Laghzish Ep No 1 | Urdu Novels

Laghzish Ep No 1 | Urdu Novels


لغزش
از قلم پری وش
قسط نمبر 1


اٹھ جاؤ لڑکیوں فجر کی اذان ہونے والی ہے"حلیمہ بیگم نے کمرے میں دخل ہو کر دونوں کو آواز لگائی.
"اچھاامی"چھوٹی بیٹی زارا نے نیند بھری آواز میں کہا پھر اٹھ بیٹھی.
"اے سارا میں کہتی ہوں اٹھ جا"انہوں نے بڑی بیٹی سارا کے اپر سے چادر کھینچی. سارا کو ہمیشہ فجر کی نماز کے لئے اٹھتے ہوئے موت پڑتی تھی.
"اچھا ناں امی"وہ اب بھی نہ اٹھی تھی.
"بتاؤں تیرے ابا کوکہ اٹھتی ہے"امی نے دھمکی دی جسنے جادو والا کام کیا اور سارا بیڈ سے نیچے اتری.جبکہ زارا نماز کی تیاری کرچکی تھی.روز نماز کے لئے حلیمہ بیگم اسے ایسے ہی دھمکی دے کر اٹھاتی تھیں.ورنہ تو وہ کبھی نہ ہلتی پر ابا کےڈر سے وہ اٹھ بیٹھتی تھی.اسکے ابا نماز کے معاملے میں بہت سخت تھے.دونوں بہنوں نے نماز ادا کی سارا تو نماز ادا کر کے پھر لیٹ گئی.جبکہ زارا ،امی کے ساتھ ناشتہ بنوانے لگی.کیونکہ کچھ دیر میں ابا اور بھائی نے نماز پڑھ کے آ جانا تھا. انکا تعلق مڈل کلاس سے تھا.ابا کی کپڑے کی دکان تھی.جسے دونوں باپ، بیٹا چلاتے تھے.دکان بہت اچھے سے چل رہی تھی.
انھیں کسی چیز کی کمی نہ تھی.وہ ایک چھوٹا خوش حال گھرانہ تھا.ابا کچھ سخت طبیعت کے مالک تھے.بچے انسے ڈرتے بھی تھے.پر وہ تینوں بچوں سے پیار بھی بہت کرتے تھے.آج تک ابا نےانھیں کسی چیز کی کمی نہیں لگنے دی تھی. ابا کی طرح بھائی بھی سخت مزاج تھا.پر بہنوں سے بڑی محبت کرتا تھا.ابا کی طرف سے بہت سی باتوں پر پابندی تھی. وہ بیٹیوں کو پردے میں رکھتے تھے تاکہ زمانے کی بری نظروں سے انکی بیٹیاں بچیں رہیں.پر اس سب کے باوجود انھیں نے کبھی پڑھائی پر پابندی نہیں لگائی تھی.اسلئے دونوں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں.سارا نے نئی نئی یونیورسٹی جوائن کی تھی اور زارا دسویں کلاس کی اسٹوڈنٹ تھی.
سارا نے جب سے یونی جوائن کی تھی.کبھی اسے اپنا عبایا پہننا برا لگتا کہ باقی لڑکیاں تو عبایا نہیں پہنتیں مجھے بھی نہیں پہننا تو امی اسے ڈانٹ دیتیں تو وہ خاموش ہو جاتی پر کچھ دنوں بعد پھر کوئی نئی بات نکال دیتی اب بھی وہ امی کے کمرے میں انکے پاس بیٹھی انکا سر کھا رہی تھی.
"بس کرجاسارا کیوں پیچھے پڑ گئی ہے" امی نے بے زاری سے کہا
"امی پلیز ناں موبائل لے دیں.یونیورسٹی میں سب کے پاس ہوتا ہے.یہ جو ارم ہے اسکے پاس بھی ہے"اسنے اپنی یونی فیلو کا کہا جو اسکے پڑوس میں رہتی تھی.
"اپنے ابا سے بات کر"امی لاپرواہی سےکہہ کر اٹھ کھڑی ہوئیں.ابا اچانک کمرے میں دخل ہوئے." کیا بات کرنی ہے مجھ سے"وہ مسکرا کر کہتے صوفے پر بیٹھے. بیگم کی آخری بات انکے کانوں میں پڑ چکی تھی.
"بیٹی سے پوچھیں"امی نے اسکی طرف اشارہ کیا تو وہ سر جھکا گئی.پھر جھجھک کر بول پڑی" ابا مجھے موبائل لینا ہے"اسکی بات پر ابا سنجیدہ ہوئے"بیٹا ابھی آپ پڑھائی پر دھیان دو جب عمر ہوگی تو لے دینگے ٹھیک" انہوں نے نرمی سے سمجھایا.وہ جی کہتی وہاں سے اپنے کمرے میں آئی"اب اس سے زیادہ اور کیا بڑی ہونگی میں یونیورسٹی تک تو پہنچ گئی اب بھی بچی سمجھتے ہیں"وہ غصے سے بڑبڑائی"کیوں جلا رہی ہیں خود کو ابا ہمارے اچھے کے لئے ہی کہتے ہیں" زارا نے کتاب سے سر اٹھا کر کہا."ہاں ہاں جانتی ہوں تم مت بتاؤ مجھے"بے زاری سے کہتی وہ منہ لپٹ کر لیٹ گئی.زارا بھی سر جھٹک کر پھر کتاب پڑھنے لگی.
*********
"امی ناشتہ دیں"سارا نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے آواز لگائی
"لا رہی ہوں.خود بھی ہاتھ ہلا لیا کرو" انہوں نے کچن سے کہا. ابا ،بھائی دکان پر جا چکے تھے.زارا آج اسکول نہیں گئی تھی.اسلئے امی کے ساتھ کچن میں تھی.
"یہ لیں" زارا نے ناشتہ میز پر رکھا تو وہ تیزی سے کھانے لگی.
"اچھاجاؤ میرا بیگ اور عبایا کمرے سے لے آؤ ابھی ارم نے بلانے آجانا ہے" اسنے چاۓ کا سپ لیتے ہوئے کہا. زارا نےاسکا عبایا اور بیگ صوفے پر رکھا.سارا نےناشتہ کر کےجلدی سے عبایا پہنا.اسکے اپر کالا دوپٹہ اچھے سےاوڑھا. ابھی اسنے بیگ اٹھایا ہی تھا کہ ارم آگئی.
"تیار ہو سارا "ارم نے کہا وہ جدید فیشن کے خوبصورت لباس میں ملبوس تھی.سارا نے اسے دیکھ کر لمبی سانس کھینچی اسے بھی ایسا لباس پہن کر یونی جانا پسند تھا.پر وہ اس عباۓ سے باہر نکلتی تو پہن پاتی. اسنے سر جھٹکا "ہاں چلو"اسنے امی کو اللّه حافظ کہا اور ارم کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئی.
وہ دونوں ایک ساتھ بس سے یونیورسٹی جاتی تھیں. دونوں کے ڈیپارٹمنٹ الگ تھے.ان میں بہت حد تک دوستی بھی تھی.پر کچھ باتوں میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف تھیں.ارم کی زیادہ کسی سے دوستی نہ تھی. اپنی کلاس میں بھی وہ اکیلی رہتی تھی.جبکہ سارا کو دوست بنانے کا بڑا شوق تھا.آجکل بھی وہ اپنی کلاس میں آئی نئی لڑکی مایا کے ساتھ نظر آرہی تھی.سارا کی اس سے بہت دوستی ہو گئی تھی.ارم کو جب کچھ لڑکیوں سے معلوم ہوا کہ مایا اچھی لڑکی نہیں ہے تو اسنے سارا کو روکاپر سارا نے اسے کہہ دیاکہ مایا اسکی دوست ہے.وہ اسکے بارے میں کچھ نہیں سننا چاہتی.اسکےدوٹوک انداز میں کہنے پر ارم نے پھر اسے کچھ نہ کہا.
**********
یونیورسٹی میں سارا اب زیادہ تر مایا کے ساتھ ہی نظر آنے لگی تھی.کچھ دنوں میں مایا کے ایک دوست نے بھی یونیورسٹی جوائن کر لی .عباس, مایا کے ساتھ ساتھ رہتا اور مایا سارا کو خود سے جدا نہیں ہونے دیتی تھی.شروع میں سارا کو عجیب لگا اسنے مایا سے کہا کہ یہ لڑکا کیوں ہمیشہ انکے ساتھ رہتا ہے. جواباً اسنے کہاکہ وہ اسکا دوست ہے.یہاں نیا ہے.اسلئے وہ اسکے ساتھ رہتا ہے.عباس ایک خوش شکل نوجوان تھا.پر اسنے اپنی عجیب حالت بنائی ہوئی تھی.لمبے الجھے بال ، کان میں چھوٹی سی بالی ڈالی ہوتی.گھسی ہوئی جینز پہنی ہوتی تھی .ایسے حلیے میں وہ کوئی اورہی مخلوق لگتاتھا.
جیسے وقت گزرتا گیا سارا اور عباس ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے.مایا اب کبھی کبھی انکے ساتھ ہوتی. زیادہ تر وہ دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے ایک لڑکے کے ساتھ نظر آرہی تھی. سارا اب یونیورسٹی سے عباس کے ساتھ گھومنے چلی جاتی.عباس نے اسے اچھا سا موبائل بھی لے دیا تاکہ وہ دونوں بات کر سکیں.پوری کلاس میں دونوں کی اس حد تک دوستی پر چرچے ہونے لگے .پر وہ دونوں جیسے اندھے ، بہرے بنے ہوئے تھے.ارم نےسارا کو بہت سمجھایا تھاکہ وہ یہ سب اچھا نہیں کر رہی.سارا نے اس سے جھگڑا کر کے چپ کروا دیا.اسکا کہنا تھا کہ ارم اسکے معاملےمیں نہ بولے.اس جھگڑے کے بعد سے وہ ارم سے بات کرنا چھوڑ چکی تھی.بس ایک ساتھ یونیورسٹی آتیں جاتیں .سارا ابھی ایک نئی دنیا میں جی رہی تھی.اسے سب اچھا ہی لگ رہاتھا.جیسے آج سے پہلے اسنے زندگی جی ہی نہ ہو پر اسے یہ نہیں معلوم تھا.وہ جو کر رہی ہے اسکی منزل گھور اندھیرے کے سوائے کچھ نہ تھی. پر ابھی اس بات کو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.
***********
سارا موبائل مل جانے پر بہت خوش تھی.اسنے موبائل کو چھپا کر رکھا تھا.دونوں بہنیں ایک کمرے میں ہوتی تھیں.اسلئے سارا کو جب عباس سے بات کرنی ہوتی تو واش روم میں چلی جاتی.پر جب زارا کمرے میں ہوتی تو وہ میسج پر بات کیا کرتی تھی.
ابھی بھی اسنے بات کر کے موبائل جلدی سے بیگ میں چھپا کر رکھا.وہ بیڈ پر بیٹھی. جب امی کمرے میں داخل ہوئیں اور اسکے سامنے بیٹھیں .
"ساراتجھ سے کچھ بات کرنی ہے"امی نے تمہید باندھی
"بولیں امی" اسنے لاپرواہی سے کتاب کھولتے ہوئے کہا
"تیری پھوپھو نے تیرے لئے عمیر کے رشتے کی بات کی ہے"امی کی بات پر اسنے ایک دم سر اٹھا کر انھیں دیکھا
"امی یہ کیا بات ہوئی. میں پڑھ رہی ہوں ابھی اور اس عمیر سے مجھے شادی کرنی بھی نہیں ہے" اسنے بے زاری سے کہا پھوپھو کا بیٹا عمیر اسے ذرا پسند نہ تھا.
"اےکیا برائی ہے اس میں اچھی نوکری کرتا ہے جلد کہیں باہر چلا جائے گا.شکل بھی اچھی ہے.پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"اسکی بات پر امی کو غصہ آیا تھا.تو وہ عمیر صاحب کی تعریفیں کرنے لگیں.
"بس نہیں اچھا لگتا وہ مجھے"وہ کتاب زور سے رکھتی بیڈ سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھی اور کپڑے نکالنے لگی.جبکہ امی نے اسکی پیٹھ کو گھورا تھا.
"ہاں اب تیرے لئےکیا کوئی شہزادہ آۓ گا بڑی آئی اچھا نہیں لگتا" امی نے طنزیہ لہجے میں کہا جبکہ سارا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ایک دم سے عباس کی صورت اسکی آنکھوں کے سامنے لہرائی .
"تیرے ابا سے کہتی ہوں ابھی رک جائیں تیری پڑھائی ختم ہونے کے بعد بات آگے بڑھائیں گے" وہ اپنی بات کہہ کر کمرے سے نکل گئیں.سارا نےغصے سےدوپٹے کا گولہ بنا کر دور پھینکا.
"نہیں کرنی مجھے اس سے شادی ہونہہ"وہ بیڈ کی طرف آئی بیگ سے موبائل نکالا اور عباس کو میسج کرنے لگی.ابھی زارا کمرے میں نہیں تھی.اسلئے وہ آرام سے بات کر سکتی تھی.
**********
یونیورسٹی ٹائمنگ میں سارا ، مایا اور عباس کے ساتھ ایک ہوٹل میں آئی.مایا کا برتھ ڈے تھا تو اسنے سارا کو کہا کہ وہ اچھے سے تیار ہو کر آۓ.یونی پہنچ کر اسنے عبایا اتار دیا بلیک خوبصورت سے لباس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.دوپٹہ اسنے گلے کے ساتھ چپکایا ہوا تھا. عباس تو اس پر فدا ہوگیا تھا.ہوٹل پہنچے تو مایا کا بواۓ فرینڈ اسد بھی وہاں موجود تھا.سب نے مل کر خوب مزہ کیا کیک کاٹا گیا.ان تینوں نے مایا کو گفٹ دیے.کچھ دیر بعد اسد اور مایا وہاں سے چلے گئے.تو وہ دونوں اکیلے رہ گئے.وہاں بیٹھے وہ ایک دوسرے سے محبت بھری باتیں کرتے رہے.عباس بات بات پر اسکی خوبصورتی کی تعریف کر رہا تھا کہ وہ بغیر عباۓ کے بہت پیاری لگ رہی ہے.اسکی باتوں پر سارا ہواؤں میں اڑ رہی تھی.اسے اپنا آپ بہت خوبصورت لگ رہا تھا.پر اسے اتنی فکر نہ تھی کہ اگر اسکے باپ ، بھائی نے اسے ایسے دیکھ لیا تو کیا ہوگا.ہر بات کی فکر بھلائے وہ عباس کی محبت میں اندھی ہو چکی تھی.
********

Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر

*

0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post