Kisi Meharban Na Aakey Ep No 4 | Urdu Novels

Kisi Meharban Na Aakey Ep No 4 | Urdu Novels



کسی مہربان نے آکےاز قلم ماہ وش چوہدری
قسط نمبر 4


شاذمہ بیگم کا آپریشن باخیروعافیت ہو گیا تھا۔۔۔۔
ابیہا اور نیہا بہت خوش تھیں۔۔۔۔
آج انہوں نے ڈسچارج ہو کر گھر واپس آنا تھا
نیہا تمہیں جیسے جیسے سوپ کا بتایا ہے بلکل ویسے ہی بنا لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بل کلیئر کر کے تین چار بجے تک امی کو لے کر آ جاؤں گی۔

اوکے میڈم۔۔۔اب آپ بے فکر ہو کر جائیں اور خیریت سے واپس آئیں۔۔۔۔۔نیہا شوخی سے بولی

ہاں جا رہی ہوں دروازہ بند کر لو۔۔۔۔۔ابیہا مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی
……………………………………………

بیا تم نے اُس روز تو ٹال دیا مگر آج تو بتا دو تمہارے پاس اتنے لاکھ کہاں سے آئے۔۔۔۔ابیہا یہی سب سوچ رہی تھی جب نیہا نے اُسکے بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ کر پوچھا
ابیہا بھی یہ بات کسی سے شئیر کرنا چاہ رہی تھی اسی لیے فورا نیہا کو بتانے لگی۔۔۔
وہ اصل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا نے اُسے دانیال ملک کی آفر سے لے
کر اُس اجنبی مہرباں کی مہربانی تک کی تمام باتیں بتا دیں۔۔۔

اب۔۔۔۔اب کہاں سے اتنے پیسے واپس کریں گے اور کس طرح ۔۔۔۔تم تو نام بھی نہیں جانتی ہو اس کا۔۔۔۔نیہا الجھی
ہاں۔۔۔۔میں بھی یہی سوچ رہی ہوں اگر کوئی اتہ پتہ ہوتا تو کم ازکم اس کا شکریہ تو ادا کر دیتی اور پھر کہیں جاب کر کے قسطوں میں اُسکے پیسے لوٹا دیتی۔۔۔۔۔پر اب۔۔۔

بیا۔۔۔۔تم۔۔۔تم نے چیک پر اُن کا نام نہیں پڑھا۔۔۔۔؟؟؟نیہا نے ایکسائیٹڈ ہو کر پوچھا
یہی تو غلطی ہو گئی مجھ سے ۔۔۔۔میں اُس روز اتنی اپ سیٹ تھی کہ بنا دیکھے، بنا سوچے سمجھے ہی بینک سے کیش کروایا اور ہوسپٹل میں آپریشن کے لیے جمع کروا دیے۔۔۔۔۔اور اب یہی سوچ رہی ہوں کہ میں اُس شخص کو کیسے ڈھونڈو گی۔۔۔۔۔۔۔وہ پریشان سی بولی
ہم بینک سے پتہ کر لیتے ہیں۔۔۔نیہا نے مشورہ دیا
مگر کیا کہوں گی میں کہ آج سے بیس، بائیس دن پہلے میں نے ایک چیک کیش کروایا تھا پتہ نہیں کس کے نام کا پلیز بتائیں کیا نام لکھا تھا اُس پر۔۔۔۔ابیہا نے کڑھتے ہوئے اُسکے مشورے کا مذاق اڑایا۔۔
تو پھر اب۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
پھر یہ کہ اپنے ننھے سے دماغ کو اتنا نا تھکاؤ کہ وہ بلکل ہی ٹھوسسسسس ہو جائے۔۔۔۔۔ابیہا نے بہن کی شکل دیکھ کر کہا
بہت بدتمیز ہو تم۔۔۔۔۔نیہا نے منہ بسوڑ کر مکا جڑا
بہت عرصے بعد دونوں بہنوں کی ہنسی کمرے میں گونجی تھی۔۔۔۔۔
……………………………………………

سیمل بیٹا اٹس یور روم ناؤ بی فریش اینڈ ٹیک سم ریسٹ۔۔۔۔میں چائے بھجواتی ہوں
گرینی مسکرا کر کہتیں سیمل کو ضرار کے روم میں چھوڑ کر چلی گئیں۔۔۔
سیمل نے چاروں اور نظریں گھما کر کمرے کا جائزہ لیا۔۔۔۔
اونہہ کمرہ تو اچھا ڈیکوریٹ کیا ہے۔۔۔۔اُس نے ناک چڑھا کر تعریف کی
مجھے کیا اس کمرے سے اور کمرے والے
سے۔۔۔۔۔وہ کندھے اچکاتی واش روم میں گھس گئی۔۔۔
فریش ہو کر نکلی کہ کمرے میں ضرار کو موجود پایا۔۔۔۔۔۔۔وہ نظر انداز کرتی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگی۔۔
ضرار اس بےنیازی پر مسکراتا اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
ہاؤ آر یو مائی ڈئیر وائف۔۔۔۔اس نے سیمل کے پیچھے کھڑے ہو کر آئینے میں نظر آتے اس کے عکس سے پوچھا
سیمل نے ایک نظر اس پر ڈالی اور بنا جواب دیے پھر سے بالوں میں برش چلانے لگی۔۔
خفا ہو مجھ سے۔۔۔۔؟؟پر کس بات پر۔۔۔؟؟؟وہ اُسکے انداز سے حیران ہوا
سیمل ابھی بھی خاموش رہی۔۔
سیمل۔۔۔۔۔ضرار نے اسکا رخ اپنی طرف کیا
وہ نظریں جھکا گئی
۔۔۔۔لوکنگ نائس۔۔۔۔تعریف کی گئی
اس تعریف پر سیمل نے جھٹکے سے
سر اٹھایا۔۔۔
میں اچھی لگ رہی ہوں۔۔۔۔تپ کر پوچھا
یس۔۔۔۔یو آر لوکنگ سو پریٹی۔۔۔ضرار نے اُسے قریب کیا
کہاں سے لگ رہی ہوں پریٹی۔۔۔؟؟وہ ابھی بھی تپی ہوئی تھی اس جھوٹی تعریف پر
فرام ہیئر۔۔۔۔۔ضرار نے بوجھل سی آواز میں کہہ کر اُسکے سیاہ دھبوں کو بہت پیار اور آہستگی سے ہونٹوں سے چھوا۔
سیمل کو اس سے اتنی بےباکی کی امید نہ تھی اسلیے فورا پیچھے ہٹی
آئی ایم ٹائرڈ۔۔۔۔کہتی ہوئی وہ جلدی سے بستر کی جانب بڑھی
فائن سویٹی۔۔۔ٹیک ریسٹ۔۔۔ضرار مسکراتا ہوا واش روم میں چلا گیا۔۔
پیچھے سیمل خود کو ڈپٹ رہی تھی کہ مجھے ہر گز اس شخص کی چالوں میں نہیں آنا ہے بلکہ مجھے تو اس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے وہ صرف مسکرائی اور کمفرٹ منہ تک لے کر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
………………………………………………

ایک ہفتے سے اوپر ہو گیا تھا۔۔۔۔انہیں انگلینڈ
آئے ہوئے مگر سیمل نے ضرار کو خود کے
قریب نہیں آنے دیا۔۔۔۔۔
وہ جب بھی ایسی کوئی کوشش کرتا سیمل کوئی نا کوئی بہانا بنا کر خود کو بچا لیتی۔۔۔۔۔
ضرار اُسکے انداز سے حیران ضرور تھا مگر فلحال خاموشی سے جج کر رہا تھا۔۔۔کہ سیمل ایسا کیوں کر رہی ہے۔

انہی دنوں گرینی نے انہیں بتائے بغیر اُن کی ملائیشیا کی ٹکٹس بک کروائیں اور کھانے کے ٹیبل پر سرپرائز آوٹ کیا۔۔۔
گرینی آپ پو چھ تو لیتیں بلاوجہ اتنے پیسے ضائع کیے۔۔۔ضرار پانی کا گلاس منہ کو لگاتا بولا
جو پیسے میں اپنی خوشی سے اپنے بچوں پر خرچ کر رہی ہوں وہ کیسے ضائع ہوئے
بھلا۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی ہنی مون پر شادی کے شروع دنوں میں جاتے ہیں پھر بےبیز آ گئے تو نکلنا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔کیوں سیمل میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں۔۔۔۔گرینی نے مسکرا کر سیمل کو دیکھا
سیمل تو انکی بات پر ہی سر جھکا گئی تھی کیا جواب دیتی۔۔۔
ضرار نے ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھا اور کھڑا ہوا۔۔۔۔گرینی میں فصی کی طرف جا رہا ہوں۔۔
اوکے چلے جاؤ بٹ ملائیشیا کے لیے ریڈی رہنا رائٹ۔۔۔؟؟
اوکے ۔۔۔وہ گرینی کے سر کا بوسہ لے کر مسکراتا ہوا نکل گیا

سیمل بیٹا تم خوش نہیں ہو کیا۔۔۔۔؟؟؟گرینی نوٹ تو کب سے کر رہی تھیں مگر پوچھا آج تھا۔
نن۔۔۔نہیں۔۔۔میں خوش ہوں۔۔۔وہ بمشکل مسکرائی
تو پھر تیار ہو کر رہا کرو میری جان۔۔۔۔ابھی تو شادی کو چند دن ہوئے ہیں۔۔۔۔میں نے تو سُنا تھا پاکستانی لڑکیاں میک اپ کی بہت دیوانی ہوتیں ہیں۔۔۔۔مگر تم تو بہت سیمپل ہو۔۔۔
دیکھو یہی دن ہیں ایک دوسرے کو انڈراسٹینڈ کرنے کے ۔۔۔۔۔
مگر تم لوگ تو ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے سے رہتے ہو۔۔۔کیا وجہ جان سکتی ہوں میں۔۔۔۔؟؟
نہیں گرینی آپ کو وہم ہوا ہو گا ایسا کچھ نہیں اور میں بھی پہلی دفعہ گھروالوں سے اتنا دور آئی ہوں اس لیے ایڈجسٹمنٹ میں وقت تو لگے لگا۔۔۔۔سیمل اکتائی سی بولی
آئی نو ڈیٹ ایڈجسٹمنٹ میں وقت لگے
لگا ۔۔۔۔پر میں تم سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں تم میری وہ بات مانو گی ناں سیمل۔۔۔۔۔گرینی نے مان سے پوچھا
جی۔۔۔۔جی کریں بات۔۔۔۔وہ فورا بولی جیسے بات سن کر جان چھڑوانا چاہتی ہو

سیمل ضرار محبتوں کے معاملے میں بہت ان لکی رہا ہے۔۔۔۔۔پیدائش پر ماں چلی گئی اور پھر عالم کے پاکستان جانے سے وہ باپ سے بھی محروم ہو گیا۔۔۔۔میں جانتی تھی یہ سب پر خود کی تنہائی مٹانے کو ضرار کو اپنے پاس رکھ لیا۔۔۔۔۔
اپنی ساری ممتا، ساری محبتیں میں نے اُسی پر لُٹائی ہیں۔۔۔مگر پھر بھی کچھ کمی سی ہے۔۔۔۔اور میں چاہتی ہوں وہ کمی تم اپنی محبت دے کر پوری کر دو۔۔۔۔
دیکھو میں جس ایج میں ہوں کبھی بھی چل بسوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر چاہتی ہوں کہ میرے بعد کوئی ہو جو بڑے مان سے اُسے چاہے۔۔۔اُسے کی تنہائی کو سمیٹے اور وہ کوئی تم ہی ہو سیمل۔۔۔۔۔گرینی مسکرائیں

پتہ ہے سیمل ۔۔۔۔۔میں نے اپنے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا سکھایا ہے اور تم یہ سب دیکھو گی بھی اسکے ساتھ رہ کر۔۔۔۔۔
ایک مرد کی لائف میں ہر عورت کی مخصوص جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔ماں، بہن، بیوی اور بیٹی۔۔۔۔اور میرے ضرار نے نہ ماں دیکھی اور نہ ہی بہن۔۔۔۔بیوی کی صورت میں تم آ گئی ہو اور اگر اوپر والے نے چاہا تو وہ بیٹی سے بھی
نواز دے گا۔۔۔۔۔
سیمل انتہائی بےزاری سے سب سن رہی تھی

تم۔۔۔تم دیکھنا سیمل میرا ضرار ہر رشتے میں کتنا سنسیئر ہو گا۔۔۔مجھے یقین ہے وہ تمہیں بہت عزت اور محبت دے گا۔۔۔۔۔اور میری ریکویسٹ ہے سیمل کہ تم بھی اُس سے محبت کرنا، وفا کرنا اور اُسکی ساری تشنگیوں کو مٹا دینا میری جان۔۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو ناں میری باتیں۔۔۔۔گرینی نے اُس کا ہاتھ تھاما
جج۔۔۔۔جی۔۔۔۔سیمل نے غائب دماغی سے سر ہلایا
اوہ تھینکس سویٹ گرل۔۔۔۔گرینی نے مسکرا کر سیمل کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔۔۔
وہ آج ضرار کو سیمل کے حوالے کر کے مطمعین ہو گئی تھیں
……………………………………………

تم ریڈی ہو جاؤ کچھ دیر میں باہر چلتے ہیں گھومنے۔۔۔۔۔۔تم شاپنگ بھی کر لینا۔۔۔۔۔ضرار نے میگزین پڑھتی سیمل سے کہا
وہ کل ملائیشیا آ چکے تھے۔۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔۔وہ لاپرواہی سے بولی
کیوں نہیں جانا تمہیں۔۔۔۔۔
میری مرضی۔۔۔۔سیمل نے کندھے اچکائے
ایک دفعہ اپنی مرضیوں کی لسٹ بنا کر دے دو تاکہ میں آگاہ ہو سکوں۔۔۔۔ضرار نے تھوڑے غصے میں آ کر کہا
دے دوں گی مگر ابھی مجھے ڈسٹرب مت کرو۔۔۔
واٹس یور پرابلم گرل۔۔۔۔۔اس کےانداز پر ضرار نے چلاتے ہوئے میگزین چھینا
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔
جو تم کر رہی ہو وہ کیا ہے تمہارے خیال میں۔۔۔؟؟؟
میں نے کہا ناں مجھے ڈسٹرب مت کرو ۔۔۔سیمل بھی لحاظ چھوڑتی چلائی
ڈونٹ بی شاؤٹ ایڈیٹ۔۔۔ضرار نے لابی میں کھلتی ونڈو بند کی
میں چلاؤں تو ایڈیٹ اور تم ۔۔۔تم چلاؤ تو مہذب۔۔۔ہاں

سیمل واٹ از دس یار ۔۔۔۔۔۔تمہیں مجھ سے جو بھی ایشو ہے کلیئر کرو یوں روز روز میری انسلٹ کر کے کیا مل رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔وہ ڈھیلا پڑا
کیونکہ بلاوجہ غصہ کرنا اسکی عادت نہ تھی۔

سکون۔۔۔۔۔سیمل نے دل میں کہا
سیمل کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔۔وہ اسکی چپ پر دوبارہ بولا
میں تمہاری انسلٹ نہیں کرتی۔۔۔۔لاپرواہی سے بتایا
مگر میری فیلنگز کی تو کرتی ہو ناں۔۔۔آئی نو ڈیٹ۔۔۔ہماری کوئی لو میرج نہیں ہے جو ابھی سے ہم دونوں دھواں دھار عشق و محبت میں گرفتار ہو جائیں
مگر تھوڑی بہت محبت کرنے کی، رومینس کرنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں ناں۔۔۔وہ شرارت سے کہتا سیمل کے قریب آ رکا
مجھے کوئی شوق نہیں تم سے رومینس کرنے کا۔۔۔۔سیمل نے ناک چڑھایا
مگر مجھے تو ہے ناں۔۔۔۔ضرار نے اُسے حصار میں لیا
پلیز ضرار لیو می۔۔۔۔وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ضرار کا حصار مضبوط تھا۔۔
پلیز ضرار۔۔۔۔وہ تھک کر منمنائی
نو مور پلیز ہنی۔۔۔۔۔۔وہ اس کے چہرے پے جھکا اسکے سیاہ نشانوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔
بار بار ۔۔۔۔دیوانوں کی طرح۔۔۔۔۔
وہ شاید اپنے اس عمل سے سیمل کو ان دھبوِں سے ملنے والی تکلیف کو کم کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔

مگر سیمل کو اُسکا چھونا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔وہ خود کو چھڑوانا چاہتی تھی مگر آج ضرار نے تمام راستے مسدود کر دیے
تھے۔۔۔۔
………………………………………………

وہ دونوں ملائیشیا میں پندرہ دن کا ہنی مون ٹرپ گزار کر واپس آ چکے تھے۔
ضرار نے جاب پر جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔
وقت ہمیشہ کی طرح بنا رکے گزرتا جا رہا
تھا۔۔۔۔
سیمل کے رویے میں بھی بہتری آ گئی تھی۔۔۔۔اس نے زبان کا استعمال کم کر دیا تھا۔۔۔۔ اب وہ ضرار کو کسی بھی عمل سے روکتی ٹوکتی نہیں تھی۔۔۔۔۔بلکہ اپنے رویے اور ایکسپرشنز سے بے زاری کا اظہار کرتی تھی
جس سے ضرار کو شرمندگی کیساتھ اکثر شبعہ ہوتا کہ شاید سیمل کو کوئی سائکی پرابلم ہے جو وہ یوں ضرار کے قریب ہونے پر اپنے ایکسپریشنز سے اکتاہٹ شو کرتی ہے۔۔۔۔۔جیسے ضرار کوئی اچھوت ہو

انہی دنوں ایک روز پاکستان سے آنے والی کال نے سب کو پریشان کر دیا۔۔
فرح بیگم ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کر گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔سیمل نے جب سے فون سُنا تھا رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔۔ضرار اور گرینی مسلسل اُسے حوصلہ دے رہے تھے چپ کروا رہے تھے مگر وہ زاروقطار روتی جا رہی تھی۔۔۔

ضرار میں سنبھال لوں گی سیمل کو تم جاؤ اور پاکستان کی ٹکٹس بک کرواؤ جا کر۔۔۔۔۔گرینی نے سیمل کے ہچکیاں لیتے وجود کو سینے سے لگایا
جی گرینی میں جاتا ہوں۔۔۔ضرار دو ٹکٹس بک کروا آیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اور سیمل فرح بیگم کے جنازے تک پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔اس دوران ضرار نے بہت مشکل سے اسے سنبھالا تھا
وہ ایک ہفتہ وہاں رہ کر واپس آ گئے۔۔۔۔۔سیمل کے بھائی بھابھیئوں کا رویہ سیمل کیساتھ کچھ عجیب سا تھا۔۔۔۔۔۔سیمل واپس انگلینڈ آ کر بہت چپ چپ رہنے لگی تھی۔۔۔آخر سہیلی جیسی ماں چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔نا بھرنے والا زخم مل گیا تھا اُسے۔۔۔مگر وقت سب سے بڑا مرہم ثابت ہوتا ہے اور یہ بڑے سے بڑا زخم بھرتا نہیں مگر مندمل ضرور کر دیتا ہے۔۔
ضرار اور گرینی نے بھی ایکسٹڑا توجہ دے کر اُسے نارمل کر ہی لیا تھا۔۔۔۔۔
فرح بیگم کی وفات کے بعد سیمل کے دونوں بھائیوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا سیمل سے۔۔۔۔۔مگر سیمل کو بھی ان سے کوئی سروکار نہ تھا۔۔۔۔وہ خود بھی سنبھل چکی تھی
۔۔۔

سیمل۔۔۔۔۔وہ وارڈ روب میں بزی تھی جب ضرار نے پیچھے سے آ کر اس کے گرد حصار باندھا
کیا کر رہی ہو۔۔۔۔سویٹ ہارٹ۔۔۔۔اس نے تھوڑی سیمل کے کندھے پر ٹکائی
نظر نہیں آ رہا۔۔۔۔۔وہ بڑبڑائی
جب تم پاس ہوتی ہو تو مجھے تمہارے سوا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔۔ضرار نے اُسکی بکھری لٹیں ہٹا کر گستاخی کی۔
ضرار پلیز موقع تو دیکھ لیا کرو ہر وقت کے رومینس سے تھکتے نہیں کیا۔۔۔۔؟؟؟وہ بےزاری سے بولی
ارے کہاں ڈارلنگ تم تھکنے ہی کب
دیتی ہو۔۔۔وہ گھمبیرتا سے کہتا اُسکا رُخ اپنی جانب موڑ چکا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ آوٹ آف کنٹرول ہوتا دروازہ ناک ہوا۔۔۔
کوئی ہے باہر ۔۔۔۔۔سیمل نے جان چھوٹنے پر شکر کیا۔۔۔
دیکھتا ہوں مگر واپس آ کر یہیں سے کنٹی نیو کروں گا۔۔۔وہ آنکھ مارتا دروازے کی جانب بڑھا

اونہہ۔۔۔۔اور کوئی کام ہی نہیں۔۔۔سیمل منہ بناتی پھر سے واڑد روب میں بزی ہو گئی
………………………………………………

ضرار مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے اگر فری ہو تو ابھی کر لیتی ہوں۔۔۔۔گرینی نے اسے چینل سرچنگ میں مصروف دیکھ کر پوچھا
وائے ناٹ ڈئیر لیڈی سٹ ہئیر۔۔۔۔اس نے
گرینی کا ہاتھ پکڑ کر پاس بیٹھا یا
ضرار مجھے تم سے فصی کے بارے میں بات کرنی ہے
فصی کے بارے میں۔۔۔۔وہ حیران ہوا
ہاں۔۔۔فصی کے بارے میں
کہیئے۔۔۔۔وہ متوجہ ہوا
ضرار فصی کا گھر آنا جانا کچھ زیادہ ہو گیا ہے اسلیے منع کرو اسے اور باہر ہی ملا کرو اس سے۔۔۔۔
ایسا کیا ہوگیا گرینی ۔۔۔وہ بات سن کر حیران ہوا
پہلے کی بات اور تھی ضرار۔۔۔مگر اب گھر میں تمہاری بیوی بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔وہ اکثر تمہاری غیرموجودگی میں بھی آتا ہے۔۔۔میں ایک دو دفعہ باتوں میں منع کر چکی ہوں مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔
اور سیمل کو بھی سمجھاؤ کہ وہ اُس سے زیادہ میل جول مت رکھے۔۔۔۔
گرینی پلیز جو بھی بات ہے ڈائریکٹلی
کہیں ۔۔۔وہ جانتا تھا ضرور کوئی ایسی ویسی بات ہوئی ہے جو گرینی اسطرح کہہ رہی ہیں ورنہ چھوٹی موٹی بات تو وہ خود ہینڈل کر لیتیں تھیں۔۔۔
کچھ خاص نہیں۔۔۔بس مجھے فصی کا تمہاری غیرموجودگی میں آنا اور سیمل کا اسکی آؤبھگت کرنا پسند نہیں۔۔گرینی نے سیدھی بات کہی
اوکے آئی ویل ہینڈل۔۔۔آپ پریشان مت ہوں ضرار نے گرینی کے پریشان چہرے کو دیکھ کر ان کے بوڑھے وجود کے گرد بازو پھیلائے

وہ گرینی کی بات پر ٹھٹھک چکا تھا۔۔

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post