Kisi Meharban Na Aakey Ep No 8 | Urdu Novels

Kisi Meharban Na Aakey Ep No 8 | Urdu Novels


کسی مہربان نے آکے

از قلم ماہ وش چوہدری

قسط نمبر 8


وہ کیا کہہ گیا تھا ابیہا کو۔۔۔۔وہ حیران تھی ضرار شاہ کی بات سن کر۔۔۔۔
وہ مجھے ایسی لڑکی سمجھ رہا ہے۔۔۔۔اونہہ
خود جو ایسا ہے اس لیے دوسروں کو بھی اپنے جیسا سمجھتا ہے۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔اسٹوپڈ
وہ کڑھ کر ضرار کو مختلف خطاب دیتی واپس گھر آ گئی۔۔۔۔
...……………………………………………

ابیہا تمہیں آئلہ میم اپنے آفس میں بُلا رہی ہیں۔۔۔ساعقہ نے ریسپشن پر موجود ابیہا سے کہا
اوکے آتی ہوں۔۔۔۔۔
ابیہا آئلہ میم کے آفس میں داخل ہوئی
جی میم آپ نے بلایا۔۔۔؟؟؟
ہاں ابیہا بیٹھو تم۔۔۔۔۔آئلہ نے چئیر کی طرف اشارہ کیا
تھینکس۔۔۔۔۔ابیہا بیٹھ گئی
وہ ایکچولی ابیہا مجھے کچھ پرسنل پوچھنا تھا تم سے۔۔۔۔۔۔اف یو ڈونٹ مائنڈ
جی میم پوچھیں۔۔۔۔وہ حیران ہوئی
آر یو انگیجڈ۔۔۔۔؟؟؟
نو میم۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔وہ اصل میرے پاس ایک پرپوزل تھا بہت اچھا میں نے سوچا تم سے بات کرلوں۔۔۔۔
میں کیا کہہ سکتی ہوں میم۔۔۔۔جو بھی کہیں گی امی ہی ۔۔۔۔۔
اوکے تم مجھے اپنی مدر کا کانٹیکٹ نمبر دے دو میں بات کر لوں گی ہاں۔۔۔۔وہ مسکرائی
جی۔۔۔۔۔ابیہا گھر کا سیل نمبر لکھ کر واپس آ گئی
ایسا کونسا پرپوزل ہو گا میم کے پاس جو میرے لیے ہے۔۔۔۔۔وہ سوچتی ہوئی کام مصروف ہو گئی
………………………………………………

ابیہا تھکی تھکی گھر آئی مگر رات کے
اس پہر مالک مکان کو گھر میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔ جو اونچی آواز میں چلا رہا تھا
کیا بات ہے کیوں چلا رہے ہو۔۔۔۔۔ابیہا بھی بلند آواز سے بولی
بیا تم کمرے میں جاؤ میں دیکھ لوں
گی۔۔۔۔۔۔شاذمہ بولیں
نہیں امی مجھے بات کرنے دیں
ہاں بولو۔۔۔۔۔وہ اسکی جانب مڑی

تمہاری ماں کو پیچھلے ماہ بتایاتھا کہ گھر کا کرایہ تین ہزار بڑھا دیا ہے
مگر اس ماہ کا کرایہ پھر پہلے جتنا ہی دیا کیوں۔۔۔۔؟؟؟
دیکھو چاچا۔۔۔۔۔ہم نے اتنا ہی کرایہ دینا ہے
کوئی بڑھا کر نہیں دینے والے اس لیے روز روز یہاں آ کر تماشہ مت کیا کرو۔۔۔
وہ ابیہا کے چاچا کہنے پر سخت بدمزا ہوا۔۔۔۔۔تو پھر گھر خالی کرو
کر دیں گے دو تین ماہ تک۔۔۔۔۔۔جاؤ اب
یہاں سے۔۔۔۔
ابھی تو جا رہا ہوں مگر ایک ماہ کا وقت ہے تم ماں بیٹیوں کے پاس۔۔۔۔۔۔۔ میرا گھر خالی کر دو ورنہ سامان اٹھوا کر باہر پھینکوا دوں گا۔۔۔۔۔وہ ہاتھ اٹھا کر وارننگ دیتا چلا گیا

خدا کی پناہ بہت ہی بدزبان ہے یہ۔۔۔۔۔ابھی تمہارے آنے سے پہلے اتنی واہیات باتیں کہہ رہا تھا کمینہ۔۔۔۔نیہا نے کڑھ کر کہا
دروازہ مت کھولا کرو اتنی دفعہ منع کیا
ہے۔۔۔۔اس منحوس کی بات بند دروازے سے
سنا کرو۔۔۔۔
اچھا بس کرو اب تم دونوں۔۔۔۔میں عشاء کی نماز پڑھ لوں۔۔۔بیا تم کھانا کھا کر میری بات سنو آ کر۔۔۔۔شاذمہ ابیہا سے کہتیں کمرے میں چلی گئیں۔۔۔۔
جی آتی ہوں۔۔۔۔۔۔
ابیہا سارے کاموں سے فارغ ہو کر شاذمہ بیگم کے کمرے میں آئی۔۔۔۔
جی امی بتائیں کیا بات کرنی تھی آپ کو۔۔۔۔اس نے ماں کی ٹانگیں دباتے پوچھا
ابیہا وہ آج رفعت آئیں تھیں نیہا کے سکول کی پرنسپل۔۔۔۔
(نیہا نے بھی قریبی سکول میں ٹیچنگ جاب کر لی تھی کچھ ماہ پہلے)
وہ کیا کرنے۔۔۔۔وہ حیران ہوئی
وہ اپنے چھوٹے بھائی کے لیے نیہا کا رشتہ لائی ہیں۔۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔۔وہ خوش ہوئی
کیا کرتا ہے لڑکا۔۔۔؟؟؟
ایم کام کر کے بینک کی جاب کر رہا ہے اچھی تنخواہ ہے۔۔۔۔۔۔۔اکلوتا بھی ہے۔۔۔۔بڑی دو بہنیں ہیں۔۔۔ایک تو رفعت ہے اور دوسری رافعہ ہے دونوں شادی شدہ ہیں۔۔۔۔گھر میں بس والدین اور اسد (لڑکا) ہی ہوتے ہیں
لگ تو مناسب رہا ہے ۔۔۔۔آپ نے کیا کہا
پھر۔۔۔۔۔۔وہ ایکسائیٹڈ ہوئی

میں نے کہا ہے سوچ کر بتاتے ہیں مگر بیا وہ لوگ جلد شادی کے خواہش مند ہیں
تو کیا ہوا امی ہم دیکھ لیتے ہیں لڑکا اگر اچھا ہوا تو کر دیں گے۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر اتنے پیسے۔۔۔۔۔وہ خاموش ہوئیں
امی بینک میں ہیں کچھ رقم اس سے زیادہ نہ سہی مگر تھوڑا بہت ہو ہی جائے گا۔۔۔۔ویسے بھی وہ ہمارے حالات دیکھ ہی گئیں ہیں۔۔۔۔

بینک میں پیسے کہاں سے آئے۔۔۔۔۔وہ حیران ہوئیں
وہ۔۔۔۔۔وہ امی۔۔۔۔وہی ہیں جو وہ اس شخص نے دیے تھے
آپکے آپریشن اور ادویات کا خرچ نکال کر جو بچے تھے میں نے بینک میں ڈپازٹ کروا دیے تھے
تمہیں ملا کہیں وہ۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ابیہا نے نہیں میں سر ہلایا
ناجانے کون تھا۔۔۔۔کسی اچھے ماں باپ کی ہی اولاد ہو گا تبھی تو اتنا رحمدل تھا کے بنا جان پہچان کے اتنی بڑی رقم دے گیا۔۔۔۔شاذمہ متاثر تھیں اس ان دیکھے شخص سے
اونہہ۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔پورا بدتمیز ہے وہ رحمدل شخص۔۔۔ابیہا کو ضرار شاہ سے ہوئی ملاقات یاد آئی
چلو پھر میں ان کو کہہ دیتی ہوں کہ ہم لڑکا دیکھ لیں پہلے پھر ہی کوئی فائنل فیصلہ ہو گا۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کرو تھکی ہوئی آئی ہو جا کر آرام
کرو۔۔۔۔انہوں نے محبت سے اسکے ہاتھ پکڑ کر کہا
جی۔۔۔جا رہی ہوں آپ بھی آرام کریں۔۔۔۔ابیہا مسکراتی ہوئی باہر نکل آئی

تھا تو بدتمیز مگر ہمارے لیے تو فرشتہ ہی
ثابت ہوا ہے۔۔۔۔۔اسکے دیے پیسوں سے یہ کام بھی آدھا ہو جائے گا۔۔۔۔۔
تم جہاں بھی رہو ضرار شاہ خوش رہو۔۔۔ابیہا نے تصور میں ضرار کو دیکھ کر دل سے دعا دی
اور بستر پر لیٹ کر آنکھیں میچ لیں
………………………………………………

ابیہا اور شاذمہ بیگم دونوں لڑکا دیکھ آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔انہیں لڑکا اور گھر دونوں ہی پسند آئے تھے
ابیہا نے محلے والوں سے اور بینک میں ایک دو لوگوں سے معلومات لے لی تھیں۔۔۔۔
یوں ہر طرف سے پازیٹیو ریسپونس پر ہاں کر دی گئی تھی
اور ایک ماہ بعد کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی شادی کی۔۔۔۔
اسد کے والد بیمار تھے اس لیے وہ لوگ جلد شادی کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔۔
کوئی مرد تو تھا نہیں اسلیے ابیہا ہی سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔اسد کے گھر والوں نے جہیز سے منع کر دیا تھا
اس لیے شاذمہ بیگم کی ذمہ داری کافی کم ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔مگر پھر بھی جتنا کر سکتیں تھیں کر رہیں تھیں
ابیہا بھی بہت مصروف تھی آجکل جاب کیساتھ ہی بازار کے چکر بھی
لگ رہے تھے

آج وہ میم آئلہ سے ہاف لیو لینے آئی تھی۔۔
میرج ہال کی بکنگ کروانے جانا تھا
اس نے۔۔۔۔
میم مجھے ہاف لیو مل جائے گی
خیریت۔۔۔۔آئلہ نے تیوری چڑھا کر پوچھا
ابیہا نوٹ کر رہی تھی کچھ دن سے آئلہ کا رویہ اسکے ساتھ کافی آکورڈ سا تھا

جی میم وہ میری سس کی شادی ہے تو اسی سلسلے میں ہال بک کروانے جانا ہے
اوہ تو تمہاری مدر تم سے پہلے تمہاری چھوٹی بہن کی شادی کر رہیں ہیں سٹرینج۔۔۔۔۔۔اسی لیے مجھے انکار کر دیا
میں سمجھی نہیں میم آپ کی بات۔۔۔۔۔ابیہا حیران ہوئی
میں نے تمہاری مدر سے بات کی تھی تمہارے پرپوزل کی جو تمہیں بھی بتایا تھا
مگر انہوں نے فورًا ہی انکار کر دیا۔۔۔

کیا تھا اگر مُراد پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ تھا۔۔۔۔۔مگر تھا تو پیسے والا اور بیوی بھی مر چکی تھی
دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اب۔۔۔۔۔۔تھوڑا بہت کمپرمائز کر لیتیں تو زندگی سنور جاتی تم لوگوں گی۔۔۔۔وہ ناک چڑھا کر بولی
مگر امی نے نامناسب سمجھ کر ہی منع کیا ہو گا میم۔۔۔۔آئی ایم سوری اگر آپ کو برا
لگا تو۔۔۔۔ابیہا نے معذرت کی
نہیں مجھے کیوں برا لگے گا مُراد کو تو بہت سی لڑکیاں مل جائیں گی مگر تمہارا۔۔۔۔۔وہ رکی۔۔۔۔اوکے فائن تم چلی جاؤ
تھینک یو میم۔۔۔۔۔ابیہا شکریہ ادا کرتی باہر آ گئی۔۔۔۔امی نے مجھ سے تو کوئی بات نہیں کی اس بارے میں حیرت ہے۔۔۔۔۔
وہ حیران ہوتی چادر اوڑھ کر ہال بک کروانے چل دی
………………………………………………

کروا آئی ہال کی بکنگ۔۔۔۔ابیہا کو کمرے میں آتے دیکھ کر شاذمہ نے پوچھا
نہیں۔۔۔۔۔کھرا جواب آیا
کیوں۔۔۔۔۔وہ کام چھوڑ کر پلٹیں
وہ پیسے بہت زیادہ مانگ رہے تھے امی ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے میں کیٹرنگ والوں سے بات کر آئی ہوں وہ گھر میں ہی انتظام کر دیں گے
ہر گز نہیں۔۔۔۔۔ان لوگوں نے جہیز سے بھی منع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ اب ان کے مہمانوں کو کھانا پانی تو اچھا دینا چاہیے ہمیں۔۔۔۔۔
وہ تو گھر میں بھی دے سکتے ہیں۔۔۔توجیہ دی گئی
گھر میں اتنا مناسب انتظام نہیں ہو گا …اور پھر گھر میں کونسا تمہارا باپ بھائی موجود ہے جو بھاگ دوڑ کرے گا۔۔۔۔
مگر امی پیسے۔۔۔۔وہ منمنائی
میں کر لوں گی۔۔۔۔۔تم چائے پانی پی لو پھر جیولر کے پاس جانا ہے
جیولر کے پاس کیا کرنے۔۔۔۔۔ابیہا حیران ہوئی

بیا ہر بات کی کھال مت اتارا کرو جاؤ
اٹھو۔۔۔۔انہوں نے بازو پکڑ کر اُسے کھڑا کیا
امی کہیں آپ اپنے کنگن تو نہیں بیچنے کا سوچ رہی۔۔۔۔وہ تہہ تک پہنچی
ابیہا۔۔۔۔۔۔۔تنبیہ ہوئی
امی پلیز وہ کنگن تو آپ نے ابا سے بھی بچا چھپا کر رکھے تھے کہ وہ آپ کی اماں کی نشانی تھی۔۔۔۔۔پھر اب کیوں بیچ رہی ہیں

تمہیں جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔ورنہ میں اکیلی
چلی جاؤں گی سمجھی
اچھا جا رہی ہوں۔۔۔۔۔ابیہا ماں کے تیور دیکھ کر باہر نکل گئی۔۔
………………………………………………

کیسی طبیعت ہے برخودار ۔۔۔۔۔۔۔عالم شاہ نے ضرار کے کمرے میں داخل ہو کر پوچھا
ڈیڈ آپ۔۔۔۔۔۔وہ جلدی سے کمبل ہٹا کر بیڈ سے اترا
جی ہاں ہم۔۔۔۔۔۔تم نے تو بتایا نہیں کہ طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہمیں پرواہ ہے اسی لیے چلے آئے۔۔۔۔۔وہ بیٹے سے بغلگیر ہوتے بولے
نہیں ٹھیک ہوں میں۔۔۔بس ذرا زکام ہو گیا
تھا۔۔۔۔۔۔ بتایا اس لیے نہیں کے اماں جان پریشان ہو جاتیں
نواز بتا رہا ہے کل لاہور جا رہے۔۔۔۔
جی کام ہے کچھ۔۔۔۔۔ضرار نے آہستہ سا جواب دیا
سب سے پہلے صحت کو رکھا کرو پھر باقی کام ۔۔۔۔۔بہت لاپرواہ ہو گئے ہو اپنی طرف سے۔۔۔۔۔اسی لیے ہم چاہتے ہیں شادی کر لو تاکہ کوئی تو ہو جو تمہارا خیال رکھے اور ہم بھی بے فکر ہو جائیں۔۔۔۔عالم شاہ نے پھر سے شادی کا موضوع چھیڑا
ڈیڈ پلیز۔۔۔۔۔میں کوئی بچہ نہیں کے مجھے کسی خیال رکھنے والی کی ضرورت ہو۔۔۔۔۔میں اپنا خیال خود رکھ سکتا ہوں
مگر بیٹا جی زندگی گزارنے کے بہت سے تقاضے ہیں۔۔۔اور ان تقاضوں کو پورا کر کے ہی ہم ایک آئیڈیل لائف گزارتے ہیں۔۔۔انہوں نے سمجھانا چاہا
آپ آج رکیں گے ناں۔۔۔۔میں نواز سے کہتا ہوں وہ آپ کی پسند کا مینیو کُوک کو بتا دے۔۔۔ضرار بات بدلتا کھڑا ہوا

ارے نہیں یار۔۔۔۔مجھے زمینوں کا کچھ کام ہے اس لیے کچہری جانا ہے۔۔۔۔وہیں سے واپس حویلی کے لیے نکل جاؤں گا۔۔۔۔تم آرام کرو۔۔۔۔ تمہیں دیکھنے ہی آیا تھا میں۔۔۔دیکھ لیا اب چلتا ہوں ۔۔۔۔خیال رکھا کرو یار ۔۔۔۔عالم شاہ نے اس کے پاس جا کر کندھا تھپتھپایا
جی۔۔۔۔۔آپ ڈرائیور کے ساتھ آئے ہیں
ہاں کرم داد ہے میرے ساتھ۔۔۔۔چلتا ہوں۔۔۔انہوں نے مصافحہ کیا اور نکل گئے
ضرار پورچ تک انہیں چھوڑنے آیا تھا
……………………………………………

ابیہا کی بات سچ نکلی۔۔۔۔شاذمہ بیگم واقعی ہی اپنے کنگن بیچنے آئیں تھیں
امی مت کریں ایسا۔۔۔۔وہ ماں کے کان میں بڑبڑائی
چپ ہو جاؤ ابیہا۔۔۔۔۔تنگ مت کرو مجھے۔۔۔وہ غصے سے کہتیں شاپ کیپر سے پرائس طے کرنے لگیں
ابیہا کو چاروناچار چپ ہی ہونا پڑا
وہ دونوں پیسے لے کر شاپ سے باہر نکلیں
اب ہمیں ہال بک کروانا ہے میں وہاں سے (انہوں نے سڑک کے دوسری جانب اشارہ کیا)۔ٹیکسی کا پتا کرتی ہوں تم تب تک وہ فروٹ والے سے انگور لے آؤ۔۔۔۔نیہا کو پسند ہیں۔۔۔۔انہوں پیسے پکڑائے
جاتی ہوں میں۔۔۔۔۔مگر آپ مجھے آنے دیں پھر اکھٹے ہی روڈ کراس کریں گے۔۔۔۔ابیہا نے سڑک پر رواں دواں گاڑیوں کو دیکھ کر کہا

بچی نہیں ہوں میں کرلوں گی روڈ کراس اور ویسے بھی لیٹ ہو رہے ہیں۔۔۔۔ ابھی مغرب ہو جائے گی نیہا گھر پر اکیلی ہے۔۔۔۔تم جاؤ دھیان سے۔۔۔۔۔شاباش میرا بچہ۔۔۔وہ مسکرائیں
اوکے جاتی ہوں۔۔۔۔ابیہا تیز تیز قدم اٹھاتی اس فروٹ والے کیطرف بڑھی۔۔۔۔ایک دو بار پلٹ کر ماں کو بھی دیکھا اپنی تسلی کر کے۔۔۔۔۔ وہ فروٹ والے سے قیمت پر بحث کرنے لگی

ایک سو پچاس روپے بہت زیادہ ہیں بھائی میں ایک سو دوں گی
ارے جانے دو باجی کس زمانے کی بات کرتا ہے ۔۔۔اب تم کو کون دے گا سو روپے کا۔۔۔وہ اتنا کم ریٹ سن کر بدمزا ہوا
اچھا چلو ایک سو بیس لے لو اس سے زیادہ ایک روپیہ نہیں دوں گی
باجی ایک سو چالیس۔۔۔۔
نہیں میں ایک سو بیس ہی۔۔۔۔چڑ۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔۔۔ڑ۔۔۔۔۔۔ڑ کی آواز نے اسکی بات روکی
ابیہا جلدی سے پلٹی۔۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔ی اُسکے منہ سے چیخ بلند ہوئی
………………………………………………

عالم شاہ ضرار کیطرف سے ہو کر کورٹ
گئے اور وہاں کا کام نپٹا کر وہ واپس حویلی کے لیے جارہے تھے۔۔۔۔۔جب راستے میں لوگوں کا ہجوم دیکھا جو راستہ بلاک کیے ہوئے تھا
لگتا ہے کوئی ایکسیڈینٹ ہوا ہے شاہ جی۔۔۔۔کرم داد (ڈرائیور) نے اندازہ لگایا
ہونں ۔۔۔۔مجھے بھی یہی لگ رہا ہے
میں دیکھتا ہوں جا کر۔۔۔۔۔کرم داد گاڑی سے نکل کر ہجوم کیطرف گیا
عالم شاہ نے چند منٹ انتظار کیا اور گاڑی سے نکلنے ہی والے تھے کہ کرم داد ہانپتا ہوا واپس آیا۔۔۔

شاہ۔۔۔۔۔شاہ جی۔۔۔۔۔وہاں۔۔۔۔وہاں۔۔۔۔۔وہ پھولی سانسوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولا
کیا ہوا کرم داد خیریت ۔۔۔۔۔وہ کرم داد کے اڑے حواس دیکھ کر پریشان ہوئے (کرم داد حویلی کا بہت پرانا ملازم تھا وجاہت شاہ نے ہی رکھا تھا اُسے جب وہ صرف اٹھارہ سال کا تھا اور اب اُسے حویلی میں آئے لگ بھگ پچیس ،تیس سال ہو گئے تھے اور اب وہ حویلی کا ایک ضروری فرد ہی بن چکا تھا)

شاہ جی۔۔۔۔وہاں چلیں جلدی۔۔۔۔کرم داد نے ہجوم کیطرف اشارہ کیا
عالم شاہ ناسمجھی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہجوم کو چیرتے جاعےوقوعہ پر پہنچے۔۔۔۔۔مگر وہاں خون میں لت پت وجود کو سڑک کے بیچوں بیچ گرے دیکھ کر ساکت ہو چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن کے منہ سے سرگوشی برآمد
ہوئی۔۔۔۔۔۔شاذمہ۔۔۔۔۔۔

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post