آپ کل رات بھاگ کیوں رہیں تھیں ؟"وہ تینوں ڈنر ٹیبل پرموجود تھے جب عمر نے اچانک مایا سے سوال کیا ۔
مایا نے نظریں اٹھایں ۔" مجھے لگتا ہے ڈنر ٹیبل پر یہ موضوع ٹھیک نہیں ہوگا ۔"
" شاید " وہ ٹشو سے ہونٹوں کو تھپتھپتا اٹھ کھڑا ہوا ۔" آپ نہیں بتانا چاہتی خیر ہے ، لیکن میں امید کرونگا کہ آپ بتا دیں ۔" وہ چلا گیا اور مایا اسے گردن موڑے جاتے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔" افوہ کہاں رہ گئی ؟یہیں رکھی تھی ۔۔۔۔ فاطمہ میری فائل کہاں ہے ؟" عمر اپنی تمام دراز ڈھونڈھ چکآ تھا اوراب بھی کمرے میں موجود ایک ایک چیز ادھر ادھر کرتے مطلوبہ فائل تلاش رہا تھا ۔
"یہ تو نہیں ؟" غیر مانوس آواز پر اس کے متحرک ہاتھ ساکن ہویے مایا ایک سرخ فائل ہاتھ میں لئے اسکی طرف بڑہائے کھڑی تھی ۔
" جی ۔ ۔۔۔۔ تھنکس "۔
" آپ نے بہت غلط کہا تھا ،"
" مجھے جو لگا میں نےبتا دیا ۔" وہ مصروف سا فائل دیکھنے میں مگن تھا تبھی فاطمہ کسی کام سےوہاں آئ مایا نے اسے مخاطب کیا ۔
" اچھا ہوا تم آگئی میں تم دونوں کو بتانا چاہتی ہوں تاکہ آپ میری مدد کریں " عمر نے اسے دیکھا مایا نے بتایا کہ وہ اپنے ولدین کے ساتھ یہیں ممبئی آرہی تھی کہ اسکی فلائٹ کریش ہوگئی خوش قسمتی سے بچ گئی لیکن ناقابل برداشت منظر دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوئی اور عمر کی کار سے ٹکرا گئی ۔
" مجھے افسوس ہے لیکن جب تک تمہارے زخم پوری طرح ٹھیک نہیں ہو جاتے تم نہیں جاؤگی ۔" یہ فاطمہ تھی مایا مسکرا بھی نا سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مایا نے دوبارہ جانے نہیں کہا وہ خود کو ان دونوں کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تھی ۔ ہاں فاطمہ جب بھی تلاوت کرتی وہ اسے ضرور سنتی ایک دن عمر گھر پر نہیں تھافاطمہ تلاوت کر رہی تھی اور مایا اس کے سامنے بظاھر میگزین کھولے اسے پڑھ رہی تھی ۔" بیشک میں ہی ہوں اللّه کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد میں نماز قیام کر ۔۔۔۔۔" وہ بہت انہماک سے پڑھ رہی تھی جب تلاوت مکمّل ہو چکی تو اس نے سرسری نظر سامنے مایا پر ڈالی ۔ وہاچانک دیکھ لئے جانے پر کچھ ہڑبڑا گئی پھر سیدھی ہوتے پوچھا :-" یہ قرآن ہے نا ؟"
" ہاں "
" تم نے جو ابھی پڑھا اسکا مطلب کیا ہے ؟" فاطمہ نے عربی میں قرات کی تھی سو اسے سمجھ نہ آیا ۔
" اسکا مطلب تھا کہ اللّه کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت کی جائے اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور ہم اسی کی یاد میں نماز پڑھتے ہیں ۔"
" اللّه ۔۔۔۔۔" وہ جھجھکی ۔
" کیا ہوا ؟"
"کچھ نہیں " وہ الجھے انداز میں میگزین رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے کئ دنوں تک یہی ہوتا رہا فاطمہ قرات کرتی وہ خاموشی سے سنتی اور پھر اٹھ جاتی ۔ وہ ایک غیر مسلم معاشرے میں پلنے والی ہندو لڑکی تھی ۔ اس نے نا ہی کبھی خود کے مذہب میں دلچسپی رکھی نا ہی کبھی اسے ضرورت ہوئی لیکن جب سے یہاں آکر وہ قرات سننے لگی اسے الجھن ہونے لگی تھی کہ یہ مذہب کیا ہے کیوں ہے ؟ یہ ضروری ہے بھی یا نہیں ؟ایک دن اس نے فاطمہ سے پوچھ ہی لیا " مذہب کیوں ضروری ہے فاطمہ ؟"فاطمہ چونک گئی اسکا انداز آج بہت مختلف تھا ۔"مذہب اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کواس طریقے پر گزاریں جو ہمارے لئے بہتر ہے اور دونوں جہاں میں کامیابی حاصل ہو ۔ جیسے کہ ہم مسلمان ہیں وہ اس لئے کیوں کی ہم جانتے ہیں کہ اسلام سچامذہب ہے اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ۔ میں نے بہت سارے مذہب اسٹڈی کئے ہیں لیکن میں نے جو نجات آسانی اسمذہب میں دیکھی اور کہیں نہیں دیکھی ۔"
" اچھا ۔ کیا تمہارا دل مطمئن ہے ؟"
" ہاں الحمدللہ " سکون سا اسکے چہرے پر بکھرا ہوا تھا ۔
" اور اللّه کون ہے ؟" مایا نے قدرے توقف سے پوچھا
" اللّه ۔ ۔۔۔ اللّه وہ ہے جو سب چیزوں کا خالق مالک ہے سب کو بنانے والا وہ اکیلا ہے اپنی ذات میں مکمل ۔وہدکھائی اس لئے نہیں دیتا کہ ہماری آنکھوں پر پردہ ہے ورنہ اسکا نور ہر زرہ میں ہے ۔ تم نے کبھی چراغ جلتا دیکھا ہے ؟"مایا نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔" تو جیسے اسکی روشنی کی کوئی ایک جہت نہیں ہر طرف نور روشنی ہوتی ہے اسی طرح اللّه بھی جہت سےپاک ہے ۔"
" اور تم جو کہتی ہو شھدو ان لا ۔۔۔۔۔" مایا اٹکی ۔
" اشھدو ان لا الہ الا اللہ و اشھدو ان محمد عبدہ و رسولہ ۔" فاطمه نے پڑھا ۔
" ہاں اسکا مطلب کیا ہے اور یہ کیوں کہتے ہو تم لوگ ؟۔"
" اسکا مطلب ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللّه کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اللّه کے بندے اور اسکے رسول ہیں ۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ اسکے بغیر دین مکمّل نہیں ہوتا اسکا جو پہلا حصہ ہے اس میں ہم تمام مذہب کا انکار کرتے ہویے اللّه کے واحد ہونے کا اعلان کرتے ہیں ۔"
" ٹھیک لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" مایا کچھ اور بھی کہتی مگر عمر کو چوکھٹ پر کھڑا دیکھ کر خاموش ہوگئی ۔ فاطمہ نےاسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہ لب بھینچے کھڑا تھا ۔
" فاطمہ کمرے میں آو زارا ۔"اور کچھ دیر بعد وہ عمر کے سامنے موجود تھی ۔
"کیا ضرورت ہے تبلیغ کرنے کی ؟۔" وہ استفسار کر رہا تھا
۔"بھائی اس نے پوچھا تو ۔۔۔۔۔۔"
" تو تم نے سوچا تبلیغ کر دوں ہے نا ؟ وہ غیر مسلم ہے فاطمہ میں نہیں چاہوں گا کے کبھی تمہیں دقت اٹھانی پڑے ۔"
"بھائی میں ایک قرآن طلبہ ہوں مجھ سے کبھی کوئی کچھ پوچھ تو میں اسے مایوس نہیں کرونگی ۔" اس نے حتمی انداز میں کہا ۔
" فاطمہ " عمر نے اسے دیکھا " مین بس تمہیں محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں اگر اس کے والدین کل آجاتے ہیں تو کیا سوچیں گے "
" بھروسہ رکھو ناں مجھ پر کچھ نہیں ہوگا ۔" وہ مسکراتی ہوئی چلی گئی عمر نے گہری سانس لی ۔
" پاگل لڑکی ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post