Kisi Meharban Na Aakey Ep No 9 | Urdu Novels

Kisi Meharban Na Aakey Ep No 9 | Urdu Novels



کسی مہربان نے آکےاز قلم ماہ وش چوہدری
قسط نمبر 9


شاذمہ۔۔۔۔عالم شاہ کے منہ سے سرگوشی ابھری۔۔۔۔
اتنے میں وہاں ایمبولس آ چکی تھی۔۔۔۔۔جو شاذمہ بیگم کے خون آلود وجود کو ہوسپٹل لے کر روانہ ہو گئی
شاہ جی۔۔۔۔۔کرم داد نے عالم شاہ کا کندھا ہلایا
ہاں۔۔۔۔ہونں۔۔۔۔۔وہ چونکے
شاہ جی ہوسپٹل۔۔۔۔۔۔کرم داد نے وہاں جانے کا پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں جلدی۔۔۔۔۔۔میں حویلی کال کرتا ہوں۔۔۔۔عالم شاہ کہتے ہوئے اپنی لینڈ کروز کی جانب بڑھے
………………………………………………

جب تک عالم شاہ اور کرم داد ہوسپٹل پہنچے وہ لوگ شاذمہ بیگم کو ایمبرجنسی میں شفٹ کر چکے تھے۔۔۔
ابیہا وہیں ایمبرجنسی سے باہر بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔۔۔جب ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر آیا
عالم شاہ صاحب آپ۔۔۔۔۔وہ حیران ہوتا ابیہا کو چھوڑ کر عالم شاہ کیطرف بڑھا
جی۔۔۔۔۔۔شی از مائی سسٹر شاذمہ وجاہت شاہ۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا اس انکشاف پر دنگ سی کھڑی تھی
اوہ آئی سی۔۔۔۔۔ڈاکٹر رضا نے سر ہلایا
رضا صاحب کیسی طبیعت ہے۔۔۔۔وہ فکر مندی سے بولے
فلحال تو کچھ نہیں کہہ سکتے بلیڈنگ بہت زیادہ ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ایکچوئلی یہ ایکسیڈینٹ پولیس کیس ہے اس لیے ہم ٹریٹمنٹ میں۔۔۔
پلیر رضا صاحب آپ ٹریٹمنٹ شروع
کریں۔۔۔آئی وِل بی ہینڈلڈ ایوری تھینگ۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر رضا واپس آئی سی یو میں چلے گئے۔۔
عالم شاہ ابیہا کی طرف آئے جو ہچکیوں سے
رو رہی تھی۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا پریشان مت
ہو۔۔۔۔۔انہوں نے ابیہا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
باپ کہاں ہے تمہارا۔۔۔۔۔؟؟؟سوال ہوا
ابیہا نے سرخ سوجی آنکھیں عالم شاہ پر ٹکائیں
نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔مختصر جواب آیا
یہ دوسرا جھٹکا تھا جو عالم شاہ کو آج
لگا۔۔۔۔ہاشم مبین کی موت
کوئی اور بہن، بھائی۔۔۔۔؟؟؟
ایک۔۔۔۔۔چھوٹی بہن ہے۔۔۔۔۔۔
اوکے بیٹا آپ گھر کا ایڈرس بتاؤ کرم داد اسے لے آئے گا۔۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔ابیہا نے سر ہلا کر ایڈرس بتایا اور
ساتھ ہی نیہا کو فون پر انفارم کیا۔۔۔
عالم شاہ نے ہر معاملے میں بہت بھاگ دوڑ کی۔۔۔۔پولیس جو وہاں ایکسیڈینٹ کی تفتیش کے لیے آئی تھی۔۔۔۔ان سے بھی وہی نپٹے تھے۔

ابیہا کے لیے فلوقت وہ فرشتہ ہی ثابت ہوئے تھے ۔۔۔۔اسلیے وہ پیچھلے مردے اکھاڑنے کی بجائے خاموش تھی
ڈیڑھ گھنٹے کے کھٹن انتظار کے بعد ڈاکٹر رضا اور ڈاکٹر سیف باہر آئے تھے
عالم شاہ جلدی سے آگے بڑھے
شاہ صاحب۔۔۔۔۔اگلے اڑتالیس گھنٹے کریٹیکل ہیں اگر اس دوران ہوش آ جاتا ہے تو سروائیو کرنے کے چانسسز ہیں ادروائز۔۔۔۔ڈاکٹر رضا خاموش ہوئے
آپ دعا کریں ان شا اللّہ آل وُد بی فائن۔۔۔۔ڈاکٹر سیف کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھ کر چلے گئے
آپ ٹینشن مت لیں شاہ صاحب اللّہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔ہونں۔۔۔۔ڈاکٹر رضا بھی چند تسلی کے فقرات کہہ کر اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے
اب وہاں عالم شاہ، ابیہا، نیہا اور کرم داد موجود تھے اور ان کے علاوہ خوفناک خاموشی۔۔۔۔۔۔
………………………………………………

اڑتالیس میں سے پندرہ گھنٹے گزر چکے تھے مگر ابھی تک شاذمہ بیگم کو ہوش نہیں آیا
تھا
حویلی سے بھی اماں جان۔۔۔۔۔عالمگیر شاہ (بڑے بیٹے)۔۔۔۔۔نصرت عالمگیر شاہ اور مسز عالم شاہ ہوسپٹل آ چکے تھے
اماں جان تو مسلسل روئے جا رہیں
تھیں ۔۔۔۔کبھی ابیہا کو سینے سے لگاتیں اور کبھی نیہا کو۔۔۔۔پچیس سال بعد بیٹی ملی وہ بھی اس حالت میں۔۔۔۔۔دونوں بہوئیں ان کو بمشکل سنبھال رہیں تھیں
ابیہا نے نیہا کے سسرال بھی اطلاع کر دی تھی۔۔۔۔وہ لوگ بھی ہوسپٹل آ چکے تھے۔
ہر لب پر ۔۔۔ہر دل میں بس ایک ہی دعا تھی شاذمہ وجاہت شاہ کی صحت یابی کی
…………………………………………………

خدا خدا کر کے بیسویں گھنٹے پر شاذمہ بیگم کے ہوش میں آنے کی اطلاع دی گئی
پیشنٹ کو ہوش آ چکا ہے بٹ سٹل ہر کنڈیشن از ناٹ گڈ۔۔۔۔۔ہو از بیا ۔۔۔۔؟؟؟ڈاکٹر سیف نے پوچھا
جی میں۔۔۔۔ابیہا جلدی سے آگے آئی
اوکے آپ چلیں میرے ساتھ آپکی مدر آپ سے ملنا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر سیف نے کہا اور
ابیہا کو لے کر واپس آئی سی یو میں گم ہو گئے
… …………………………………………………

امّی۔۔۔۔۔۔۔ابیہا روتی ہوئی ماں کی طرف بڑھی
بی بریو ابیہا۔۔۔۔۔ممی کو پریشان مت کرنا اور جو وہ کہیں اسے سُننا اوکے۔۔۔۔ڈاکٹر سیف
اسکا سر تھپتھپا کر کہتے پیچھے ہٹ گئے
جی۔۔۔۔ابیہا آنسو پونچھتی بیڈ کی طرف آئی

امّی۔۔۔۔آہستگی سے پکارا
بب۔۔۔۔بیا۔۔۔۔۔وہ ہکلائیں
جی امی میں بیا۔۔۔۔۔ابیہا نے سوئیوں میں جکڑے ان کے ہاتھ کو احتیاط سے اپنے ہاتھ میں لیا
بیا۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔نیہا۔۔۔۔
امی وہ بھی باہر ہے
اسس۔۔۔۔اسد کو۔۔۔۔۔بل۔۔۔بلاؤ
امی اسد کے گھر والے بھی آئے ہیں باہر اور۔۔۔۔وہ رکی۔۔۔۔۔
اور امی آپکے گھر والے بھی باہر ہیں۔۔۔آپکی اماں جان ، آپکے بھائی اور بھابھئیاں۔۔۔۔ابیہا نے جلدی جلدی بات مکمل کی
مم۔۔۔۔میرے گھر۔۔۔۔۔۔والے
جی امی آپ کے گھر والے
بیا۔۔۔۔نکاح۔۔۔۔
نکاح کس کا۔۔۔۔؟؟؟ابیہا فوری سمجھ نہ سکی

نے۔۔۔۔نیہا کا۔۔۔۔اب۔۔۔۔ابھی
جی جی امی میں سمجھ گئی۔۔۔۔ابھی بات کرتی ہوں میں جا کر۔۔۔۔۔آپ آپ ٹھیک ہیں ناں امی۔۔۔۔ابیہا نے ماں کی اکھڑتی سانسںوں کو دیکھ کر پوچھا
میں۔۔۔ٹھی۔۔۔ٹھیک۔۔۔۔تم جاؤ۔۔۔۔اماں۔۔۔۔اماں جان کو بھ۔۔۔بھیج دو
جی جی۔۔۔۔ابیہا پلٹی
ڈاکٹر سیف جلدی سے سامنے آئے۔۔۔۔ابھی کسی کو مت بھیجنا
کنڈیشن سٹیبل ہونے دو پھر روم میں شفٹ کر دیں گے تو ہی مل سکیں گے باقی۔۔۔
جی۔۔۔ابیہا سر ہلاتی ماں پر نظر ڈالتی باہر نکل آئی
…………………………………………………

اسد کے گھر والے حالات کے پیشِ نظر اس ایمبرجنسی نکاح کے لیے مان گئے تھے
ویسے بھی پندرہ دن بعد کی شادی کی ڈیٹ تو فکس تھی
چند گھنٹے بعد اسد کی بہنیں بھی آ چکیں تھیں
جو تھوڑا بہت انتظام تھا۔۔۔۔وہ عالم شاہ کر چکے تھے
یوں سب کی موجودگی میں شاذمہ بیگم کے روم میں ہی نیہا اور اسد کا سادگی سے
نکاح ہو گیا
…… ….………………………………………

نکاح کے بعد اسد کے گھر والے چلے گئے تھے
مگر شاذمہ بیگم کی اپنی فیملی وہیں موجود تھی۔
شاذمہ کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی مگر مکمل سٹیبل نہیں ہوئی تھی۔۔۔وہ بار بار غنودگی میں جا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے ہی ان کا اتنا بڑا آپریشن ہو چکا تھا اور اب ایکسیڈینٹ نے ان کے اندر سے مزید طاقت کھینچ
لی تھی۔
ڈاکٹرز اب بھی اُنکی طرف سے مکمل مطمعین نہیں تھے۔۔۔۔۔ انکی حالت کے پیشِ نظر انکو پھر انڈر آبزرویشن لے لیا گیا تھا
جب اماں جان اصرار کر کے بیٹی سے ملنے روم میں گئیں تھیں

وہ سب شاذمہ کے ہوش میں آنے سے مطمعین ہو گئے تھے مگر اب پھر طبیعت بگڑنے سے ابیہا اور نیہا رونے لگیں تھیں۔۔۔۔ان دونوں نے اپنی زندگی میں ایک ماں ہی دیکھی تھی۔۔۔۔۔جس نے اتنی مصیبتیں اٹھا کر ہر طرح کے برے حالات میں بھی اپنی دونوں بیٹیوں کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔

کپڑے سلائی کر کر کے انہیں پڑھایا ،لکھایا تھا۔۔۔۔ انہیں لوگوں کی تپتی نظروں سے بچایا اور چھپایا تھا اور آج وہی ماں زندگی اور موت کے درمیان ڈول رہی تھی۔۔۔۔اُن کو صبر کیسے آتا۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ دونوں روتی ہوئیں ماں کے لیے دعا گو تھیں
…………………………………………………

اماں جان چند منٹ بعد واپس آئیں اور ناجانے کیا کہا کہ عالم شاہ سر ہلاتے سیل کان سے لگا کر راہداری کے دائیں جانب چلے گئے
اور عالمگیر شاہ نے کرم داد سے کچھ کہا اور وہ بھی سر ہلاتا باہر کی جانب چلا گیا۔۔۔
ابیہا اور نیہا وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی وہاں ہونے والی سرگرمی سے انجان تھیں
…………………………………………………

ضرار میٹنگ اٹینڈ کر کے کانفرنس روم سے
نکلا ہی تھا۔۔۔۔ جب اس کا سیل وائبریٹ ہوا
ڈیڈ کالنگ لکھا دیکھ کر اس نے کال اوکے کی
ہیلو اسلام وعلیکم۔۔۔۔
واعلیکم سلام۔۔۔۔۔لاہور میں ہو یا واپس
آ گئے ہو
لاہور میں ہوں۔۔۔۔خیریت۔۔۔۔ضرار کو باپ کا انداز مشکوک سا لگا
کب تک آؤ گے۔۔۔۔۔پھر سوال ہوا
ابھی نکل رہا ہوں ائیرپورٹ کے لیے ۔۔۔۔دو بجے کی فلائیٹ ہے
عالم شاہ نے گھڑی دیکھی جہاں ایک بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے اسلام آباد پہنچ کر ہوسپٹل آ
جانا۔۔۔انہوں نے ہوسپٹل کا نام بتایا
میں ائیرپورٹ پر کرم داد کو بھیج دوں گا
خیریت۔۔۔ہوسپٹل میں کون ہے ڈیڈ۔۔۔اماں جان ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟ضرار نے تشویش سے پوچھا
ہاں وہ ٹھیک ہیں۔۔۔۔تمہاری پھپھو ہیں ہوسپٹل میں۔۔۔
پھپھو۔۔۔۔وہ حیران ہوا
ہاں تمہاری پھپھو شاذمہ ۔۔۔۔تم اسلام آباد آ کر ہوسپٹل پہنچو
جی۔۔۔۔۔
عالم شاہ نے کال ڈسکنیکٹ کی
ضرار اماں جان کی زبانی شاذمہ کی کہانی سن چکا تھا اسلیے سمجھ گیا تھا
……………………………………………

ضرار شاہ جیسے ہی ائیرپورٹ سے نکلا سامنے ہی پارکنگ میں کرم داد موجود تھا
سلام۔۔۔چھوٹے شاہ جی
ضرار نے سر ہلا کر جواب دیا وہ کال پر بزی تھا۔۔۔۔
کرم داد ہوسپٹل میں سب خیریت ہے۔۔۔۔؟؟؟ضرار نے پیچھلی سیٹ پر بیٹھ کر پوچھا
جی شاہ جی۔۔۔
تو پھر ایسا کرو پہلے گھر لے چلو میں فریش ہو لوں پھر چلتے ہیں ویسے بھی لنچ کرنا ہے مجھے بہت زوروں کی بھوک لگی ہے
یار۔۔۔۔۔۔۔ضرار نے بھرپور انگڑائی لے کر کہا
جی شاہ جی ۔۔۔۔۔۔۔کرم داد نے گاڑی ضرار پیلس کیطرف موڑ لی۔۔۔۔۔
ابھی آدھا راستہ کٹا تھا۔۔۔۔جب کرم داد کا سیل بجا
جی شاہ جی۔۔۔۔
کہاں ہو۔۔۔۔آیا نہیں ضرار ابھی۔۔۔۔دوسری جانب عجلت سے پوچھا گیا
جی آ گئے ہیں مگر گھر جا کر فریش۔۔۔۔
فون دو ضرار کو۔۔۔۔۔عالم شاہ نے اسکی بات کاٹ کر کہا
کرم داد نے سیل ضرار کیجانب بڑھایا
جی ڈیڈ۔۔۔۔بےزاری سے کہا گیا

فوًرا ہوسپٹل پہنچو۔۔۔۔۔
مگر ڈیڈ مجھے فریش ہونے دیں، ایک آدھ گھنٹے میں میں آپ کے پاس ہوں گا
میں کہہ رہا ہوں ناں سیدھا یہاں پہنچو۔۔۔۔ کچھ دیر کے لیے پھر چلے جانا گھر واپس
اوکے کمنگ۔۔۔۔ضرار نے ٹھک سے کال بند کی
میں ڈاکٹر ہوں کیا جو میرے بغیر چین
نہیں۔۔۔۔وہ غصے سے بڑبڑایا
کرم داد ہوسپٹل ٹرن لو۔۔۔۔تمہارے بڑے شاہ جی کا حکم آیا ہے۔۔۔۔۔ضرار نے چڑ کر کہا
اتنی سیریس سچویشن میں بھی کرم داد ضرار کے چڑنے پر مسکرا دیا
…………………………………………………

اس وقت کمرے میں اماں جان، عالمگیر شاہ، مسز عالمگیر شاہ، نیہا اور ابیہا موجود تھے
بیڈ پر شاذمہ نیم بےہوش سی پڑی تھیں
جب عالم شاہ مولوی صاحب کو لے کر داخل ہوئے
عالمگیر شاہ نے مولوی صاحب کیلیے چیئر گھسیٹی

ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ ضرار شاہ اور کرم داد روم میں اینٹر ہوئے
اتنے لوگوں کو کمرے میں دیکھ کر وہ حیران ہوا
آؤ آؤ ضرار بیٹا یہاں آؤ۔۔۔۔عالمگیر شاہ نے بھتیجے کو پکڑ کر صوفے پر بٹھایا
جسکے ایک کنارے پر ابیہا چادر میں چھپی بیٹھی تھی۔۔۔۔ایک ہاتھ میں پاس کھڑی نیہا کا ہاتھ زور سے تھامے کپکپا رہی تھی
عالمگیرہ شاہ شاکڈ سے ضرار کو صوفے پر بیٹھا کر مولوی صاحب کی طرف موڑے
مولوی صاحب شروع کریں۔۔۔۔۔

شاذمہ۔۔۔۔اماں جان نے بیٹی کو پکارا
جج۔۔۔۔جی۔۔۔۔
دیکھ میں اپنا وعدہ پورا کر رہی ہوں۔۔۔۔ابیہا تیری بیٹی ہے مگر ہے ہمارا خون اور ہم اپنے خون کی حفاظت کرنا جانتے ہیں
تُو فکر مت کر اب وہ ہماری ذمہ داری
ہے۔۔۔مجھے اپنے ضرار پر پورا یقین ہے وہ ابیہا کو بہت خوش رکھے گا۔۔۔۔تم بھی دیکھو گی
ان شا اللّہ۔۔۔
جج۔۔۔جی۔۔۔۔ام۔۔۔۔اماں
اماں جان نے بیٹی کے ہاتھوں کا بوسہ لیا

آپ کو ضرار شاہ ولد عالم شاہ بعوض دس لاکھ روپے حق مہر ان کے نکاح میں دیا جاتا ہے قبول ہے۔۔۔۔
ضر۔۔۔۔۔ضرار شاہ ۔۔۔۔ابیہا نام پر ٹھٹکی
بیا بیٹے سائن کرو۔۔۔۔عالمگیر شاہ نے پین اسکے ہاتھ میں دے کر سر تھپتھپایا
ابیہا نے آہستہ سا ہاں میں سر ہلا کر سائن کر دیے
اب ضرار کی باری تھی جو مٹھیاں دبوچے، ہونٹ بھینچے۔۔۔۔ سچویشن سمجھ کر غصے سے بھرا بیٹھا تھا
ابیہا ہاشم ولد ہاشم مبین بعوض دس لاکھ روپے حق مہر آپکو اپنے نکاح میں قبول ہے
۔
۔
قبول ہے۔۔۔۔؟؟؟؟پھر سے پوچھا گیا
ضرار اٹھنے ہی والا تھا۔۔۔۔۔جب عالم شاہ کے ہاتھوں کا دباؤ اپنے کندھے پر محسوس کر کے رکا
اب اُس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے اماں جان
کو دیکھا۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔
اور اُن کی آنکھوں میں التجا دیکھ کر
وہ ۔۔۔۔۔۔وہ بے بس ہو گیا

ضرار نے نظریں جھکا کر آہستگی سے قبول ہے کہہ کر نکاح نامے پر سائن کیے۔۔۔۔ اور کسی کی طرف بھی دیکھے بنا کمرے سے نکلتا چلا گیا
پیچھے سب اُسے آوازیں دیتے رہ گئے

مگر وہ سنُی ان سُنی کر کے جا چکا تھا

NEXT


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post