Yeh Kheal Qismat Ke Ep No 1 | Urdu Novels

Yeh Kheal Qismat Ke Ep No 1 | Urdu Novels


یہ کھیل قسمت کے
از قلم فریحہ چودھری
قسط نمبر 1


"ارے ارے وہ دیکھو وہ آگیا ہے" احد نے اونچی آواز میں کہا
" کہاں کہاں"غنی بھاگتی ہوﺉ آﺉ احد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے دیکھایا
"شکر ہے " غنی نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا کرنا بھی چاہیے تھا آخر ڈیڑھ کے انتظار کے بعد نظر آیا تھا
"چلو اب جو میں نے کہا تھا ویسے ہی کرو یہ آج بچ کر نہ جائے " انو نے احد کو حکم صادر کیا
"کیوں کیوں میں کیوں کروں تم خود کرو ویسے بھی تم دونوں کو ہی زیادہ شوق تھا " احد نے انو اور غنی کو دیکھتے ہوئے کہا
"دفعہ ہو جاو پھر خبردار جو تم یہاں نظر آے اگر ہم نے اسے پکڑ لیا تو تمھیں اس کی شکل بھی نہیں دکھائیں گے" غنی نے اپنی پوری آنکھیں کھول کر دھمکایا
"اچھا اچھا اب ڈراؤ تو نہیں میں کرتا ہوں کچھ " احد کا اشارہ اس کی آنکھوں کی طرف تھا
"جلدی کرو کہیں وہ بھاگ نہ جائے " انو نے اس کی کمر پر ہاتھ مارا
"یہ کیا بدتمیزی ہےایک تو میں کام کروں اور......" احد کی بات درمیان میں ہی رہ گئی کیونکہ غنی گیند کے ساتھ پتھر باندھ کر اسے پکڑا رہی تھی
"بعدمیں لڑ لینا پہلے یہ لو اور جلدی کرو" احد نے گیند پکڑا کچھ دیر اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کےربولا
"بات دراصل یہ ہے کہ میری دور کی نظر کچھ کمزور ہے اور اگر نشانہ غلط لگ گیا تو وہ ہمارے ہاتھ نہیں آ سکے گا غنی تم لگاو نشانہ تم ایسا کر سکتی ہو چلو شاباش جلدی کرو"
"میں؟ غنی حیرت سے بولی
"ہاں ہاں کیوں نہیں "انّونےبھی تاﺉید کی
"غنی نے گیند پکڑا اور فاسٹ بولر کی طرح تیزبھاگتے ہوے ہوا میں اچھال دیا گیند دیوار سے ٹکڑا کر کھلی ہوئی کھڑکی سے سیدھا کمرے میں موجود ٹیبل پر پڑے گلدان پر لگا نتیجہ کے طور پر گلدان اپنی نا قدری پر نشانہ باز کو کوستے ہوے زمیں بوس ہو گیا۔موحد جو کچھ دیر قبل ہی سویاتھا ہڑبڑا کر اٹھا "یہ .. یہ کیا ہوا"
وہ جلدی سے بیڈ سے اترااور ادھر ادھر دیکھنے لگااچانک اسکی نظر گلدان پر پڑی"یہ کیسے گرا"ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھاکہ کوﺉ چیز زور سے اس کی ناک پر آکر لگی اسے دن میں تارے نظر آگےء " اف میرے خدا"کچھ دیر بعدوہ سنبھل کر کھڑا ہوااور اس چیز کو ڈھونڈنے لگا ایک کونے میں اسے ایک گیند نظر آیا وہ اسے اٹھانے کو جھکا تو میز کے پاس اسے دوسرا گیند نظر آیا جس پر بڑی مہارت سے پتھر لگا کر ربڑبینڈچڑھایا گیا تھاـوہ دونوں گیند اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکلا۔
* * * * * * *
"بہ ..بھیا آپ کی قسم یہ میں نے نہیں پھینکا"احد نے موحد کو دیکھتے ہوے کہا جو کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا احد کے انکار پر موحد نے انعم کو دیکھا وہ تینوں اس وقت مجرموں کی طرح سر جھکاے کھڑے تھے صوفیہ بیگم اور ریحان صاحب بھی وہیں موجود تھے اور خاموشی سے دیکھ رہے تھے
"بھیا۔۔۔۔۔آپ کی قسم یہ والا میں نے نہیں پھینکا ۔۔"انعم نے پتھر والے گیند کی طرف اشارہ کیا
"جسٹ شٹ اپ "موحد نے اٹھتے ہوے کہا "اور تم " اس نے غانیہ کی طرف اشارہ کر کے کہا "تم بھی کہہ دو آپ کی قسم میں نے نہیں پھینکا اگر تم لوگوں نے نہیں پھینکا تو کیا ممی پاپا نے پھینکا ہے ؟؟"
"نہ۔۔۔نہیں میں آپ کی قسم نہیں کہوں گی کیونکہ مجھے پتا آپ پھر مر جاںیں گے " غنی نے تیزی سے کہا
"واٹ ؟؟" موحد کا منہ حیرت سے کھل گیا
"م۔۔میرا مطلب ہے کہ۔۔۔۔یہ پتھر والا میں نے پھینکا تھا مگر آپ کے کمرے میں نہیں پھینکا تھا یہ دیوار کو لگ کر آپ کے کمرے میں آیا تھا تو میرا کیا قصور اس میں ہے ما آنٹی؟؟"اس نے صوفیہ بیگم سے تاںید چاہی وہ نہ چاہتے ہوے بھی مسکرا دیں
"ارے چھوڑو بیٹا کوںی بات نہیں بچے ہیں نا...."صوفہ بیگم نے درخواست کی
"یہ بچے ہیں آپ کو پتا ہے ان کی عمریں کیا ہیں؟؟ اور ْآپ انہیں بچہ کہہ رہی ہیں "
"22سال"احد کی آواز آ ی
"20سال انعم نے بھی جوش سے بتایا
"19سال"غانیہ بھی کیوں پیچھے رہتی
وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھا انکل کے اشارے پر وہ تینوں تیزی سے بھاگے"رکو میں بتاتا ہوں عمریں تم لوگوں کی"
"موحد چھوڑ دو بیٹا چھٹیاں ہیں انجواے کرنے دو کچھ ہی تو دن ہے پھر سے ٹف روٹین شروع ہو جاے گی کسے ٹاںم ملے گا رونق لگی رپتی ہے" ریحان صاحب اب بیٹے کو سمجھا رہے تھے
* * * **
"آج تو بہت مشکل سے بچے ہیں اگر پاپا نہ ہوتے نہ تو۔۔۔"غنی نے انعم کی بات کاٹی "تو ۔۔تو کیا ہونا تھا ؟؟ وہ کون سا کھا جاتے ہمیں تم نے سنا نہیں جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں تمہارے بھاﺉبھی بس خالی برستے ہی ہیں۔"
"واہ واہ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ہی آتی ہے بس ان کے سامنے بھی بولا کرو ۔۔۔۔پھر مانیں تمھیں "احد نے اس کی چٹیا کھینچتے ہوے کہا
"چھوڑو بدتمیز مجھے " وہ اس کے ہاتھ سے آم کی پلیٹ لے کر بھاگ گیا اور وہ اس کے پیچھے بھاگنے لگی ـ وہ تینوں اس وقت لان میں موجود تھے ـ انعم نے اس کے آگے ٹانگ کی اور غنی جو احدکو مارنے لگی تھی ـ دھڑام سے زمین بوس ہو گںی دونوں بہن بھاںی زور زور سے ہنسنے لگے غنی غصے سے کھڑی ہو گںی "بات مت کرنا تم لوگ مجھ سے "اور تیزی سے اندر بھاگ گںی اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا موحد یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دیا



Continued........

  10/05/20   2قسط نمبر


0/Post a Comment/Comments

Please Do Not Enter Any Spam Link In THe Comment box.

Previous Post Next Post