Kisi Meharban Na Aakey Ep No 7 | Urdu Novels

Kisi Meharban Na Aakey Ep No 7 | Urdu Novels


کسی مہربان نے آکےاز قلم ماہ وش چوہدری
قسط نمبر 7


ابیہا کے دماغ میں نائٹ کلب کا جھماکا ہوا تھا۔۔۔
ہاں یہی ایک جگہ ہے جہاں اُس کی موجودگی یقینی تھی۔۔۔۔
ابیہا اگلے دن شام سات بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔
نیہا کو کولیگ کے گھر کا کہا تھا۔۔۔۔شاذمہ سو رہیں تھیں اسلیے نیہا کو ہی بتا آئی تھی۔۔۔
وہ اُسی نائٹ کلب کے گیٹ سے چند فرلانگ پیچھے ہی رک گئی اندر جا کر وہ کوئی مصیبت مول نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔
سات سے آٹھ اور آٹھ سے نو بج گئے۔۔۔۔ وہاں بہت سے لڑکے لڑکیاں آئے مگر وہ نہیں آیا جس کے لیے وہ آئی تھی۔۔۔۔۔۔نو بجے وہ مایوس سی واپس ہو لی۔۔۔۔
…………………………………………………

ابیہا نے اسلام آباد کے ایک مشہور بیوٹی پارلر میں ریسیپنشٹ کی جاب کے لیے اپلائی کیا تھا۔۔۔۔اس نے اخبار میں ایڈ دیکھا اور ٹی سی ایس کے ذریعے اپنے ڈاکومینٹس بھجوا دیے تھے۔۔۔۔
ٹھیک دس دن بعد اسے انٹرویو کی کال آئی تھی اور آج وہ وہاں انٹرویو دینے آئی
تھی۔۔۔۔۔
ابیہا جیسے ہی پارلر میں اینٹر ہوئی وہاں کی چکاچوند دیکھ کر حیران رہ گئی ۔۔۔۔۔وہ پارلر تھا یا کوئی محل۔۔۔۔۔اتنا خوبصورت اور ویل فرنشڈ پارلر ابیہا نے آج پہلی دفعہ دیکھا
تھا۔۔۔۔۔وہ حیران سی آگے بڑھی
اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔اس نے وہاں موجود لڑکی سے کہا۔۔۔۔جو ٹی شرٹ اور تنگ جینز پہنے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
آئی ایم ابیہا ہاشم۔۔۔۔۔۔مجھے انٹرویو کال آئی تھی۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔اس لڑکی نے ہونٹ سکیڑے۔۔۔تم ہو ابیہا ہاشم۔۔۔۔۔وہ اس کے حلیے پر تمسخرانہ نظر ڈالتی مسکرائی
جی۔۔۔۔۔
اوکے فائن سٹ ڈئیر اینڈ ویٹ ۔۔۔۔میم ابھی نہیں آئیں۔۔۔وہ روکھے انداز میں کہہ کر اپنے سیل پر بزی ہو گئی۔۔۔۔
ابیہا وہاں موجود صوفوں کیطرف بڑھ گئی۔۔۔
تقریًبا آدھہ گھنٹہ انتظار کے بعد ایک ماڈرن سی تیس، بتیس سال کی لڑکی داخل ہوئی اور
سر ہلا کر سب کو وش کرتی اپنے آفس میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
یہی ہوں گی میم۔۔۔۔۔یہ بھی اتنی ماڈرن ہے اور میں۔۔۔۔۔ابیہا نے خود کو دیکھا ۔۔۔بلیک شلوار، براؤن قمیض پر بلیک بڑی سے چادر ماتھے تک اوڑھے وہ یہاں موجود سب لڑکیوں سے الگ تھلگ اور عجیب لگ رہی تھی۔۔۔
مس ابیہا ہاشم ۔۔۔۔میم بلا رہیں آپ کو۔۔۔۔اطلاع دی گئی
جی۔۔۔۔۔ابیہا مرے مرے قدم اٹھاتی آفس گئی
جہاں موجود میم نے چند پیشہ ورانہ سوالات کیے۔۔۔۔
جی تو مس ابیہا ہاشم۔۔۔۔۔آپ کی ایجوکیشن اٹریکٹو ہے بٹ۔۔۔۔وہ رکی
ایکچولی ابیہا۔۔۔۔آپ کو خود میں تھوڑا سا چینج لانا ہو گا
مثلًا ۔۔۔۔ابیہا سمجھ تو گئی تھی مگر پھر بھی اسکے منہ سے سننا چاہتی تھی
آپ کو اپنی ڈریسنگ تھوڑی بدلنا ہو گی
بس۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکرائی
سوری میم۔۔۔۔میں نہ تو دوپٹہ اتار کر پھر سکتی ہوں اور نہ ہی تنگ جینز پہن کر خود کو شو آف کر سکتی ہوں اسلیے آپ اپنی ریکوائرمینٹ کے مطابق ہی کسی کو ہائر کر لیں۔۔۔۔۔ابیہا بات ختم کرتی کھڑی ہوئی
مگر میں نے نہ تو تم سے دوپٹہ اتارنے
کو کہا ہے اور نہ ہی جینز پہننے کو۔۔۔۔وہ حیران ہوتی بولی
کہا نہیں پر کہنا تو یہی چاہ رہی ہیں۔۔۔
دیکھو ابیہا مجھے واقعی پڑھے لکھے اور سنسئیر اسٹاف کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔یہاں جو لڑکیاں پہلے موجود ہیں وہ ماڈرن ضرور ہیں مگر محنتی نہیں ہیں۔۔۔۔اسی لیے میں تمہیں اپائنٹ کرنا چاہ رہی ہوں۔۔۔۔تمہارے حلیے سے مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر اس چادر کی بجائے اگر دوپٹے سے خود کو کور کر لو گی تو بری نہیں لگو گی۔۔۔۔پے اور ٹائم بھی ڈسکس ہو جائے گا اگر تم ایگری ہو تو۔۔۔۔۔وہ پینسل گھماتی ابیہا کو دیکھ کر بولی
ابیہا سر ہلاتی واپس چئیر پر بیٹھ گئی۔۔۔

آئلہ میم نے سیلری اور ٹائم ڈسکس کر کے ابیہا کو اوکے کیا۔۔۔۔۔ اور دو دن بعد وہاں جاب شروع کرنے کا کہا
ابیہا شکریہ ادا کرتی واپسی کے لیے نکلی۔۔۔۔۔مگر جاتے جاتے اس کلب کے سامنے آنا نہ بھولی جہاں وہ وقفے وقفے سے چار دفعہ آ چکی تھی مگر وہ نہیں آیا۔۔۔۔۔
آج بھی وہ مایوس سی واپس لوٹ آئی
تھی۔۔۔۔۔
………………………………………………

ضرار بیٹا شادی کر لے۔۔۔۔کب تک یونہی چھڑا چھانٹ پھرتا رہے گا۔۔۔۔۔اماں جان نے پاس بیٹھے ضرار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔۔
اماں جان میں جب بھی آتا ہوں۔۔۔۔آپ شادی کی بات کرتی ہیں اسی لیے یہاں کم آنے لگا ہوں اور اسکی بھی شکایت ہے آپ کو۔۔۔۔وہ نڑوٹھا سا بولا
میری جان سمجھ میری بات کو۔۔۔۔۔
مجھے شادی نہیں کرنی ہے کیسے سمجھاؤں
آپ کو کہ مجھے اپنی زندگی میں اب کسی کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
دیکھ آج نہیں ہے ضرورت مگر مزید چند سال گزرنے پر تجھے گھروالی اور بچوں کی ضرورت محسوس ہو گی تب کیا کرے گا۔۔۔۔
اوف اماں جان یہ گھروالی کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔وہ لفظ گھروالی سن کر محظوظ ہوا
چل مجھے باتوں میں مت لگا مان جا میری بات ضرار۔۔۔۔۔وہ بضد ہوئیں
اماں جان پلیز۔۔۔۔ابھی نہیں ابھی دل نہیں مانتا جب مجھے لگا کہ اب شادی کر لینی چاہیئے تو آئی پرامس کر لوں گا
ہاں بڈھا ہو کر کرے گا۔۔۔۔مگر تب کوئی تجھے اپنی لڑکی نہیں دے گا سمجھا۔۔۔۔اماں جان نے تپ کر کہا
اُنکے تپنے پر وہ قہقہ لگا کر ہنسا۔۔۔

ارے بھئی کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔عالم شاہ مسکراتے ہوئے اماں جان کے کمرے میں داخل ہوئے
کچھ نہیں ۔۔۔۔تیرے اس لاڈلے کو شادی کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔وہ ضرار کو دیکھ کر ناراض سی بولیں
تو پھر مانا کہ نہیں۔۔۔۔۔وہ مسکرائے
میری تو نہیں مانا۔۔۔تم کہہ لو مان جائے تو۔۔۔

ضرار اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔۔اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے۔۔۔۔اُس واقعے کو گزرے پانچ سال ہونے والے ہیں۔۔۔اور ضروری نہیں کے ہر عورت ایک جیسی ہو۔۔۔ایک بار اپنا اعتبار تو بحال کرو سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا۔۔عالم شاہ نے بھی پیار سے سمجھایا
پلیز ڈیڈ مجھے فورس مت کریں۔۔۔۔مجھے شادی نہیں کرنی ہے۔۔۔۔اٹس فائنل۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا

کیسی ناہنجار لڑکی تھی وہ۔۔۔۔ جو میرے بچے کو بے اعتباری کا روگ لگا گئی۔۔۔۔۔کیسے گزارے گا اب وہ زندگی اکیلے۔۔۔۔پہلے ایک بیٹی کا غم سینے میں دبائے بیٹھی ہوں اور اب پوتے کا غم۔۔۔۔۔وہ افسردہ ہوئیں
اماں آپ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔عالم شاہ نے ماں کے ہاتھ تھامے
کب ٹھیک ہو گا جب میری آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔۔۔۔
اماں پلیز۔۔۔۔۔فکر مت کریں ہم ڈھونڈ لیں گے اُسے۔۔
ہاں عالم ڈھونڈ لو اُسے میں مرنے سے پہلے اُس کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔اس سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ رو دیں
عالم شاہ نے ماں کے کمزور وجود کو بازؤں کے حلقے میں لے لیا۔۔۔۔۔۔۔۔
……….………………………………………

ابیہا نے سکول کی جاب چھوڑ کر پارلر کی جاب کر لی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ دوپہر بارہ بجے جاتی اور رات کو دس بجے واپس آتی۔۔۔۔پک اینڈ ڈراپ اور اچھا سیلری پیکج مل گیا تھا اسے اس جاب سے۔۔۔
شاذمہ نے منع کیا تھا کہ رات تک وہاں کام مناسب نہیں۔۔۔۔مگر ابیہا نے ماں کو مطمعین کر لیا تھا۔۔۔۔۔
پارلر کی لڑکیوں سے اُس نے زیادہ میل جول نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔۔۔۔
جس پر اسے سڑیل، ایگوایسٹک اور ناجانے کیا کیا خطاب ملے۔۔۔مگر اسے ان سب کوئی سروکار نہ تھا۔۔۔۔وہ وقت سے جاتی اپنا کام کرتی اور واپس آ جاتی۔۔۔۔
آئلہ میم اسکے کام سے خوش تھی۔۔۔۔اسلیے ابیہا بھی مطمعین سی وہاں کام کر رہی تھی۔۔۔۔۔
………………………………………………

میم آج مجھے ذرا جلدی گھر جانا ہے اس لیے نو بجے آف مل سکتا ہے۔۔۔۔۔ابیہا میم آئلہ کے آفس میں چھٹی لینے آئی تھی
خیریت۔۔۔۔
جی میم۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔بٹ جاؤ گی کیسے۔۔۔۔وین تو سب لڑکیوں کو لے کر دس بجے نکلے گی
جی میم۔۔۔۔میں ٹیکسی سے چلی جاؤں گی
اوکے فائن ۔۔۔۔یو کین گو۔۔۔۔وہ مسکرائیں
تھینکس میم۔۔۔۔ابیہا شکریہ ادا کرتی چادر اوڑھتی جلدی سے باہر نکلی۔۔۔۔۔
اُسے کافی دن ہو گئے تھے کلب کیطرف گئے وہ آج وہاں جانا چاہتی تھی اس لیے جلدی نکل آئی تھی پارلر سے۔۔۔۔۔
………………………………………………

وہ آدھے گھنٹے سے وہاں کھڑی تھی۔۔۔۔بہت سی گاڑیاں آئیں۔۔۔۔بہت سے مرد آئے مگر وہ نہیں آیا۔۔۔۔وہ مزید دس منٹ بعد مایوس سی پلٹی ہی تھی کہ سامنے سے آتی بلیک کار کو دیکھ کر رکی ۔۔۔۔اس میں بیٹھے آدمی کو دیکھ کر وہ واپس مڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی کلب کی پارکنگ کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
رُکیے ،سنئیے پلیز۔۔۔۔۔۔۔وہ پھولی سانسوں کے درمیان بولی
ضرار پیچھے سے آتی نسوانی آواز پر رکا مگر پلٹا نہیں۔۔۔۔۔
ابیہا جلدی سے سامنے آئی۔۔۔۔۔اور اپنے سامنے اُسی ہینڈسم کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر سانس ہموار کرنے لگی
آواز آپ نے دی تھی۔۔۔۔۔وہ اسکی خاموشی پر چڑا
جج۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔میں ابیہا۔۔۔۔۔وہ اس کے تیور دیکھ کر بوکھلائی
سوری۔۔۔۔مس ابیہا۔۔۔۔میں نے آپ کو کسی نیوز چینل میں بطور بریکنگ نیوز نہیں دیکھا۔۔۔۔۔اس لیے معذرت۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھا

پلیز پلیز سر رکیے۔۔۔۔میری بات سنیں تو۔۔۔ابیہا نے جلدی سے آگے آ کر راستہ روکا
واٹ دا ہیل ود یو۔۔۔۔وہ اسکے راستہ روکنے پر سیخ پا ہوا
سس۔۔۔سوری پلیز۔۔۔۔۔۔میری بات
نہیں سُننی مجھے کوئی بات ۔۔۔۔ہٹو سامنے سے ۔۔۔ضرار نے اسے بازو سے پکڑ کر ہٹایا
ابیہا کو اسکا دیا پہلا لمس نہیں بھولا تھا اور اب اُسی ہاتھوں نے اسے بازؤں سے پکڑا تھا وہ اسی لمس میں گم وہاں کھڑی رہ گئی

اوو میڈم راستے میں کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔راستہ چھوڑ کر کھڑی ہو۔۔۔گن مین نے کرخت آواز میں کہا
ابیہا ہوش میں آتی راستے سے ہٹی۔۔۔وہ سنو ابھی جو اندر گئے ہیں ان کا نام کیا ہے۔۔۔۔
کون ضرار شاہ صاحب۔۔۔۔؟؟؟
ہاں ابھی جو یہاں میرے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔
وہ ضرار صاحب تھے۔۔۔۔۔

مم۔۔۔مجھے ان کا ایڈریس مل سکتا ہے۔۔۔
اوہ بی بی جو بھی مانگنا تھا ان سے مانگ لیتی میں نہیں جانتا۔۔۔۔جاؤ وقت مت ضائع کرو۔۔۔۔وہ اکتاتا ہوا کہتا واپس اپنی جگہ پر چلا گیا

ابیہا سوچ میں پڑ گئی آیا واپس چلی جائے یا پھر اندر۔۔۔۔۔اگر واپس چلی گئی تو پھر وہ اس ضرار شاہ کو کہاں ڈھونڈے گی۔۔۔
مجھے اندر جا کر ایک بار بات کر لینی چاہیے پھر پتا نہیں ملے یا نہ ملے۔۔۔۔ابیہا یہی سوچتی آگے بڑھی
وہ ہونق سی وہاں ادھر اُدھر دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
ضرار نے سیگرٹ کا کش لگاتے ہوئے اُسے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔
ایڈیٹ یہاں آ گئی ہے۔۔۔وہ پہچان چکا تھا اُسے مگر شو نہیں کرنا چاہتا تھا
ابیہا کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی وہ جلدی سے اس تک آئی
دیکھیے پلیز ضرار شاہ صاحب میری بات سن لیں ایک دفعہ پلیز۔۔۔۔۔وہ ملتجی ہوئی
ضرار نے ایک خون آلود نظر اس پر ڈالی اور ایش ٹرے میں سیگرٹ مسل کر اپنا سیل اور گاڑی کی چابی اٹھاتا ایگزیٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
یہ۔۔۔یہ کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ابیہا حیران ہوتی اُس کے پیچھے ہی باہر آئی

اوو ہیلو مسٹر خود کو کیا سمجھ رہے ہو۔۔۔۔۔جو اتنی اکڑ ہے تمہاری کہ بات بھی نہیں سن رہے۔۔۔۔۔ابیہا لحاظ بلائے طاق رکھتی اس کے پاس آ کر چلائی
تو کون کہہ رہا ہے کرو بات۔۔۔۔۔وہ بھی دوبدو بولا
میں ہی پاگل تھی جو پیچھلے چھ ماہ سے تم جیسے بدتمیز کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔
ایگزیٹلی۔۔۔۔۔تم مجھے پاگل ہی لگی ہو اگر کہتی ہو تو میں تمکو پاگل خانے ڈراپ کر سکتا ہوں۔۔۔۔ضرار نے فرصت سے بازو باندھے گاڑی سے پشت ٹکائے اسکو دیکھ کر
پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ہو پاگل تمہیں کسی سائکیٹرٹس کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے مجھے چھوڑنے کی بجائے خود جاؤ وہاں۔۔۔۔وہ بلند آواز میں نتھنے پھلا کر چلائی
ضرار آج ناجانے کتنے عرصے بعد کسی لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔۔وہ بھی اُسکے غصے سے پھولتے نتھنے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔
میں جوک نہیں سنا رہی تمہیں۔۔۔۔وہ اس کھڑوس کی مسکراہٹ دیکھ کر چڑی
مگر جوکر لگ ضرور رہی ہو۔۔۔۔وہ کُھل کر مسکرایا
میں یہاں تمہارا شکریہ ادا کرنے آئی تھی
کس لیے۔۔۔۔؟؟؟؟
تم نے اس روز مجھے چیک دے کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا تھا ضرار شاہ اور میں اسی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔۔۔
اوکے۔۔۔۔کر چکی اب جاؤ۔۔۔۔وہ گاگلز پہنتا گاڑی ان لاک کرتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
رُکیے پلیز۔۔۔۔میری بات تو۔۔۔۔۔۔
ابھی بھی رہتی ہے کوئی بات۔۔۔۔وہ تیوری چڑھا کر بولا
جی۔۔۔۔جی وہ میں آپ کے پیسے لوٹانا چاہتی ہوں۔۔۔وہ جلدی سے بولی
تو لوٹا دو ۔۔۔۔۔لاپرواہی سے کہا گیا
مگر کہاں۔۔۔۔میرا مطلب ہے آپ کا کوئی ایڈریس یا فون نمبر ۔۔۔۔۔۔
ان کی ضرورت نہیں۔۔۔۔تم اکثر یہاں آتی رہتی ہو گی۔۔۔۔ضرار نے کلب کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔میں بھی آتا ہوں یہاں۔۔۔۔یہیں لوٹا دینا۔۔۔۔کہہ کر دروازہ بند کرتا گاڑی بڑھا لے گیا۔۔۔
پیچھے ابیہا اسکی بات کا مفہوم سمجھتی ساکت تھی۔۔۔۔۔۔۔
کیا وہ مجھے ایسی لڑکی سمجھ رہا ہے۔۔۔۔۔؟

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post